حدیث نمبر: 18625
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَن الْمِنْهَالِ ، عَن زَاذَانَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ ، فَوَجَدْنَا الْقَبْرَ ، وَلَمَّا يُلْحَدْ ، فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے ہم قبر کے قریب پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18626
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَن أَشْعَثَ ، عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ : لَقِيَنِي عَمِّي وَمَعَهُ رَايَةٌ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ فَقَالَ : " بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْتُلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن اپنے چچاحارث بن عمرو سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرلی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن اڑا ادوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18627
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَتْ ؟ قَالَ : " كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
یونس بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے (میرے آقا) محمد بن قاسم رحمہ اللہ نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا کیسا تھا ؟ انہوں نے فرمایا سیاہ رنگ کا چوکور جھنڈا تھا جو چیتے کی کھال سے بنا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى يعقوب، ويونس بن عبيد مجهول
حدیث نمبر: 18628
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَن مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالاضحی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد ہم سے خطاب فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 983، م: 1961
حدیث نمبر: 18629
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ ، وَاعْتَمَرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ ، وَاعْتَمَرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ بِعُمْرَتِهِ الَّتِي حَجَّ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج سے پہلے عمرہ کیا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ براء جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ عمرہ فرمایا تھا جن میں حج والا عمرہ بھی شامل تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، زكريا سمع من أبى إسحاق السبيعي بعد الاختلاط
حدیث نمبر: 18630
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ . ح وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَن دَاوُدَ الْمَعْنَى ، عَن عَامِرٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا يَذْبَحَنَّ أَحَدٌ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ " ، فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا يَوْمٌ ، اللَّحْمُ فِيهِ كَثِيرٌ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ : مَكْرُوهٌ ، وَإِنِّي ذَبَحْتُ نُسُكِي قَبْلُ لِيَأْكُلَ أَهْلِي وَجِيرَانِي ، وَعِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ ، فَأَذْبَحُهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَلَا تُجْزِئُ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ، وَهِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (بقر عید کے دن) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آج کے دن کا آغاز ہم نماز پڑھ کر کریں گے پھر واپس گھر پہنچ کر قربانی کریں گے جو شخص اسی طرح کرے تو وہ ہمارے طریقے تک پہنچ گیا اور جو نماز عید سے پہلے قربانی کرے تو وہ محض گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کو پہلے دے دیا، اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے ہی اپنا جانور ذبح کرلیا تھا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں نے تو اپنا جانور پہلے ہی ذبح کرلیا البتہ اب میرے پاس چھ ماہ کا ایک بچہ ہے جو سال بھر کے جانور سے بھی بہتر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو اس کی جگہ ذبح کرلو لیکن تمہارے علاوہ کسی کو اس کی اجازت نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 951، م: 1961
حدیث نمبر: 18631
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ ، وَضَعَ خَدَّهُ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى ، وَقَالَ : " رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو دائیں ہاتھ کا تکیہ بناتے اور یہ دعاء پڑھتے اے اللہ ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 18632
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الرَّبِيعِ بْنِ الْبَرَاءِ ، عَن أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا رَجَعَ مِنْ سَفَرٍ ، قَالَ : " آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی سفر سے واپس آتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ ہم توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں اور ہم اپنے رب کے عبادت گذار اور اس کے ثناء خواں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18633
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " اسْتَصْغَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنَ عُمَرَ ، فَرُدِدْنَا يَوْمَ بَدْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر مجھے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو بچہ قرار دیا تھا اس لئے ہمیں واپس بھیج دیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3955، شريك سيئ الحفظ ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18634
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " كَانَ رُكُوعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِيَامُهُ بَعْدَ الرُّكُوعِ ، وَجُلُوسُهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ، لَا نَدْرِي أَيَّهُ أَفْضَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت اس طرح تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رکوع کرتے رکوع سے سر اٹھاتے سجدہ کرتے سجدہ سے سر اٹھاتے اور دو سجدوں کے درمیان تمام مواقع پر برابر دورانیہ ہوتا تھا، ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے افضل کیا ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 820، م: 471
