حدیث نمبر: 18838
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَهْلِي ، عَنْ أَبِي ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ ، فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ مَجَّ فِي الدَّلْوِ ثُمَّ صَبَّ فِي الْبِئْرِ أَوْ شَرِبَ مِنَ الدَّلْوِ ، ثُمَّ مَجَّ فِي الْبِئْرِ ، فَفَاحَ مِنْهَا مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ڈول پیش کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ پانی پیا اور ڈول میں کلی کردی، پھر اس ڈول کو کنوئیں میں الٹا دیا یا ڈول میں سے پانی پی کر کنوئیں میں کلی کردی جس سے وہ کنواں مشک کی طرح مہکنے لگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18838
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، ولا تضر جهالة الرواة الذين حدث عنهم عبدالجبار، لأنهم جمع
حدیث نمبر: 18839
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ أَنْفَهُ عَلَى الَأًَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب وہ سجدہ کرتے تو اپنی ناک زمین پر رکھ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18839
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج، ولم يسمع من عبدالجبار، وعبدالجبار لم يسمع من أبيه
حدیث نمبر: 18840
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ عَلَى أَنْفِهِ مَعَ جَبْهَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب وہ سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی پر سجدہ کرتے ،
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18840
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 18841
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " آمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آمین کہتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18841
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 18842
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ : وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقَالَ : " آمِينَ " يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ولا الضالین " کہنے کے بعد بلند آواز سے آمین کہتے ہوئے سنا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے اور اس میں پست آواز کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18842
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18843
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : وَقَالَ شُعْبَةُ : وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18843
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أخطأ فيه شية، والصواب: رواية سفيان بلفظة: يمد بها صوته
حدیث نمبر: 18844
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، حَدَّثَنِي أَهْلُ بَيْتِي ، عَنْ أَبِي : " أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ بَيْنَ كَفَّيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں ہاتھوں کے درمیان چہرہ رکھ کر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18844
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18845
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيّ ، " أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَجَدَ ، وَيَدَاهُ قَرِيبَتَانِ مِنْ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کانوں کے قریب تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18845
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18846
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْعَنْبَرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلاَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے دوران اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18846
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18847
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشِّتَاءِ قَالَ : فَرَأَيْتُ أَصْحَابَهُ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي ثِيَابِهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں موسم سرما میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو اپنی چادروں کے اندر ہی سے اٹھا رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18847
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18848
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْيَحْصُبِيِّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيّ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر کے ساتھ ہی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18848
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الجهالة حال عبدالرحمن بن اليحصبي
حدیث نمبر: 18849
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ حَتَّى حَاذَتْ إِبْهَامُهُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر کے ساتھ ہی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے، یہاں تک کہ انگوٹھے کانوں کی لو کے برابر ہوجاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18849
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عبدالجبار بن وائل لم يسمع من أبيه
حدیث نمبر: 18850
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : لَأََنْظُرَنَّ كَيْفَ يُصَلِّي ، قَالَ : فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، فَكَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ ، قَالَ : فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ مِنْ وَجْهِهِ بِذَلِكَ الْمَوْضِعِ ، فَلَمَّا قَعَدَ افْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى ، عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى ، وَوَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَعَقَدَ ثَلَاثِينَ , وَحَلَّقَ وَاحِدَةً , وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے توبائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18850
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18851
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْجَبَّارِ بْنَ وَائِلٍ يَذْكُرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ ، فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ مَجَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ڈول پیش کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ پانی پیا اور ڈول میں کلی کردی پھر اس ڈول کو کنوئیں میں الٹا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18851
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، عبدالجبار بن وائل لم يسمع من أبيه، بينهما أهله، ولا تضر جهالتهم
حدیث نمبر: 18852
