حدیث نمبر: 18967
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ قَاضِي وَاسِطٍ ، عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ ، فَقَالُوا : هَذَا خَادِمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَدَاوَلُهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا، لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی کی خدمت کی ہے، میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے، رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سابق بن ناجية
حدیث نمبر: 18968
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ خَادِمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ : رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا ، حِينَ يُمْسِي ثَلَاثًا وَحِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثًا ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلام کہتے ہیں کہ نبی کے ایک خادم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد وهم فيه مسعر، والمحفوظ رواية شعبة السالفة برقم: 18967، ثم إنه قد اختلف فيه على مسعر
حدیث نمبر: 18969
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ هَاشِمِ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ : الْحَبَشِيُّ ، قَالَ : مَرَّ بِهِ رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ ، فَقِيلَ : هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ : رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا، لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے، میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے، رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة سابق بن ناجية
حدیث نمبر: 18970
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ رَجُلٌ خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِ سِنِينَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ ، قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ " فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ وَأَغْنَيْتَ وَأَقْنَيْتَ وَهَدَيْتَ وَاجْتَبَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
نبی کے ایک خادم جنہوں نے آٹھ سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ہے مروی ہے کہ نبی کے سامنے جب کھانے کو پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ کہہ کر شروع فرماتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ تو نے کھلایا پلایا، غناء اور روزی عطاء فرمائی، تو نے ہدایت اور زندگانی عطاء فرمائی، تیری بخششوں پر تیری تعریف واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رشدين بن سعد ضعيف لكنه توبع