حدیث نمبر: 18635
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدْعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ ، حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ ، كَتَبُوا : هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ . قَالُوا : لَا نُقِرُّ بِهَذَا . لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا ، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " أَنَا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " . قَالَ لِعَلِيٍّ : " امْحُ رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ : وَاللَّهِ لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ ، وَلَيْسَ يُحْسِنُ أَنْ يَكْتُبَ ، فَكَتَبَ مَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ : " هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنْ لَا يُدْخِلَ مَكَّةَ السِّلَاحَ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ ، وَلَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا أَحَدٌ إِلَّا مَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَّبِعَهُ ، وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَنْ يُقِيمَ بِهَا " . فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ ، أَتَوْا عَلِيًّا ، فَقَالُوا : قُلْ لِصَاحِبِكَ فَلْيَخْرُجْ عَنَّا ، فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ذیقعدہ کے مہینے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے لئے روانہ ہوئے تو اہل مکہ نے انہیں مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس شرط پر مصالحت کرلی کہ وہ صرف تین دن مکہ مکرمہ میں قیام کریں گے جب لوگ اس مضمون کی دستاویز لکھنے کے لئے بیٹھے انہوں نے اس میں " محمد رسول اللہ " صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ لکھا لیکن مشرکین کہنے لگے کہ آپ یہ لفظ مت لکھیں اس لئے کہ اگر آپ اللہ کے پیغمبر ہوتے تو ہم آپ سے کبھی جنگ نہ کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس لفظ کو مٹادو حضرت علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں تو اسے نہیں مٹاسکتا، چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے اسے مٹادیا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا تھا اور اس کی جگہ لکھ دیا کہ یہ فیصلہ ہے جو محمد بن عبداللہ نے اہل مکہ سے کیا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں سوائے نیام میں پڑی ہوئی تلوار کے کوئی اسلحہ نہ لائیں گے مکہ مکرمہ سے کسی کو نکال کر نہیں لے جائیں گے الاّ یہ کہ کوئی خود ہی ان کے ساتھ جانا چاہے اور اپنے ساتھیوں میں سے کی کو مکہ مکرمہ میں قیام کرنے سے نہیں روکیں گے " چناچہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے بعدجب تین دن گذرگئے تو مشرکین مکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اپنے ساتھی سے واپس روانگی کے لئے کہہ دو کیونکہ مدت پوری ہوچکی ہے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکل آئے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1844، م: 1783
حدیث نمبر: 18636
وحَدَّثَنَاه أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ : اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : " أَنْ لَا يُدْخِلَ مَكَّةَ السِّلَاحَ وَلَا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا ".
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1844، م: 1783
حدیث نمبر: 18637
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، وَفَرَسٌ لَهُ حِصَانٌ ، مَرْبُوطٌ فِي الدَّارِ ، فَجَعَلَ يَنْفِرُ ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ ، فَنَظَرَ ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، وَجَعَلَ يَنْفِرُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " تِلْكَ السَّكِينَةُ نَزَلَتْ بِالْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص سورت کہف پڑھ رہا تھا گھر میں کوئی جانور (گھوڑا) بھی بندھا ہوا تھا اچانک وہ بدکنے لگا اس شخص نے دیکھا تو ایک بادل یا سائبان تھا جس نے اسے ڈھانپ رکھا تھا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں ! پڑھتے رہا کرو کہ یہ سکینہ تھا جو قرآن کریم کی تلاوت کے وقت اترتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3614، م: 795
حدیث نمبر: 18638
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَامِلَةً : بَرَاءَةُ ، وَآخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ خَاتِمَةُ سُورَةِ النِّسَاءِ : يَسْتَفْتُونَكَ . . . سورة النساء آية 127 إِلَى آخِرِ السُّورَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو سورت سب سے آخر میں اور مکمل نازل ہوئی وہ سورت برأت تھی اور سب سے آخری آیت جو نازل ہوئی وہ سورت نساء کی آخری آیت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4605، م: 1618
حدیث نمبر: 18639
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِشَاءِ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ " ، " فَلَمْ أَسْمَعْ أَحْسَنَ صَوْتًا وَلَا أَحْسَنَ صَلَاةً مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز عشاء کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا میں نے ان سے اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 767، م: 464
حدیث نمبر: 18640
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَحُسَيْنٌ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صف اول کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، سقط من هذا الإسناد اثنان : طلحة بن مصرف عن عبدالرحمن بن عوسجة، بين أبى إسحاق والبراء).
