حدیث نمبر: 18796
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا الْبَجَلِيَّ ، قَالَ : قَالَتْ امْرَأَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَرَى صَاحِبَكَ إلَا قَدْ أَبْطَأَ عَلَيْكَ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 3 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارا ساتھی کافی عرصے سے تمہارے پاس نہیں آیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی ناراض ہوا ہے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4951، م: 1796
حدیث نمبر: 18797
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، قَالَ : أَصَابَ إِصْبَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : حَجَرٌ فَدَمِيَتْ ، فَقَالَ : " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر کوئی زخم آیا اور اس میں سے خون بہنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ایک انگلی ہی ہے تو خون آلود ہوگئی ہے اور اللہ کے راستے میں تجھے کوئی بڑی تکلیف تو نہیں آئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6146، م: 1796
حدیث نمبر: 18798
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبًا يُحَدِّثُ : أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ، ثُمَّ خَطَبَ ، فَقَالَ " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ ، فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى " . وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى : " فَلْيَذْبَحْ ، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
حدیث نمبر: 18799
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجُشَمِيِّ ، حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ، ثُمَّ عَقَلَهَا ، ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَاحِلَتَهُ ، فَأَطْلَقَ عِقَالَهَا ، ثُمَّ رَكِبَهَا ، ثُمَّ نَادَى : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا ، وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَقُولُونَ هَذَا أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ ، أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ ؟ " قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : " لَقَدْ حَظَرْتَ ، رَحْمَةُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ رَحْمَةً وَاحِدَةً يَتَعَاطَفُ بِهَا الْخلَاَئِقُ جِنُّهَا وَإِنْسُهَا وَبَهَائِمُهَا ، وَعِنْدَهُ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ ، أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اپنی اونٹنی بٹھائی اسے باندھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں شریک ہوگیا، نماز سے فراغت کے بعد وہ اپنی سواری کے پاس آیا اس کی رسی کھولی اور اس پر سوار ہوگیا پھر اس نے بلند آواز سے یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور اپنی اس رحمت میں ہمارے ساتھ کسی کو شریک نہ فرما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ بتاؤ کہ یہ شخص زیادہ نادان ہے یا اس کا اونٹ ؟ تم نے سنا نہیں کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ کی وسیع رحمت کو محدود کردینا چاہا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی ہیں جن میں سے ایک رحمت نازل فرمادی اس کا نتیجہ ہے کہ تمام مخلوقات جن وانس اور جانور تک ایک دوسرے پر رحم اور مہربانی کرتے ہیں اور بقیہ ننانوے رحمتیں اسی کے پاس ہیں اب بتاؤ کہ یہ زیادہ نادان ہے یا اس کا اونٹ ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على الجريري، وأبو عبدالله مجهول الحال
حدیث نمبر: 18800
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي الْقَطَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ جُنْدُبٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ ، فَحُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ ، فَآلَمَتْ جِرَاحَتُهُ ، فَاسْتَخْرَجَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ، فَطَعَنَ بِهِ فِي لَبَّتِهِ ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ : " سَابَقَنِي بِنَفْسِه " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کو (میدان جنگ میں) کوئی زخم لگ گیا اسے اٹھا کر لوگ گھر لے آئے جب اسے درد کی شدت زیادہ محسوس ہونے لگی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اپنے سینے میں اسے خود ہی گھونپ لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب یہ بات ذکر کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل کیا کہ میرے بندے نے اپنی کے معاملے میں مجھ پر سبقت کرلی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف بهذه السياقة لضعف عمران القطان، وقد خولف
حدیث نمبر: 18801
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ ، يَقُولُ : " اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا مُحَمَّدُ ، لَمْ أَرَهُ قَرَبَكَ مُنْذُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَالضُّحَى ، وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى ، مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 1 - 3 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوگئے جس کی وجہ سے دو تین راتیں قیام نہیں کرسکے ایک عورت نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارا ساتھی کافی عرصے سے تمہارے پاس نہیں آیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی ناراض ہوا ہے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4951، م: 1797
حدیث نمبر: 18802
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ ، ثُمَّ الْعَلَقِيّ : أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحَى ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ بِاللَّحْمِ وَذَبَائِحِ الْأَضْحَى ، فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ حَتَّى صَلَّيْنَا ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عیدالاضحی پڑھ کر واپس ہوئے تو گوشت اور قربانی کے ذبح شدہ جانور نظر آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ ان جانوروں کو نماز عید سے پہلے ہی ذبح کرلیا گیا ہے سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
حدیث نمبر: 18803
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلاَةَ الْفَجْرِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ ، فَلَا تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا يَطْلُبَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص فجر کی نماز پڑھ لیتا ہے وہ اللہ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے لہٰذا تم اللہ کی ذمہ داری کو ہلکا (حقیر) مت سمجھو اور وہ تم سے اپنے ذمے کی کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 657
حدیث نمبر: 18804
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبًا ، يَقُولُ : " اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ ، فَأَتَتْ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا أَرَى شَيْطَانَكَ إِلَاّ قَدْ تَرَكَكَ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَى ، وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى ، مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 1 - 3 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوگئے جس کی وجہ سے دو تین راتیں قیام نہیں کرسکے ایک عورت نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارا ساتھی کافی عرصے سے تمہارے پاس نہیں آیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی ناراض ہوا ہے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4983، م: 1797
حدیث نمبر: 18805
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ الْعَلَقِيَّ حَيٌّ مِنْ بَجِيلَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأْضْحَى عَلَى قَوْمٍ قَدْ ذَبَحُوا أَوْ نَحَرُوا وقَوْمٍ لَمْ يَذْبَحُوا أَوْ لَمْ يَنْحَرُوا ، فَقَالَ : " مَنْ ذَبَحَ أَوْ نَحَرَ قَبْلَ صَلَاتِنَا ، فَلْيُعِدْ ، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ أَوْ يَنْحَرْ ، فَلْيَذْبَحْ أَوْ يَنْحَرْ بِاسْمِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عیدالاضحی پڑھ کر واپس ہوئے تو گوشت اور قربانی کے ذبح شدہ جانور نظر آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ ان جانوروں کو نماز عید سے پہلے ہی ذبح کرلیا گیا ہے سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
حدیث نمبر: 18806
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْعَلَقِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّ جِبْرِيلَ أَبْطَأَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزِعَ ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 1 - 3 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہونے میں کچھ تاخیر کردی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بےچین ہوگئے کسی نے اس پر کچھ کہہ دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی ناراض ہوا ہے ،
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1125، م: 1797
حدیث نمبر: 18807
قال : قال : سَمِعْت جُنْدُبًا ، يَقُولُ : دَمِيَتْ إِصْبَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر کوئی زخم آیا اور اس میں سے خون بہنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ایک انگلی ہی ہے تو خون آلود ہوگئی ہے اور اللہ کے راستے میں تجھے کوئی بڑی تکلیف تو نہیں آئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6146، م: 1796
حدیث نمبر: 18808
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبًا ، يَقُولُ : قَالَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ : الْبَجَلِيُّ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعْ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ يُرَائيِ يُرَائي اللَّهُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص شہرت حاصل کرنے کے لئے کوئی کام کرتا ہے اللہ اسے اس کے حوالے کردیتا ہے اور جو شخص ریاء کاری سے کوئی کام کرے اللہ اسے اس کے ہی حوالے کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6499، م: 2987
حدیث نمبر: 18809
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنْدُبٍ الْعَلَقِيِّ سَمِعَهُ مِنْهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6589، م: 2289
حدیث نمبر: 18810
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " . قَالَ سُفْيَانُ : الْفَرَطُ الَّذِي يَسْبِقُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6589، م: 2289
حدیث نمبر: 18811
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَنا فَرَطُكم عَلَى الحَوْضِ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6589، م: 2289
حدیث نمبر: 18812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا الْبَجَلِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ، فَقَالَ : " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ ، فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا أُخْرَى ، وَرُبَّمَا قَالَ : فَلْيُعِدْ أُخْرَى ، وَمَنْ لَاَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ تَعَالَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
حدیث نمبر: 18813
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، سَمِعَهُ مِنْ جُنْدُبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " . قَالَ سُفْيَانُ : الْفَرَطُ الَّذِي يَسْبِقُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح،خ: 6589، م: 2289
حدیث نمبر: 18814
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَا : أخبرنا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَانْظُرْ يَا ابْنَ آدَمَ لَا يَطْلُبَنَّكَ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص فجر کی نماز پڑھ لیتا ہے وہ اللہ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے لہٰذاتم اللہ کی ذمہ داری کو ہلکا (حقیر) مت سمجھو اور وہ تم سے اپنے ذمے کی کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 657
حدیث نمبر: 18815
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ ، يَقُولُ : شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ يَوْمَ النَّحْرِ ، ثُمَّ خَطَبَ ، فَقَالَ : " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ أُضْحِيَّتَهُ ، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ ، عَلَى اسْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
حدیث نمبر: 18816
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا " . قَالَ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ : وَلَمْ يَرْفَعْهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرآن کریم اس وقت تک پڑھا کرو جب تک تمہارے دلوں میں نشاط کی کیفیت ہو اور جب یہ کیفیت ختم ہونے لگے تو اٹھ جایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ / حدیث: 18816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5060، م: 2667، رجاله ثقات