حدیث نمبر: 18585
قال عَبْد اللَّهِ : وحَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، نَحْوَهُ . قَالَ فِيهِ أَيْضًا : مَاحَةً.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال يونس
حدیث نمبر: 18586
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً ، وَأَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِدَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پندرہ غزوات میں شرکت کی ہے اور میں اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہم عمر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4472
حدیث نمبر: 18587
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ ، فَتَوَضَّأْ ، وَنَمْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ ، وَقُلْ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مُتَّ ، مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے بستر پر آیا کرو تو یوں کہہ لیا کرو اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارا بنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرگئے توفطرت پر مروگے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ البتہ اس کے آخر میں یہ بھی اضافہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز والا وضو کیا کرو اور ان کلمات کو سب سے آخر میں کہا کرو، میں نے نبی کریم کے سامنے ان کلمات کو دہرایا جب میں آمنت بکتابک الذی انزلت پر پہنچا تو میں نے وبرسولک کہہ دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں وبنبیک کہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6311، م: 2710
حدیث نمبر: 18588
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، وَقَالَ : " فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ " . وَقَالَ : " اجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ " . قَالَ : فَرَدَّدْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا بَلَغْتُ : " آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ " ، قُلْتُ : " وَبِرَسُولِكَ " . قَالَ : " لَا ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6311، م: 2710
حدیث نمبر: 18589
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْكَلَالَةِ ، فَقَالَ : " تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور " کلالہ " کے متعلق سوال پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سلسلے میں تمہارے لئے موسم گرما میں نازل ہونے والی آیت ہی کافی ہے (سورۃ النساء کی آخری آیت کی طرف اشارہ ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سماع أبى بكر من أبى إسحاق ليس بذاك القوي
حدیث نمبر: 18590
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " إِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَجْلِسُوا ، فَاهْدُوا السَّبِيلَ ، وَرُدُّوا السَّلَامَ ، وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ انصاری حضرات کے پاس سے گذرے اور فرمایا کہ اگر تمہارا راستے میں بیٹھے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو سلام پھیلایا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو اور راستہ بتایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18590
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسناده منقطع، أبو إسحاق لم يسمع هذا الحديث من البراء
حدیث نمبر: 18591
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ فِي دَارِهِ سُورَةَ الْكَهْفِ ، وَإِلَى جَانِبِهِ حِصَانٌ لَهُ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ ، حَتَّى غَشِيَتْهُ سَحَابَةٌ ، فَجَعَلَتْ تَدْنُو وَتَدْنُو ، حَتَّى جَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا ، قَالَ الرَّجُلُ : فَعَجِبْتُ لِذَلِكَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، وَقَصَّ عَلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص سورت کہف پڑھ رہا تھا گھر میں کوئی جانور (گھوڑا) بھی بندھا ہوا تھا اچانک وہ بدکنے لگا اس شخص نے دیکھا تو ایک بادل یا سائبان تھا جس نے اسے ڈھانپ رکھا تھا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں ! پڑھتے رہا کرو کہ یہ سکینہ تھا جو قرآن کریم کی تلاوت کے وقت اترتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18591
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5011، م: 795
حدیث نمبر: 18592
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَنَّعًا فِي الْحَدِيدِ ، قَالَ : أُقَاتِلُ أَوْ أُسْلِمُ ؟ قَالَ : " بَلْ أَسْلِمْ ، ثُمَّ قَاتِلْ " . فَأَسْلَمَ ، ثُمَّ قَاتَلَ ، فَقُتِلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَمِلَ هَذَا قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک انصاری آیا جو لوہے میں غرق تھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں پہلے اسلام قبول کروں یا پہلے جہاد میں شریک ہوجاؤں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اسلام قبول کرلو پھر جہاد میں شریک ہوجاؤ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس جہاد میں شہید ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے عمل تو تھوڑا کیا لیکن اجربہت لے گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18592
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2808، م: 1900
حدیث نمبر: 18593