حدیث نمبر: 18641
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَحُسَيْنٌ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اعْتَمَرَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ ذیقعدہ میں بھی عمرہ کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3184، م: 1783
حدیث نمبر: 18642
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ : " اهْجُ الْمُشْرِكِينَ ، فَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو بیان کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18643
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، يَشْهَدُ بِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صف اول کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو إسحاق السبيعي مختلط ، ورواية عمار بن رزيق عنه بأخرة
حدیث نمبر: 18644
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَن مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ ، أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ ، وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ ، وَالْحَرِيرِ ، وَالدِّيبَاجِ ، وَالْإِسْتَبْرَقِ ، وَالْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ ، وَالْقَسِّيِّ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع کیا ہے پھر انہوں نے حکم والی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے مریض کی بیمار پرسی کا تذکرہ کیا نیز یہ کہ جنازے کے ساتھ جاناچھینکنے والے کو جواب دینا سلام کا جواب دینا قسم کھانے والے کو سچا کرنا، دعوت کو قبول کرنا مظلوم کی مدد کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کے برتن سونے کی انگوٹھی، استبرق، حریر، دیباج (تینوں ریشم کے نام ہیں) سرخ خوان پوش سے اور ریشمی کتان سے منع فرمایا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6253، م: 2066
حدیث نمبر: 18645
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَن سُفْيَانَ ، مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ : إِفْشَاءَ السَّلَامِ ، وَقَالَ : نَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1239، م: 2066
حدیث نمبر: 18646
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَعَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صف اول کے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سماع أبى بكر بن عياش من أبى إسحاق ليس بذاك القوي، وأبو إسحاق مختلط، ورواية عمار بن رزيق عنه بأخرة
حدیث نمبر: 18647
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيُّ مِنْ بَنِي بَجْلَةَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، عَن طَلْحَةَ . ح قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، فَقَالَ : " لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ ، لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ ، أَعْتِقْ النَّسَمَةَ ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَلَيْسَتَا بِوَاحِدَةٍ ؟ قَالَ : " لَا ، إِنَّ عِتْقَ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا ، وَفَكَّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي عِتْقِهَا ، وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ ، وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ ، فَأَطْعِمْ الْجَائِعَ ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ ، فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنَ الْخَيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں داخل کرادے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات تو تم نے مختصر کہی ہے لیکن سوال بڑا لمبا چوڑا پوچھا ہے عتق نسمہ اور فک رقبہ کیا کرو اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا یہ دونوں چیزیں ایک ہی نہیں ہیں ؟ (کیونکہ دونوں کا معنی غلام آزاد کرنا ہے ' ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں عتق نسمہ سے مراد یہ ہے کہ تم اکیلے پورا غلام آزاد کردو اور فک رقبہ سے مراد یہ ہے کہ غلام کی آزادی میں تم اس کی مدد کرو اس طرح قریبی رشتہ دار پر جو ظالم ہو، احسان اور مہربانی کرو، اگر تم میں اس کی طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھانا کھلادو پیاسے کو پانی پلادو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو، اگر یہ بھی نہ کرسکو تو اپنی زبان کو خیر کے علاوہ بند کرکے رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18648
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 95 ، أَتَاهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَأْمُرُنِي ؟ إِنِّي ضَرِيرُ الْبَصَرِ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ : غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ ، أَوْ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء قرآن کریم کی یہ آیت ہوئی کہ " مسلمانوں میں سے جو لوگ جہاد کے انتظار میں بیٹھے ہیں وہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے بھی برابر نہیں ہوسکتے " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بلا کر حکم دیا " وہ شانے کی ایک ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی، اس پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو اس آیت میں " غیراولی الضرر " کا لفظ مزید نازل ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس شانے کی ہڈی یا تختی اور دوات لے کر آؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4594، م: 1898
حدیث نمبر: 18649
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَن أَبِيهِ ، وَعَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَن أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَن مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ . ح قَالَ أَبِي : وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدٍ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ ، أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَرَدِّ السَّلَامِ ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ ، وَنَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَالتَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ ، وَلُبْسِ الْحَرِيرِ ، وَالدِّيبَاجِ ، وَالْقَسِّيِّ ، وَالْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ ، وَالْإِسْتَبْرَقِ " . وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع کیا ہے پھر انہوں نے حکم والی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے مریض کی بیمار پرسی کا تذکرہ کیا نیز یہ کہ جنازے کے ساتھ جانا چھینکنے والے کو جواب دینا سلام کا جواب دینا قسم کھانے والے کو سچا کرنا، دعوت کو قبول کرنا مظلوم کی مدد کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کے برتن سونے کی انگوٹھی، استبرق، حریر، دیباج (تینوں ریشم کے نام ہیں) سرخ خوان پوش سے اور ریشمی کتان سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1239، م: 2066
حدیث نمبر: 18650
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحَسَّانَ : " هَاجِهِمْ أَوْ اهْجُهُمْ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو بیان کرو جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3213، م: 2486
حدیث نمبر: 18651
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَن سُفْيَانَ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلْ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مُتَّ ، مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ ، أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آیا کرے تو یوں کہہ لیا کرے اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارا بنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرجائے تو وہ فطرت پر مروگے۔ اگر صبح پالی تو خیر کثیر کے ساتھ صبح کروگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 247، م: 2710
حدیث نمبر: 18652
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ أَوْ قَالَ : حَدَّثَنَا ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْنُتْ فِي الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ " . قَالَ شُعْبَةُ مِثْلَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر اور نماز مغرب میں قنوت نازل پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 678
حدیث نمبر: 18653
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَن شُعْبَةَ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ . ح قَالَ : وَحَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ : لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا ، فَجَاءَ بِكَتِفٍ ، وَكَتَبَهَا ، فَشَكَا ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ضَرَارَتَهُ ، فَنَزَلَتْ : لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء قرآن کریم کی یہ آیت ہوئی کہ " مسلمانوں میں سے جو لوگ جہاد کے انتظار میں بیٹھے ہیں وہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے بھی برابر نہیں ہوسکتے " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بلا کر حکم دیا " وہ شانے کی ایک ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی، اس پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو اس آیت میں " غیراولی الضرر " کا لفظ مزیدنازل ہوا
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4594، م: 1898
حدیث نمبر: 18654
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ : أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مَاتَ ، مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آیا کرے تو یوں کہہ لیا کرے اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارا بنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرجائے تو وہ فطرت پر مرے گا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6313، م: 2710
حدیث نمبر: 18655
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ ذَلِك . .
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 247، م: 2710
حدیث نمبر: 18656
قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : قَالَ شُعْبَةُ : وَأَخْبَرَنِي أبو الْحَسَنِ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18657
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَن سُفْيَانَ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، لَمْ يَحْنِ رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَسْجُدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنُسْجَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم لوگ صفوں میں کھڑے رہتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے جاتے تب ہم آپ کی پیروی کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 747، م: 197، 474
حدیث نمبر: 18658
قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَقْبَلَ مِنْ سَفَرٍ ، قَالَ : " آيِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی سفر سے واپس آتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ ہم توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں اور ہم اپنے رب کے عبادت گذار اور اس کے ثناء خواں ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد خالف فيه سفيان الثوري شعبة
حدیث نمبر: 18659
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَن شُعْبَةَ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ الْبَرَاءِ ، عَن أَبِيهِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، مِثْلَ ذَلِكَ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18660
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَامَ ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو دائیں ہاتھ کا تکیہ بناتے اور یہ دعاء پڑھتے اے اللہ ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق السبيعي
حدیث نمبر: 18661
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ فِي الْفَجْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر اور نماز مغرب میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 678
حدیث نمبر: 18662
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَنْقُلُ التُّرَابَ ، وَقَدْ وَارَى التُّرَابُ شَعَرَ صَدْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خندق کی کھدائی کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خندق کی کھدائی کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ مٹی اٹھاتے جارہے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2836، م: 1803
حدیث نمبر: 18663
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا سُنَّةً قَدْ أَمَاتُوهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کو رجم کیا اور فرمایا اے اللہ ! میں سب سے پہلا آدمی ہوں جو تیرے حکم کو زندہ کررہا ہوں جبکہ انہوں نے اسے مردہ کردیا تھا
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1700
حدیث نمبر: 18664
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے لئے جنت میں دودھ پلانے والی عورت کا انتظام کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1382