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، حَدَّثَنِي أَهْلُ بَيْتِي ، عَنْ أَبِي : " أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ التَّكْبِيرَةِ ، وَيَضَعُ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ فِي الصَّلَاَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکبیر کے ساتھ ہی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے اور نماز کے دوران اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18852
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18853
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْيَحْصُبِيِّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيّ : " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ " . قَالَ شُعْبَةُ : قَالَ لِي أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ تَغْلِبَ فِي الْحَدِيثِ : حَتَّى يَبْدُوَ وَضَحُ وَجْهِهِ ، فَقُلْتُ : لِعَمْرٍو أَفِي الْحَدِيثِ حَتَّى يَبْدُوَ وَضَحُ وَجْهِهِ ؟ فَقَالَ عَمْرٌو : أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ جھکتے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے تھے اور تکبیر کہتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور دائیں بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18853
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن اليحصبي
حدیث نمبر: 18854
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ وَائِلٍ أَوْ سَمِعَهُ حُجْرٌ مِنْ وَائِلٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَرَأَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، قَالَ : " آمِين " رَافِعًا بِهَا صَوْتَهُ ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ، وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ولا الضالین " کہنے کے بعد آہستہ آواز سے آمین کہتے ہوئے سنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور دائیں بائیں جانب سلام پھیرا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18854
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، دون قوله: وأخفى بها صوته، فقد أخطأ فيها شعبة
حدیث نمبر: 18855
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَبَّرَ حِينَ دَخَلَ ، وَرَفَعَ يَدَيهُ ، وَحِينَ أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ ، وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ ، وَجَافَى وَفَرَشَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى مِنَ الْيُمْنَى ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا، جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18855
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18856
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ . وَيَزِيدُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ يَزِيدُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ أَنْفَهُ عَلَى الأْرْضِ إِذَا سَجَدَ مَعَ جَبْهَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب وہ سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی پر سجدہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18856
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج، ولم يسمع من عبدالجبار، وعبدالجبار لم يسمع من أبيه
حدیث نمبر: 18857
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18857
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18858
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ كَبَّرَ يَعْنِي اسْتَفْتَحَ الصَّلَاََةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ رَكَعَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " وَسَجَدَ ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ جَلَسَ ، فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى ، وَوَضَعَ ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ أَشَارَ بِسَبَّابَتِهِ ، وَوَضَعَ الَإبْهَامَ عَلَى الْوُسْطَى ، وَقَبَضَ سَائِرَ أَصَابِعِهِ ، ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَتْ يَدَاهُ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا، جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے توبائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا : پھر دوسرا سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سجدے کی حالت میں کانوں کے برابر تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18858
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 401
حدیث نمبر: 18859
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًَا يُقَالُ لَهُ : سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ ، فَنَهَاهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : إِنِّما أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا دَاءٌ وَلَيْسَتْ بِدَوَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت طارق بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم لوگ انگوروں کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ہم انہیں نچوڑ کر (ان کی شراب پی سکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے اپنی بات کی تکرار کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا نہیں، میں نے عرض کیا کہ ہم مریض کو علاج کے طور پر پلاسکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں شفاء نہیں بلکہ یہ تو نری بیماری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18859
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1984، وهذا إسناد اختلف فيه على سماك
حدیث نمبر: 18860
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ الْقَائِلُ ؟ " قَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا أَرَدْتُ إِلَاّ الْخَيْرَ ، فَقَالَ : " لَقَدْ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَلَمْ يُنَهْنِهََّا دُونَ الْعَرْشِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی دوران نماز ایک آدمی کہنے لگا الحمدللہ کثیراً طیبا مبارکا فیہ " نماز سے فراغت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کلمات کس نے کہے تھے ؟ اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! میں نے کہے تھے اور صرف خیر ہی کے ارادے سے کہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کلمات کے لئے آسمان کے دروازے کھل گئے اور عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز انہیں روک نہ سکی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18860
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عبدالجبار بن وائل لم يسمع من أبيه
حدیث نمبر: 18861