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ قَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ ، قَالَ : وَوَضَعَهُمْ مَوْضِعًا ، وَقَالَ : " إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ ، فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ ، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَى الْعَدُوِّ وَأَوْطَأْنَاهُمْ ، فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ " . قَالَ : فَهَزَمُوهُمْ ، قَالَ : فَأَنَا وَاللَّهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ عَلَى الْجَبَلِ ، وَقَدْ بَدَتْ أَسْوُقُهُنَّ وَخَلَاخِلُهُنَّ ، رَافِعَاتٍ ثِيَابَهُنَّ ، فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ : الْغَنِيمَةَ أَيْ قَوْمُ الْغَنِيمَةَ ، ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْظُرُونَ ؟ فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ : أَنَسِيتُمْ مَا قَالَ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : إِنَّا وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّ النَّاسَ ، فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ ، فَلَمَّا أَتَوْهُمْ ، صُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ ، فَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ ، فَذَلِكَ الَّذِي يَدْعُوهُمْ الرَّسُولُ فِي أُخْرَاهُمْ ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا ، فَأَصَابُوا مِنَّا سَبْعِينَ رَجُلًا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أَصَابَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدرٍ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً سَبْعِينَ أَسِيرًا ، وَسَبْعِينَ قَتِيلًا ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ ؟ أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ ؟ أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ ؟ ثَلَاثًا ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِيبُوهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ؟ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ؟ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ ؟ أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَمَّا هَؤُلَاءِ ، فَقَدْ قُتِلُوا وَقَدْ كُفِيتُمُوهُمْ ، فَمَا مَلَكَ عُمَرُ نَفْسَهُ أَنْ قَالَ : كَذَبْتَ وَاللَّهِ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، إِنَّ الَّذِينَ عَدَدْتَ لَأَحْيَاءٌ كُلُّهُمْ ، وَقَدْ بَقِيَ لَكَ مَا يَسُوءُكَ ، فَقَالَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ ، وَالْحَرْبُ سِجَالٌ ، إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةً لَمْ آمُرْ بِهَا ، وَلَمْ تَسُؤْنِي ، ثُمَّ أَخَذَ يَرْتَجِزُ اعْلُ هُبَلُ ، اعْلُ هُبَلُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تُجِيبُونَهُ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا نَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ " . قَالَ : إِنَّ الْعُزَّى لَنَا ، وَلَا عُزَّى لَكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تُجِيبُونَهُ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا نَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس تیر اندازوں پر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو مقرر کردیا تھا اور انہیں ایک جگہ پر متعین کرکے فرما دیا اگر تم ہمیں اس حال میں دیکھو کہ ہمیں پرندے اچک کرلے جارہے ہیں تب بھی تم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہ ہلنا جب تک میں تمہارے پاس پیغام نہ بھیج دوں اور اگر تم ہمیں اس حال میں دیکھو کہ ہم دشمن پر غالب آگئے ہیں اور ہم نے انہیں روند دیا ہے تب بھی تم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہ ہلنا جب تک میں تمہارے پاس پیغام نہ بھیج دوں۔ چناچہ جنگ میں مشرکین کو شکست ہوگئی بخدا ! میں نے عورتوں کو تیزی سے پہاڑوں پر چڑھتے ہوئے دیکھا ان کی پنڈلیاں اور پازیبیں نظر آرہی تھیں اور انہوں نے اپنے کپڑے اوپر کر رکھے تھے یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھی کہنے لگے لوگو ! مال غنیمت تمہارے ساتھی غالب آگئے اب تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو ؟ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم وہ بات فراموش کررہے ہو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمائی تھی ؟ وہ کہنے لگے کہ ہم تو ان کے پاس ضرور جائیں گے تاکہ ہم بھی مال غنیمت اکٹھا کرسکیں۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو ان پر پیچھے سے حملہ ہوگیا اور وہ شکست کھا کر بھاگ گئے یہ وہی وقت تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پیچھے سے آوازیں دیتے رہ گئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوائے بارہ آدمیوں کے کوئی نہ بچا اور ہمارے ستر آدمی شہید ہوگئے غزوہ بدر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ نے مشرکین کے ایک سوچالیس آدمیوں کا نقصان کیا تھا جن میں سے ستر قتل ہوئے اور ستر قید ہوگئے تھے۔ اس وقت کے سالار مشرکین ابوسفیان نے فتح پانے کے بعد تین مرتبہ پوچھا کہ کیا لوگوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو جواب دینے سے منع کردیا پھر اس نے دو دو مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا نام لے کر یہی سوال کیا پھر اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا کہ یہ سب تو مارے گئے ہیں اور اب ان سے تمہاری جان چھوٹ گئی ہے اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے اور کہنے لگے بخدا ! اے دشمن خدا ! تو جھوٹ بولتا ہے تو نے جتنے نام گنوائے ہیں وہ سب کے سب زندہ ہیں اور اب تیرے لئے پریشان کن خبر رہ گئی ہے ابوسفیان کہنے لگا کہ یہ جنگ بدر کا بدلہ ہے اور جنگ تو ایک ڈول کی طرح ہے تم لوگ اپنی جماعت کے کچھ لوگوں کے اعضاء جسم کٹے ہوئے دیکھو گے میں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا اور مجھے یہ بات بری بھی نہیں لگی پھر وہ " ہبل کی جے " کے نعرے لگانے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اسے جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا جواب دیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہو کہ اللہ بلندو برتر اور بزرگ ہے پھر ابوسفیان نے کہا کہ ہمارے پاس عزیٰ ہے جبکہ تمہارا کوئی عزیٰ نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اسے جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم کیا جواب دیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہو اللہ ہمارا مولیٰ ہے جبکہ تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18593
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3039
حدیث نمبر: 18594
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْحَكَمِ عَلِيٌّ الْبَصْرِيُّ ، عَن أَبِي بَحْرٍ ، عَن الْبَرَاءِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُّمَا مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا ، فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ ، ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ، تَفَرَّقَا لَيْسَ بَيْنَهُمَا خَطِيئَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18594
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: ثم حمد الله ، وهذا إسناد ضعيف، فيه جهالة واضطراب، فقد اختلف فيه على أبى بلج يحيى بن أبى سليم
حدیث نمبر: 18595
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ أَوْ غَيْرُهُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ : أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ حَرِيرٌ ، فَجَعَلْنَا نَلْمِسُهُ وَنَعْجَبُ مِنْهُ ، وَنَقُولُ مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا خَيْرًا مِنْهُ وَأَلْيَنَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُعْجِبُكُمْ هَذَا ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا وَأَلْيَنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی کپڑا پیش کیا گیا لوگ اس کی خوبصورتی اور نرمی پر تعجب کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے کہیں افضل اور بہتر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18595
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3249، م: 2468
حدیث نمبر: 18596
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَكَتَبَ بِهِ إِلَيَّ قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ بُرْدٍ أَخِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَن الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ مَشَى مَعَ الْجِنَازَةِ حَتَّى تُدْفَنَ وَقَالَ مَرَّةً : حَتَّى يُدْفَنَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قِيرَاطَانِ ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور جو شخص دفن ہونے تک جنازے کے ساتھ رہے تو اسے دو قیراط ثواب ملے گا اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18597
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : حَدَّثَنَاه صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ ، وَأَبُو مَعْمَرٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو زُبَيْدٍ ، عَن بُرْدٍ أَخِي يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَن الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَن الْبَرَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18598
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَن هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " رَمَقْتُ الصَّلَاةَ مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ ، فَرَكْعَتَهُ ، فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ الرَّكْعَةِ ، فَسَجْدَتَهُ ، فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ، فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَمَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کا شرف حاصل کیا ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام، رکوع کے بعد اعتدال، سجدہ، دو سجدوں کے درمیان جلسہ، قعدہ اخیرہ اور سلام پھیرنے سے واپس جانے کا درمیانی وقفہ تقریباً برابر ہی پایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 792، م: 471
حدیث نمبر: 18599
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَجَدْتَ ، فَضَعْ كَفَّيْكَ ، وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم سجدہ کیا کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ لیا کرو اور اپنے بازواوپر اٹھا کر رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 494
حدیث نمبر: 18600
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَقَالَ : " إِنْ رَأَيْتُمْ الْعَدُوَّ وَرَأَيْتُمْ الطَّيْرَ تَخْطَفُنَا ، فَلَا تَبْرَحُوا " . فَلَمَّا رَأَوْا الْغَنَائِمَ ، قَالُوا : عَلَيْكُمْ الْغَنَائِمَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَبْرَحُوا ؟ قَالَ غَيْرُهُ : فَنَزَلَتْ : وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 152 ، يَقُولُ : عَصَيْتُمْ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ الْغَنَائِمَ وَهَزِيمَةَ الْعَدُوِّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس تیر اندازوں پر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو مقرر کردیا تھا اور انہیں ایک جگہ پر متعین کرکے فرما دیا اگر تم ہمیں اس حال میں دیکھو کہ ہمیں پرندے اچک کرلے جارہے ہیں تب بھی تم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہ ہلنا جب تک میں تمہارے پاس پیغام نہ بھیج دوں اور اگر تم ہمیں اس حال میں دیکھو کہ ہم دشمن پر غالب آگئے ہیں اور ہم نے انہیں روند دیا ہے تب بھی تم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہ ہلناجب تک میں تمہارے پاس پیغام نہ بھیج دوں۔ لیکن جب انہوں نے مال غنیمت کو دیکھا تو کہنے لگے لوگو ! مال غنیمت، حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم وہ بات فراموش کررہے ہو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے فرمائی تھی ؟ انہوں نے ان کی بات نہیں مانی چناچہ یہ آیت نازل ہوئی تم نے جب اپنی پسندیدہ چیزیں دیکھیں تو نافرمانی کرنے لگے یعنی مال غنیمت اور دشمن کی شکست کو دیکھ کر تم نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہ مانا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3039
حدیث نمبر: 18601
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْمَعْنَى ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ الْهَرَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَصُرَ بِجَمَاعَةٍ ، فَقَالَ : " عَلَامَ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ هَؤُلَاءِ ؟ " قِيلَ : عَلَى قَبْرٍ يَحْفِرُونَهُ . قَالَ : فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَدَرَ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ مُسْرِعًا حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْقَبْرِ ، فَجَثَا عَلَيْهِ ، قَالَ : فَاسْتَقْبَلْتُهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ لِأَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ ، فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى مِنْ دُمُوعِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، قَالَ : " أَيْ إِخْوَانِي ، لِمِثْلِ الْيَوْمِ فَأَعِدُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر کچھ لوگوں پر پڑگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ لوگ کیسے جمع ہیں ؟ بتایا گیا کہ قبر کھود رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے آگے بڑھے اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گئے یہاں تک کہ قبر کے قریب پہنچ گئے اور اس پر جھک گئے میں بھی یہ دیکھنے کے لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں، تیزی سے آگے نکل گیا وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے یہاں تک کہ آنسوؤں سے مٹی گیلی ہوگئی پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا بھائیو ! اس دن کے لئے تیاری کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد بن مالك
حدیث نمبر: 18602
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلَى الْبَرَاءِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَكَانَ النَّاسُ يَقُولُونَ لَهُ : لِمَ تَخَتَّمُ بِالذَّهَبِ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ الْبَرَاءُ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ غَنِيمَةٌ يَقْسِمُهَا سَبْيٌ وَخُرْثِيٌّ ، قَالَ : فَقَسَمَهَا حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْخَاتَمُ ، فَرَفَعَ طَرْفَهُ ، فَنَظَرَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، ثُمَّ خَفَّضَ ، ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ خَفَّضَ ، ثُمَّ رَفَعَ طَرْفَهُ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْ بَرَاءُ " فَجِئْتُهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَخَذَ الْخَاتَمَ فَقَبَضَ عَلَى كُرْسُوعِي ، ثُمَّ قَالَ : " خُذْ الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ : وَكَانَ الْبَرَاءُ يَقُولُ : كَيْفَ تَأْمُرُونِي أَنْ أَضَعَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَسْ مَا كَسَاكَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ؟ ".
مولانا ظفر اقبال
محمد بن مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی لوگ ان سے کہہ رہے تھے کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی کیوں پہن رکھی ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مال غنیمت کا ڈھیر تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرما رہے تھے ان میں قیدی بھی تھے اور معمولی چیزیں بھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سب چیزیں تقسیم فرمادیں یہاں تک کہ یہ انگوٹھی رہ گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر اپنے ساتھیوں کو دیکھا پھر نگاہیں جھکالیں تین مرتبہ ایساہی ہوا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر پکارا میں آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انگوٹھی پکڑی اور میری چھنگلیا کا گٹے کی طرف سے حصہ پکڑ کر فرمایا یہ لو اور پہن لو جو تمہیں اللہ اور رسول پہنادیں تو تم مجھے کس طرح اسے اتارنے کا کہہ رہے ہو جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں جو پہنا رہے ہیں اسے پہن لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد بن مالك، وفي متنه نكارة
حدیث نمبر: 18603
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي مُوسَى يُحَدِّثُ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " . قَالَ شُعْبَةُ : هَذَا أَوْ نَحْوَ هَذَا الْمَعْنَى ، وَإِذَا نَامَ قَالَ : " اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا ، وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے تو یوں کہتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندگی دی اور اسی کے پاس جمع ہونا ہے اور جب سوتے تو یوں کہتے اے اللہ ! میں تیرے ہی نام سے جیتا ہوں اور تیرے ہی نام پر مرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2711
حدیث نمبر: 18604
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ عَلَى أَلْيَتَيْ الْكَفِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیلی کے باطنی حصے کو زمین پر ٹیک کر سجدہ فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف وروي مرفوعا وموقوفاً، والصحيح وقفه، أبو إسحاق مختلط ، ولا يدري أسمع الحسن بن واقد منه قبل الاختلاط أم بعده ؟ ثم إن أبا إسحاق خولف
حدیث نمبر: 18605
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَن صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَن أَبِي بُسْرَةَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً ، فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کے دس سے زیادہ سفر کئے ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی ظہر سے پہلے دو رکعتیں چھوڑتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 18606
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَن الزُّهْرِيِّ ، عَن حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِيَةٌ ، فَدَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِيهِ ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا ، وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَةِ بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا ، وَأَنَّ مَا أَصَابَتْ الْمَاشِيَةُ بِاللَّيْلِ ، فَهُوَ عَلَى أَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اونٹنی بہت تنگ کرنے والی تھی ایک مرتبہ اس نے کسی باغ میں داخل ہو کر اس میں کچھ نقصان کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ یہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت مالک کے ذمے ہے اور جانوروں کی حفاظت رات کے وقت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور جو جانور رات کے وقت کوئی نقصان کردے اس کا تاوان جانور کے مالک پر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، حرام اين محيصة لم يسمع البراء بن عازب
حدیث نمبر: 18607
حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلَالَةِ ، فَقَالَ : " تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور " کلالہ " کے متعلق سوال پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سلسلے میں تمہارے لئے موسم گرما میں نازل ہونے والی آیت ہی کافی ہے (سورۃ النساء کی آخری آیت کی طرف اشارہ ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حجاج، ثم إنه لا يدري أسمع من أبى إسحاق قبل الاختلاط أم بعده ؟
حدیث نمبر: 18608
قال : حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَن أَبِي الْجَهْمِ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " إِنِّي لَأَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ ضَلَّتْ لِي فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنَا أَجُولُ فِي أَبْيَاتٍ ، فَإِذَا أَنَا بِرَكْبٍ وَفَوَارِسَ ، إِذْ جَاءوا ، فَطَافُوا بِفِنَائِي ، فَاسْتَخْرَجُوا رَجُلًا ، فَمَا سَأَلُوهُ وَلَا كَلَّمُوهُ ، حَتَّى ضَرَبُوا عُنُقَهُ ، فَلَمَّا ذَهَبُوا سَأَلْتُ عَنْهُ ، فَقَالُوا : عَرَّسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ میرا ایک اونٹ گم ہوگیا میں اس کی تلاش میں مختلف گھروں کے چکر لگارہا تھا اچانک مجھے کچھ شہسوار نظر آئے وہ آئے اور انہوں نے اس گھر کا محاصرہ کرلیا جس میں میں تھا اور اس میں سے ایک آدمی کو نکالا اس سے کچھ پوچھا اور نہ ہی کوئی بات کی بلکہ بغیر کسی تاخیر کے اس کی گردن اڑادی جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18609
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَن مُطَرِّفٍ ، قَالَ : أَتَوْا قُبَّةً ، فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهَا رَجُلًا ، فَقَتَلُوهُ . قَالَ : قُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : " هَذَا رَجُلٌ دَخَلَ بِأُمِّ امْرَأَتِهِ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ شہسوار نظر آئے اور انہوں نے اس گھر کا محاصرہ کرلیا جس میں میں تھا اور اس میں سے ایک آدمی کو نکالا اور بغیر کسی تاخیر کے اس کی گردن اڑادی جب وہ چلے گئے تو میں نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کرلی تھی۔ ان لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا کہ اسے قتل کردیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18610
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْبَرَاءِ ، عَن أَبِيهِ ، قَالَ : لَقِيتُ خَالِي مَعَهُ رَايَةٌ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ ، فَأَمَرَنَا أَنْ نَقْتُلَهُ ، وَنَأْخُذَ مَالَهُ " . قَالَ : فَفَعَلُوا . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : مَا حَدَّثَ أَبِي عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَبْدِ الْغَفَّارِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ لِعِلَّتِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن اپنے ماموں سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرلی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن اڑادوں اور اس کا مال چھین لوں۔ چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18611
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا ، فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ ، فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِنَّ فُلَانًا الْأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْإِفْطَارُ ، أَتَى امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : هَلْ عِنْدَكِ مِنْ طَعَامٍ ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ ، فَأَطْلُبُ لَكَ ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ ، وَجَاءَتْ امْرَأَتُهُ ، فَلَمَّا رَأَتْهُ ، قَالَتْ : خَيْبَةٌ لَكَ ، فَأَصْبَحَ ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ ، غُشِيَ عَلَيْهِ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 " . قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ جَاءَ فَنَامَ ، فَذَكَرَهُ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء اسلام میں جو شخص روزہ رکھتا اور افطاری کے وقت روزہ کھولنے سے پہلے سوجاتا تو وہ اس رات اور اگلے دن شام تک کچھ نہیں کھاپی سکتا تھا ایک دن فلاں انصاری روزے سے تھا افطاری کے وقت وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے ؟ اس نے کہا نہیں لیکن میں جا کر کچھ تلاش کرتی ہوں اسی دوران اس کی آنکھ لگ گئی بیوی نے آ کر دیکھا تو کہنے لگی کہ تمہارا تو نقصان ہوگیا۔ اگلے دن جبکہ ابھی صرف آدھا دن ہی گذر تھا کہ وہ (بھوک پیاس کی تاب نہ لاکر) بیہوش ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی تمہارے لئے روزے کی رات میں اپنی بیویوں سے بےتکلف ہوناحلال کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ " گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1915
حدیث نمبر: 18612
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ إِذَا نَامَ . فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : نَزَلَتْ فِي أَبِي قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1915، زهير روي عن أبى إسحاق بعد الاختلاط ، لكنه متابع، غير أنه لم يتابع فى اسم الذى نزلت فيه الآية
حدیث نمبر: 18613
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَن أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ : " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ جُمَّتَهُ لَتَضْرِبُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ " ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ : " لَتَضْرِبُ قَرِيبًا مِنْ مَنْكِبَيْهِ " ، وَقَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهِ مِرَارًا ، مَا حَدَّثَ بِهِ قَطُّ إِلَّا ضَحِكَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ جوڑا زیب تن فرما رکھا تھا میں نے ان سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا، صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بال کندھوں تک آتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5901، م: 2337
حدیث نمبر: 18614
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِنَازَةٍ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَبْرِ ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ ، وَهُوَ يُلْحَدُ لَهُ ، فَقَالَ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " ثَلَاثَ مِرَارٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصاری کے جنازے میں نکلے ہم قبر کے قریب پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے پھر سر اٹھا کر فرمایا اللہ سے عذاب قبر سے بچنے کے لئے پناہ مانگو، دو تین مرتبہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ بندہ مؤمن جب دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے آس پاس سے روشن چہروں والے ہوتے ہیں آتے ہیں ان کے پاس جنت کا کفن اور جنت کی حنوط ہوتی ہے تاحد نگاہ وہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے نفس مطمئنہ ! اللہ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف نکل چل چناچہ اس کی روح اس بہہ کر نکل جاتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ بہہ جاتا ہے ملک الموت اسے پکڑ لیتے ہیں اور دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کی مقدار بھی اس کی روح کو ملک الموت کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے بلکہ ان سے لے کر اسے اس کفن لپیٹ کر اس پر اپنی لائی ہوئی حنوط مل دیتے ہیں اور اس کے جسم سے ایسی خوشبو آتی ہے جیسے مشک کا ایک خوشگوار جھونکا جو زمین پر محسوس ہوسکے۔ پھر فرشتے اس روح کو لے کر اوپر چڑھ جاتے ہیں اور فرشتوں کے جس گروہ پر بھی ان کا گذر ہوتا ہے وہ گروہ پوچھتا ہے کہ یہ پاکیزہ روح کون ہے ؟ وہ جواب میں اس کا وہ بہترین نام بتاتے ہیں جس سے دنیا میں لوگ اسے پکارتے تھے حتی کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں اور دروازے کھلواتے ہیں جب دروازہ کھلتا ہے تو ہر آسمان کے فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اگلے آسمان تک اسے چھوڑ کر آتے ہیں اور اس طرح وہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کا نامہ اعمال " علیین " میں لکھ دو اور اسے واپس زمین کی طرف لے جاؤ کیونکہ میں نے اپنے بندوں کو زمین کی مٹی ہی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔ چناچہ اس کی روح جسم میں واپس لوٹادی جاتی ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اسے بٹھاکر پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے وہ پوچھتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ وہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا علم کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی، اس پر آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لئے جنت کا بستر بچھادو اسے جنت کا لباس پہنادو اور اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دو چناچہ اسے جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی رہتیں ہیں اور تاحدنگاہ اس کی قبر وسیع کردی جاتی ہے اور اس کے پاس ایک خوبصورت لباس اور انتہائی عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تمہیں خوشخبری مبارک ہو یہ وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا وہ اس سے پوچھتاے کہ تم کون ہو ؟ کہ تمہارا چہرہ ہی خیر کا پتہ دیتا ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تمہارا نیک عمل ہوں اس پر وہ کہتا ہے کہ پروردگار ! قیامت ابھی قائم کردے تاکہ میں اپنے اہل خانہ اور مال میں واپس لوٹ جاؤں۔ اور جب کوئی کافر شخص دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اتر کر آتے ہیں جن کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں وہ تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت يآکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس خبیثہ ! اللہ کی ناراضگی اور غصے کی طرف چل یہ سن کر اس کی روح جسم میں دوڑنے لگتی ہے اور ملک الموت اسے جسم سے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گیلی اون سے سیخ کھینچی جاتی ہے اور اسے پکڑ لیتے ہیں فرشتے ایک پلک جھپکنے کی مقدار بھی اسے ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے اور اس ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے مردار کی بدبوجیسا ایک ناخوشگوار اور بدبودار جھونکا آتا ہے۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے ان کا گذر ہوتا ہے وہی گروہ کہتا ہے کہ یہ کیسی خبیث روح ہے ؟ وہ اس کا دنیا میں لیا جانے والا بدترین نام بتاتے ہیں یہاں تک کہ اسے لے کر آسمان دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ در کھلواتے ہیں لیکن دروازہ نہیں کھولا جاتا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوں گے تاوقتیکہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائ
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة، لضعف يونس ابن خباب
حدیث نمبر: 18615
ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي إِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ ، وَانْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا ، تَنَزَّلَتْ إِلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ كَأَنَّ عَلَى وُجُوهِهِمْ الشَّمْسَ ، مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ كَفَنٌ وَحَنُوطٌ ، فَجَلَسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ، حَتَّى إِذَا خَرَجَ رُوحُهُ ، صَلَّى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوحِهِ مِنْ قِبَلِهِمْ ، فَإِذَا عُرِجَ بِرُوحِهِ ، قَالُوا : رَبِّ عَبْدُكَ فُلَانٌ ، فَيَقُولُ : أَرْجِعُوهُ ، فَإِنِّي عَهِدْتُ إِلَيْهِمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى " . قَالَ : " فَإِنَّهُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِهِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ ، فَيَأْتِيهِ آتٍ فَيَقُولُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ مَا دِينُكَ ؟ مَنْ نَبِيُّكَ ؟ فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللَّهُ ، وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْتَهِرُهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ مَا دِينُكَ ؟ مَنْ نَبِيُّكَ ؟ وَهِيَ آخِرُ فِتْنَةٍ تُعْرَضُ عَلَى الْمُؤْمِنِ ، فَذَلِكَ حِينَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 . فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللَّهُ ، وَدِينِيَ الْإِسْلَامُ ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُ لَهُ : صَدَقْتَ ، ثُمَّ يَأْتِيهِ آتٍ حَسَنُ الْوَجْهِ ، طَيِّبُ الرِّيحِ ، حَسَنُ الثِّيَابِ ، فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِكَرَامَةٍ مِنَ اللَّهِ وَنَعِيمٍ مُقِيمٍ ، فَيَقُولُ : وَأَنْتَ فَبَشَّرَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ ، مَنْ أَنْتَ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ ، كُنْتَ وَاللَّهِ سَرِيعًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ ، بَطِيئًا عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَبَابٌ مِنَ النَّارِ ، فَيُقَالُ : هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ لَوْ عَصَيْتَ اللَّهَ ، أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ هَذَا ، فَإِذَا رَأَى مَا فِي الْجَنَّةِ ، قَالَ : رَبِّ عَجِّلْ قِيَامَ السَّاعَةِ كَيْمَا أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي ، فَيُقَالُ لَهُ : اسْكُنْ . وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا ، وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ ، نَزَلَتْ عَلَيْهِ مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ ، فَانْتَزَعُوا رُوحَهُ كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ الْكَثِيرُ الشِّعْبِ مِنَ الصُّوفِ الْمُبْتَلِّ ، وَتُنْزَعُ نَفْسُهُ مَعَ الْعُرُوقِ ، فَيَلْعَنُهُ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ ، وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ لَا تَعْرُجَ رُوحُهُ مِنْ قِبَلِهِمْ ، فَإِذَا عُرِجَ بِرُوحِهِ قَالُوا : رَبِّ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ عَبْدُكَ ، قَالَ : أَرْجِعُوهُ ، فَإِنِّي عَهِدْتُ إِلَيْهِمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى " . قَالَ : " فَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِ أَصْحَابِهِ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ " . قَالَ : " فَيَأْتِيهِ آتٍ فَيَقُولُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ مَا دِينُكَ ؟ مَنْ نَبِيُّكَ ؟ فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي ، فَيَقُولُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَوْتَ ، وَيَأْتِيهِ آتٍ قَبِيحُ الْوَجْهِ ، قَبِيحُ الثِّيَابِ ، مُنْتِنُ الرِّيحِ ، فَيَقُولُ : أَبْشِرْ بِهَوَانٍ مِنَ اللَّهِ وَعَذَابٍ مُقِيمٍ ، فَيَقُولُ : وَأَنْتَ فَبَشَّرَكَ اللَّهُ بِالشَّرِّ ، مَنْ أَنْتَ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ ، كُنْتَ بَطِيئًا عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ ، سَرِيعًا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، فَجَزَاكَ اللَّهُ شَرًّا ، ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَصَمُّ أَبْكَمُ فِي يَدِهِ مِرْزَبَةٌ ، لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ كَانَ تُرَابًا ، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً حَتَّى يَصِيرَ تُرَابًا ، ثُمَّ يُعِيدُهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ ، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أُخْرَى ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ " قَالَ : الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ " ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ وَيُمَهَّدُ مِنْ فُرُشِ النَّارِ " . قال عبد الله : وحَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَن يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يونس ابن خباب
حدیث نمبر: 18616
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَن مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَن طَلْحَةَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ النَّهْمِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْأُوَلِ ، وَزَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ ، وَمَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ لَبَنٍ ، أَوْ مَنِيحَةَ وَرِقٍ ، أَوْ هَدَى زُقَاقًا ، فَهُوَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلی صفوں والوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔ اور فرماتے تھے کہ قرآن کریم کو اپنے آواز سے مزین کیا کرو۔ اور جو شخص کسی کوئی ہدیہ مثلاً چاندی سونا دے یا کسی کو دودھ پلادے یا کسی کو مشکیزہ دے دے تو یہ ایسے ہے جیسے ایک غلام کو آزاد کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18617
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَن سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اضْطَجَعَ الرَّجُلُ ، فَتَوَسَّدَ يَمِينَهُ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ إِلَيْكَ أَسْلَمْتُ نَفْسِي ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ إِلَيْكَ ظَهْرِي ، وَوَجَّهْتُ إِلَيْكَ وَجْهِي ، رَهْبَةً مِنْكَ وَرَغْبَةً إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ ، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ ، أَوْ بُوِّئَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بستر پر آئے اور دائیں ہاتھ کا تکیہ بناکر یوں کہہ لیا کرے اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارا بنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرجائے تو اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنادیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 247، م: 2710 دون قوله: بني له بيت فى الجنة أو بويء له بيت فى الجنة، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم
حدیث نمبر: 18618
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَن الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَن طَلْحَةَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ لَا يَتَخَلَّلُكُمْ كَأَوْلَادِ الْحَذَفِ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا أَوْلَادُ الْحَذَفِ ؟ قَالَ : " سُودٌ جُرْدٌ تَكُونُ بِأَرْضِ الْيَمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صفیں سیدھی رکھا کرو اور صفوں کے درمیان " حذف " جیسے بچے نہ کھڑے ہوں کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! حذف جیسے بچوں سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا وہ کالے سیاہ بےریش جو سر زمین یمن میں ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18619
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَن الْبَرَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَا جَفَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دیہات میں رہتا ہے وہ اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18620
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَن مُطَرِّفٍ ، عَن أَبِي الْجَهْمِ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ يَقْتُلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف کچھ لوگوں کو بھیجا جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرلی کہ اس کی گردن اڑادو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18621
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَأَظُنُّ أَنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ يَقُولُ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا ، فَيَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ : " لَا تَخْتَلِفْ صُفُوفُكُمْ فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ ، أَوْ الصُّفُوفِ الْأُولَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صف کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک نمازیوں کے سینے اور کندھے درست کرتے ہوئے آتے تھے اور فرماتے تھے کہ آگے پیچھے مت ہوا کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا اور فرماتے تھے کہ پہلی صفوں والوں پر اللہ تعالیٰ نزول رحمت اور فرشتے دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو إسحاق الهمداني السبيعي مختلط، ورواية جرير بن حازم عنه لا يدرى أقبل الاختلاط أم بعده ؟
حدیث نمبر: 18622
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَكِيٍّ ذَمَّةٍ ، فَنَزَلَ فِيهَا سِتَّةٌ أَنَا سَابِعُهُمْ ، أَوْ سَبْعَةٌ أَنَا ثَامِنُهُمْ ، قَالَ : مَاحَةً ، فَأُدْلِيَتْ إِلَيْنَا دَلْوٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ ، فَجَعَلْتُ فِيهَا نِصْفَهَا أَوْ قِرَابَ ثُلُثِهَا ، فَرُفِعَتْ الدَّلْوُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ الْبَرَاءُ : وَكِدْتُ بِإِنَائِي هَلْ أَجِدُ شَيْئًا أَجْعَلُهُ فِي حَلْقِي فَمَا وَجَدْتُ ، فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، وَأُعِيدَتْ إِلَيْنَا الدَّلْوُ بِمَا فِيهَا ، فَلَقَدْ أُخْرِجَ آخِرُنَا بِثَوْبٍ مَخَافَةَ الْغَرَقِ ، ثُمَّ سَاحَتْ ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : رَهْبَةَ الْغَرَقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے ہم ایک کنوئیں پر پہنچے جس میں تھوڑا سا پانی رہ گیا تھا چھ آدمی جن میں سے ساتوں میں بھی تھا اس میں اترے پھر ڈول لٹکائے گئے کنوئیں کی منڈیر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے ہم نے نصف یا دو تہائی کے قریب پانی ان میں ڈالا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا کردیا گیا میں نے اپنے برتن کو اچھی طرح چیک کیا کہ اتنا پانی ہی مل جائے جسے میں اپنے حلق میں ڈال سکوں لیکن نہیں مل سکا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ڈول میں ہاتھ ڈالا اور کچھ کلمات " جو اللہ کو منظور تھے " پڑھے اس کے بعد وہ ڈول ہمارے پاس واپس آگیا (جب وہ کنوئیں میں انڈیلا گیا تو ہم کنوئیں میں ہی تھے) میں نے اپنے آخری ساتھی کو دیکھا کہ اسے کپڑے سے پکڑ کر باہر نکالا گیا کہ کہیں وہ غرق ہی نہ ہوجائے اور پانی کی جل تھل ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال يونس
حدیث نمبر: 18623
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَن عَاصِمٍ ، عَن الشَّعْبِيِّ ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرٍ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ نَضِيجًا وَنِيئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا تھا خواہ وہ کچا ہو یا پکا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4226، م: 1938
حدیث نمبر: 18624
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَن أَبِي الضُّحَى ، عَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ، فَقَالَ : " ادْفِنُوهُ بِالْبَقِيعِ ، فَإِنَّ لَهُ مُرْضِعًا يُتِمُّ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی جن کا انتقال صرف سولہ مہینے کی عمر میں ہوگیا تھا اور فرمایا جنت میں ان کے لئے دائی کا مقرر کی گئی ہے جوان کی مدت رضاعت کی تکمیل کرے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح