حدیث نمبر: 18721
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ قَدْ حَجَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَيْتُهُ يَخْطُبُ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نبی ط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ " جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تھا " کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ کے دن اپنے اونٹ پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 18722
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْأَََشْجَعِيُّ ، حَدَّثَنِي نُبَيْطُ بْنُ شَرِيطٍ ، قَالَ : إِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، إِذْ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُمْتُ عَلَى عَجُزِ الرَّاحِلَةِ ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى عَاتِقِ أَبِي ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَيُّ يَوْمٍ أَحْرَمُ ؟ " قَالُوا : هَذَا الْيَوْمُ ، قَالَ : " فَأَيُّ بَلَدٍ أَحْرَمُ ؟ " قَالُوا : هَذَا الْبَلَدُ ، قَالَ : " فَأَيُّ شَهْرٍ أَحْرَمُ ؟ " قَالُوا : هَذَا الشَّهْرُ ، قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا ، هَلْ بَلَّغْت ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نبی ط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں اپنے والد صاحب کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خطبہ شروع فرمایا تو میں اپنی سواری کے پچھلے حصے پر کھڑا ہوگیا اور اپنے والد کے کندھے پر ہاتھ رکھ لئے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آج کا دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا سب زیادہ حرمت والا شہر کون سا ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا یہی شہر (مکہ) پھر پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ کون سا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا موجودہ مہینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہاری جان اور مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام و حرمت ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں، اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے کیا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! تو گواہ رہ اے اللہ ! تو گواہ رہ۔
حدیث نمبر: 18723
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ ، قَالَ : كَانَ أَبِي وَجَدِّي وَعَمِّي مع النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نبی ط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تھا " کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفہ کے دن اپنے سرخ اونٹ پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 18723
قَالَ : قَالَ سَلَمَةُ : قَالَ : قَالَ سَلَمَةُ : أَوْصَانِي أَبِي بِصلَاةِ السَّحَرِ ، قُلْتُ : يَا أبةِ ، إِنِّي لَا أُطِيقُهَا ، قَالَ : " فَانْظُرْ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ، فَلاَ تَدَعَنَّهُمَا ، وَلَا تَشْخَصَنَّ فِي الْفِتْنَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ترجمہ موجود نہیں
حدیث نمبر: 18724
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي الْأَشْجَعِيَّ ، وَسَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ الْأَشْجَعِيُّ ، أَنَّ أَبَاهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ رِدْفًا خَلْفَ أَبِيهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ . قَالَ : فَقُلْتُ : يَا أَبةَ ، أَرِنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُمْ ، فَخُذْ بِوَاسِطَةِ الرَّحْلِ ، قَالَ : فَقُمْتُ ، فَأَخَذْتُ بِوَاسِطَةِ الرَّحْلِ ، فَقَالَ : انْظُرْ إِلَى صَاحِبِ الْجَمَلِ اْلأَحْمَرِ الَّذِي يُومِئُ بِيَدِهِ ، فِي يَدِهِ الْقَضِيبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نبی ط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں اپنے والد صاحب کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا میں نے اپنے والد صاحب سے کہا اباجان ! مجھے دکھائیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کون سے ہیں ؟ انہوں نے کہا کھڑے ہو کر کجاوے کو پکڑ لو چناچہ میں نے ایسا ہی کیا انہوں نے کہا کہ اس سرخ اونٹ والے کو دیکھو جو اپنے ہاتھ سے اشارے کررہا ہے اور اس کے ہاتھ میں چھڑی بھی ہے۔