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لِي مِنْ وَجْهِهِ مَا لَاَ أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهِ مِنْ وَجْهِ رَجُلٍ مِنْ بَادِيَةِ الْعَرَبِ صَلَّيْتُ خَلْفَهُ ، وَكَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا كَبَّرَ وَرَفَعَ وَوَضَعَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا مجھے ان کے رخ انور کی زیارت کے بدلے میں کوئی چیز محبوب نہ تھی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مرتبہ جھکتے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے تھے اور تکبیر کہتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور دائیں بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18861
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون رفع اليدين عند السجود، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، عبدالجبار لم يسمع من أبيه، ولضعف أشعث بن سوار
حدیث نمبر: 18862
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ الْجُعْفِيَّ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَمْرِ ، فَنَهَاهُ أَوْ كَرِهَ لَهُ أَنْ يَصْنَعَهَا ، فَقَالَ : إِنَّمَا نَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت طارق بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم لوگ انگوروں کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ہم انہیں نچوڑ کر (ان کی شراب) پی سکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے اپنی بات کی تکرار کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا نہیں، میں نے عرض کیا کہ ہم مریض کو علاج کے طور پر پلاسکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں شفاء نہیں بلکہ یہ تو نری بیماری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18862
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1984، وهذا إسناد اختلف فيه على سماك
حدیث نمبر: 18863
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدَانَ ، فَقَالَ لَهُ : " بَيِّنَتُكَ " ، قَالَ : لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ ، قَالَ : " يَمِينُهُ " ، قَالَ : إِذًا يَذْهَبُ بها ، قَالَ : " لَيْسَ لَكَ إِلَاَّ ذَلِك " ، قَالَ : فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک زمین کا جھگڑالے کر آئے ان میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ ! اس شخص نے زمانہ جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کرلیا تھا (یہ کہنے والا امرؤالقیس بن عابس کندی تھا اور اس کا مخالف ربیعہ بن عبدان تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گواہوں کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا کہ گواہ تو میرے پاس نہیں ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر یہ قسم کھائے گا اس نے کہا کہ اس طرح تو یہ میری زمین لے جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے جب وہ دوسرا آدمی قسم کھانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ظلماً کسی کی زمین ہتھیا لیتا ہے وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18863
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 139
حدیث نمبر: 18864
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الَأْعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَسْجُدُ عَلَى الَأْرْضِ وَاضِعًا جَبْهَتَهُ وَأَنْفَهُ فِي سُجُودِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ جب وہ سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی پر سجدہ کرتے ،
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18864
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عبدالجبار لم يسمع من أبيه
حدیث نمبر: 18865
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكَعَ ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دئیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18865
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18866
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، وَمَوْلًى لهم أنهما حدثاه ، عن أبيه وائل بن حجر : " أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ كَبَّرَ وَصَفَ هَمَّامٌ : حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا ، فَكَبَّر ، فَرَكَعَ ، فَلَمَّا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " رَفَعَ يَدَيْهِ ، فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے، پھر اپنے کپڑے میں لپیٹ کر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیاجب رکوع کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھ باہر نکال کر پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا، جب رکوع سے سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18866
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 401
حدیث نمبر: 18867
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا : حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ ، جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کانوں کے قریب تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18867
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18868
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الصَّلاَةِ : " آمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آمین کہتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18868
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 18869
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْهَرُ بِآمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو " ولا الضالین " کہنے کے بعد بلند آواز سے آمین کہتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 18870
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ أخْبَرَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي ، قَالَ : " فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ ، قَامَ ، فَكَبَّرَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ ، ثُمَّ قَالَ : لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا ، ثُمَّ سَجَدَ ، فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ قَعَدَ ، فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى ، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الأَْيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ قَبَضَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، فَحَلَّقَ حَلْقَةً ، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَه ، فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا ، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ الثِّيَابُ تُحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ مِنَ الْبَرْدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے توبائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا : کچھ عرصے بعد میں دوبارہ آیا تو وہ سردی کا موسم تھا میں نے دیکھا کہ لوگوں نے چادریں اوڑھ رکھی ہیں اور سردی کی وجہ سے وہ اپنے ہاتھوں کو چادروں کے نیچے سے ہی حرکت دے رہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18870
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: فرأيته يحركها يدعو بها فهو شاذ، انفرد به زائدة
حدیث نمبر: 18871
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ حِينَ رَكَعَ ، ثُمَّ حِينَ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " رَفَعَ يَدَيْهِ ، وَرَأَيْتُهُ مُمْسِكًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاَةِ ، فَلَمَّا جَلَسَ حَلَّقَ بِالْوُسْطَى وَالَإِِبْهَامِ ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18871
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 18872
حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " اسْتُكْرِهَتْ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ ، وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک عورت کے ساتھ زنا بالجبر کا واقعہ پیش آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے سزا کو معاف کردیا اور مرد پر سزاجاری فرمائی راوی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے مہر بھی مقرر کیا (یا نہیں ؟ )
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حجاج، ولم يسمع من عبدالجبار، وعبدالجبار لم يسمع من أبيه
حدیث نمبر: 18873
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاَةِ قَرِيبًا مِنَ الرُّسْغِ ، ويرفَعُ يَديَهُ حِينَ يُوجِبُ حَتَّى يَبْلُغَا أُذُنَيْهِ ، وَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَقَرَأَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقَالَ : " آمِينَ " يَجْهَرُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز میں وہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر گٹوں کے قریب رکھتے تھے اور نماز شروع کرتے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھاتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولا الضالین " کہہ کر بلند آواز سے آمین کہی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عبدالجبار لم يسمع من أبيه.زهير سمع من أبى إسحاق بعد الاختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18874
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ، فَتَمَضْمَضَ ، فَمَجَّ فِيهِ أَطْيَبَ مِنَ الْمِسْكِ أَوْ قَالَ مِسْكٌ وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنَ الدَّلْوِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ڈول پیش کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ پانی پیا اور ڈول میں کلی کردی، پھر اس ڈول کو کنوئیں میں الٹا دیا یا ڈول میں سے پانی پی کر کنوئیں میں کلی کردی جس سے وہ کنواں مشک کی طرح مہکنے لگا اور ڈول سے ہٹا کر ناک صاف کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، عبدالجبار لم يسمع من أبيه، بينهما أهله ، ولا تضر جهالتهم
حدیث نمبر: 18875
18448 حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الصَّلَاَةِ عَلَى الْيُسْرَى " فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي بَكيْرٍ.
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18875
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عبدالجبار لم يسمع من أبيه.زهير سمع من أبى إسحاق بعد الاختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18876
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : " لَأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي ، فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ قَالَ : حِينَ أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، ثُمَّ رَفَعَ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ سَجَدَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ قَعَدَ ، فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى ، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى فَخِذِهِ فِي صِفَةِ عَاصِمٍ ثُمَّ وَضَعَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الأْيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ، وَقَبَضَ ثَلاثًين ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يَقُولُ هَكَذَا ، وَأَشَارَ زُهَيْرٌ بِسَبَّابَتِهِ الَأُولَى ، وَقَبَضَ إِصْبَعَيْنِ ، وَحَلَّقَ الَإِبْهَامَ عَلَى السَّبَّابَةِ الثَّانِيَةِ . قَالَ زُهَيْرٌ : قَالَ عَاصِمٌ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ أَنَّ وَائِلًَا ، قَالَ : أَتَيْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى وَعَلَى النَّاسِ ثِيَابٌ فِيهَا الْبَرَانِسُ وَفِيهَا الْأَكْسِيَةُ ، فَرَأَيْتُهُمْ يَقُولُونَ هَكَذَا تَحْتَ الثِّيَابِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ حضرت وائل سے مروی ہے کہ میں ایک مرتبہ پھر موسم سرما میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو اپنی چادروں کے اندر ہی سے اٹھا رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18876
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18877
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ : " أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ، فَكَبَّرَ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ ، فَلَمَّا رَكَعَ ، رَفَعَ يَدَيْهِ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ ، وَخَوَّى فِي رُكُوعِهِ ، وَخَوَّى فِي سُجُودِهِ ، فَلَمَّا قَعَدَ يَتَشَهَّدُ وَضَعَ فَخِذَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ ، وَحَلَّقَ بِالْوُسْطَى " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو سوچا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے ہیں چناچہ نبی کریم نے قبلہ کی طرف رخ کرکے تکبیر کہی اور دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر بلند کئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، جب رکوع کا ارادہ کیا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور رکوع میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیئے جب رکوع سے سر اٹھایا تو پھر رفع یدین کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک برابر بلند کیا اور جب سجدے میں گئے تو اپنے ہاتھوں کو چہرے کے قریب رکھ دیا اور جب بیٹھے تو بائیں پاؤں کو بچھا کر دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھ لیا اور کہنی کی حد کو دائیں ران پر رکھ لیا اور تیس کے عدد کا دائرہ بنا کر حلقہ بنالیا اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18877
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح