حدیث نمبر: 18545
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، قَالَ : " صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ مَكَّةَ عَلَى أَنْ يُقِيمُوا ثَلَاثًا ، وَلَا يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ " . قَالَ : قُلْتُ : وَمَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ ؟ قَالَ : الْقِرَابُ وَمَا فِيهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے اس شرط پر صلح کی تھی کہ وہ مکہ مکرمہ میں صرف تین دن قیام کریں گے اور صرف جلبان سلاح " لے کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوسکیں گے، راوی نے " جلبان السلاح " کا معنی پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میان اور تلوار۔
حدیث نمبر: 18546
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ الْبَرَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَقْبَلَ مِنْ سَفَرٍ ، قَالَ : " آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی سفر سے واپس آتے تو یہ دعا پڑھتے کہ ہم توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں اور ہم اپنے رب کے عبادت گذار اور اس کے ثناء خواں ہیں۔
حدیث نمبر: 18547
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ، فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 18548
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، قَالَ : لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ ، وَأَخَذَ بِيَدِي ، وَضَحِكَ فِي وَجْهِي ، قَالَ : تَدْرِي لِمَ فَعَلْتُ هَذَا بِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، وَلَكِنْ لَا أَرَاكَ فَعَلْتَهُ إِلَّا لِخَيْرٍ ، قَالَ : إِنَّهُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَعَلَ بِي مِثْلَ الَّذِي فَعَلْتُ بِكَ ، فَسَأَلَنِي ، فَقُلْتُ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ لِي ، فَقَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ، فَيُسَلِّمُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَيَأْخُذُ بِيَدِهِ ، لَا يَأْخُذُهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، لَا يَتَفَرَّقَانِ ، حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے مجھے سلام کیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر میرے سامنے مسکرانے لگے پھر فرمایا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہارے ساتھ اس طرح کیوں کیا ؟ میں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں البتہ آپ نے خیر کے ارادے سے ہی ایسا کیا ہوگا، انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا اور مجھ سے بھی یہی سوال پوچھا تھا اور میں نے بھی تمہارے والا جواب دیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو سلام کرتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے جو صرف اللہ کی رضاء کے لئے ہو " تو جب وہ دونوں جدا ہوتے ہیں تو ان کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 18549
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَجْلَحُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ الْعَدُوَّ غَدًا ، وَإِنَّ شِعَارَكُمْ حم لَا يُنْصَرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ارشاد فرمایا کہ کل تمہارا دشمن سے آمنا سامنا ہوگا اس وقت تمہارا شعار (شناختی علامت) " لاینصرون " کا لفظ ہوگی۔
حدیث نمبر: 18550
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : أُرَاهُ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْفَنَ فِي الْبَقِيعِ ، وَقَالَ : " إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا تُرْضِعُهُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی جن کا انتقال صرف سولہ مہینے کی عمر میں ہوگیا تھا پھر انہیں جنت البقیع میں دفن کرنے کا حکم دیا اور فرمایا جنت میں ان کے لئے دائی کا مقرر کی گئی ہے جوان کی مدت رضاعت کی تکمیل کرے گی
حدیث نمبر: 18551
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ : " إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا يُرْضِعُهُ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا جنت میں ان کے لئے دائی کا مقرر کی گئی ہے جوان کی مدت رضاعت کی تکمیل کرے گی
حدیث نمبر: 18552
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ ، وَضَعَ يَدَهُ عَلَى خَدِّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو دائیں ہاتھ کا تکیہ بناتے اور یہ دعاء پڑھتے اے اللہ ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔
حدیث نمبر: 18553
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَحَبَّ أَوْ مِمَّا يُحِبُّ أَنْ يَقُومَ عَنْ يَمِينِهِ ، قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ " أَوْ " تَجْمَعُ عِبَادَكَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھتے تو اس بات کو اچھا سمجھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب کھڑے ہوں اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پروردگار ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع فرمائے گا مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18554
حَدَّثَنَاه أَبُو نُعَيْمٍ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثَابِتٌ ، عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ ، عَنِ الْبَرَاءِ .
حدیث نمبر: 18555
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَسُفْيَانُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ عِدَّةَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ يَوْمَ جَالُوتَ ثَلَاثَ مِئَةٍ ، وَبِضْعَةَ عَشَرَ ، الَّذِينَ جَازُوا مَعَهُ النَّهْرَ ، قَالَ : وَلَمْ يُجَاوِزْ مَعَهُ النَّهْرَ إِلَّا مُؤْمِنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ آپس میں یہ گفتگو کرتے تھے کہ غزوہ بدر کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی تعداد حضرت طالوت کے ساتھیوں کی تعداد کے برابر " جو جالوت سے جنگ کے موقع پر تھی " تین سو تیرہ تھی حضرت طالوت کے یہ وہی ساتھی تھے جنہوں نے ان کے ساتھ نہر کو عبور کیا تھا اور نہر وہی شخص عبور کرسکا تھا جو مؤمن تھا۔
حدیث نمبر: 18556
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ، جَاءَ عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَأْمُرُنِي ؟ إِنِّي ضَرِيرُ الْبَصَرِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ ، أَوْ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء قرآن کریم کی یہ آیت ہوئی کہ " مسلمانوں میں سے جو لوگ جہاد کے انتظار میں بیٹھے ہیں وہ اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے بھی برابر نہیں ہوسکتے " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو بلا کر حکم دیا " وہ شانے کی ایک ہڈی لے آئے اور اس پر یہ آیت لکھ دی، اس پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو اس آیت میں " غیراولی الضرر " کا لفظ مزید نازل ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس شانے کی ہڈی یا تختی اور دوات لے کر آؤ۔
حدیث نمبر: 18557
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ ، فقلت : أين تريد ؟ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَنْ " أَضْرِبَ عُنُقَهُ ، أَوْ أَقْتُلَهُ وَآخُذَ مَالَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن اپنے ماموں سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرلی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن اڑادوں اور اس کا مال چھین لوں۔
حدیث نمبر: 18558
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَهُ شَعَرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ ، بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ ، لَيْسَ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ جوڑا زیب تن فرما رکھا تھا میں نے ان سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا صلی اللہ علیہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ہلکے گھنگھریالے قد درمیانہ دونوں کندھوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ اور کانوں کی لوتک لمبے بال تھے
حدیث نمبر: 18559
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ غزوات میں شرکت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 18560
مولانا ظفر اقبال
یہ حدیث کتاب میں موجود نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 18561
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ : " إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ طَاهِرًا ، فَقُلْ : اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، وَلَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ ، مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ ، أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا كَثِيرًا " . قال عبد الله : قال أبي : سَمِعَهُ فِطْرٌ مِنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آیا کرے تو یوں کہہ لیا کرے اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیا اپنے چہرے کو تیری طرف متوجہ کرلیا اپنے معاملات کو تیرے سپرد کردیا اور اپنی پشت کا تجھ ہی کو سہارا بنا لیا تیری ہی رغبت ہے تجھ ہی سے ڈر ہے تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور پناہ گاہ نہیں میں تیری اس کتاب پر ایمان لے آیا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیج دیا اگر یہ کلمات کہنے والا اسی رات میں مرجائے تو وہ فطرت پر مرے گا۔ اگر صبح پالی تو خیر کثیر کے ساتھ صبح کروگے۔
حدیث نمبر: 18562
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کی سزاجاری فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 18563
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : انْتَهَيْنَا إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ ، وَهِيَ بِئْرٌ قَدْ نُزِحَتْ ، وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً ، قَالَ : فَنُزِعَ مِنْهَا دَلْوًا " فَتَمَضْمَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ ، ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ وَدَعَا " ، قَالَ : فَرُوِينَا وَأَرْوَيْنَا وَقَالَ وَكِيعٌ أَرْبَعَةَ عَشْرَ مِائَةً .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ پہنچے جو ایک کنواں تھا اور اس کا پانی بہت کم ہوچکا تھا، ہم چودہ سو افراد تھے اس میں سے ایک ڈول نکالا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے پانی لے کر کلی کی اور کلی کا پانی کنوئیں میں ہی ڈال دیا اور دعاء فرمادی اور ہم اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔
حدیث نمبر: 18564
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً بِالْحُدَيْبِيَةِ ، وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ ، فَنَزَحْنَاهَا ، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا شَيْئًا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَجَاءَ ، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا ، فَدَعَا بِإِنَاءٍ ، فَمَضْمَضَ ، ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ " ، ثُمَّ تَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ، فَأَصْدَرَتْنَا نَحْنُ وَرِكَابُنَا ، نَشْرَبُ مِنْهَا مَا شِئْنَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حدیبیہ پہنچے جو ایک کنواں تھا اور اس کا پانی بہت کم ہوچکا تھا، ہم چودہ سو افراد تھے اس میں سے ایک ڈول نکالا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے پانی لے کر کلی کی اور کلی کا پانی کنوئیں میں ہی ڈال دیا اور دعاء فرمادی اور ہم اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔
حدیث نمبر: 18565
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُسْلِمُ أَوْ أُقَاتِلُ ؟ قَالَ : " لَا ، بَلْ أَسْلِمْ ، ثُمَّ قَاتِلْ " . فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ ، فَقُتِلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک انصاری آیا جو لوہے میں غرق تھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں پہلے اسلام قبول کروں یا پہلے جہاد میں شریک ہوجاؤں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اسلام قبول کرلو پھر جہاد میں شریک ہوجاؤ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس جہاد میں شہید ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے عمل تو تھوڑا کیا لیکن اجربہت لے گیا۔
حدیث نمبر: 18566
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ ب التِّينِ وَالزَّيْتُونِ ، قَالَ : وَمَا سَمِعْتُ إِنْسَانًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز عشاء کی ایک رکعت میں سورت والتین کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا میں نے ان سے اچھی قرأت کسی کی نہیں سنی۔
حدیث نمبر: 18567
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ : لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ ، كَتَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كِتَابًا بَيْنَهُمْ ، وَقَالَ : فَكَتَبَ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : لَا تَكْتُبْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، وَلَوْ كُنْتَ رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ نُقَاتِلْكَ . قَالَ : فَقَالَ لِعَلِيٍّ : " امْحُهُ " . قَالَ : فَقَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ ، فَمَحَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، قَالَ : " وَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَدْخُلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، وَلَا يَدْخُلُوهَا إِلَّا بِجُلُبَّانِ السِّلَاحِ " ، فَسَأَلْتُ : مَا جُلُبَّانُ السِّلَاحِ ؟ قَالَ : الْقِرَابُ بِمَا فِيهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حدیبیہ سے صلح کرلی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس مضمون کی دستاویز لکھنے کے لئے بیٹھے انہوں نے اس میں " محمد رسول اللہ " صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ لکھا لیکن مشرکین کہنے لگے کہ آپ یہ لفظ مت لکھیں اس لئے کہ اگر آپ اللہ کے پیغمبر ہوتے تو ہم آپ سے کبھی جنگ نہ کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس لفظ کو مٹادو حضرت علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں تو اسے نہیں مٹاسکتا، چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے اسے مٹادیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی تھی کہ وہ اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہ صرف تین دن مکہ مکرمہ میں قیام کرسکیں گے اور اپنے ساتھ صرف " جلبان سلاح " لاسکیں گے راوی نے " جلبان سلاح " کا مطلب پوچھا تو فرمایا میان اور اس کی تلوار۔
حدیث نمبر: 18568
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، قَالَ : كَانَ " أَوَّلَ مَنْ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَكَانُوا يُقْرِئُونَ النَّاسَ . قَالَ : ثُمَّ قَدِمَ بِلَالٌ وَسَعْدٌ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، ثُمَّ قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : حَتَّى جَعَلَ الْإِمَاءُ يَقُلْنَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : فَمَا قَدِمَ حَتَّى قَرَأْتُ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فِي سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں ہمارے یہاں سب سے پہلے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے تھے وہ لوگوں کو قرآن کریم پڑھاتے تھے پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ بلال رضی اللہ عنہ اور سعد رضی اللہ عنہ آئے پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیس آدمیوں کے ساتھ آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اس وقت اہل مدینہ جتنے خوش تھے میں نے انہوں اس سے زیادہ خوش کبھی نہیں دیکھا حتیٰ کہ باندیاں بھی کہنے لگیں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو میں سورت اعلیٰ وغیرہ مفصلات کی کچھ سورتیں پڑھ چکا تھا۔
حدیث نمبر: 18569
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ عَفَّانُ : قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ وَلَمْ يَسْمَعْهُ أَبُو إِسْحَاقَ مِنَ الْبَرَاءِ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْمٍ جُلُوسٍ فِي الطَّرِيقِ ، قَالَ : " إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ ، فَاهْدُوا السَّبِيلَ ، وَرُدُّوا السَّلَامَ ، وَأَغِيثُوا الْمَظْلُومَ " . قَالَ عَفَّانُ : " وَأَعِينُوا " . وحَدَّثَنَاه أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، قَالَ : " أَعِينُوا الْمَظْلُومَ " . وحَدَّثَنَاه أَسْوَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، وَقَالَ : " أَعِينُوا الْمَظْلُومَ " . وَكَذَا قَالَ حَسَينٌ : " أَعِينُوا " ، َعَنْ إِسْرَائِيلَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے اور فرمایا کہ اگر تمہارا راستے میں بیٹھے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو سلام پھیلایا کرو مظلوم کی مدد کیا کرو اور راستہ بتایا کرو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18570
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ ، وَلَقَدْ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنا " وَرُبَّمَا قَالَ : " إِنَّ الْمَلَا قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا " وَيَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خندق کی کھدائی کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ مٹی اٹھاتے جارہے ہیں اور ( عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے) یہ اشعار پڑھتے جارہے ہیں اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت پاسکتے صدقہ کرتے اور نہ ہی نماز پڑھ سکتے لہٰذا تو ہم پر سکینہ نازل فرما اور دشمن سے آمنا سامنا ہونے پر ہمیں ثابت قدمی عطا فرما ان لوگوں نے ہم پر سرکشی کی ہے اور وہ جب کسی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کردیتے ہیں اس آخری جملے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز بلند فرمالیتے ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18571
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ . عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَحْمِلُ التُّرَابَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . .
حدیث نمبر: 18572
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، وَهُوَ يَحْمِلُ التُّرَابَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حدیث نمبر: 18573
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَهَاشِمٌ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : أَصَبْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرًا ، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر کچھ گدھے ہمارے ہاتھ لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ ہانڈیاں الٹادو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18574
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ . وَابْنُ جَعْفَرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، وَابْنَ أَبِي أَوْفَى .
حدیث نمبر: 18575
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ذَكَرَ عَذَابَ الْقَبْرِ ، قَالَ : " يُقَالُ لَهُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ رَبِّي ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ " . فَذَلِكَ قَوْلُهُ : يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة إبراهيم آية 27 ، يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُسْلِمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عذاب قبر کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا قبر میں جب انسان سے سوال ہو کہ تیرا رب کون ہے اور وہ جواب دے دے کہ میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اہل ایمان کو '' ثابت شدہ قول " پر ثابت رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 18576
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ : " لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ ، مَنْ أَحَبَّهُمْ فَأَحَبَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَأَبْغَضَهُ اللَّهُ " . قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَنْتَ سَمِعْتَ الْبَرَاءَ ؟ قَالَ : إِيَّايَ يُحَدِّثُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انصار سے وہی محبت کرے گا جو مؤمن ہو اور ان سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہو جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے اور جوان سے نفرت کرے اللہ اس سے نفرت کرے۔
حدیث نمبر: 18577
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى عَاتِقِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر اٹھا رکھا تھا اور فرما رہے تھے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما۔
حدیث نمبر: 18578
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الرُّكَيْنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : مَرَّ بِنَا نَاسٌ مُنْطَلِقُونَ ، فَقُلْنَا أَيْنَ تَذْهَبُونَ ؟ فَقَالُوا : " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ أَتَى امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ نَقْتُلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہمارے پاس سے کچھ لوگ گذرے ہم نے ان سے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرلی ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ اسے قتل کردیں۔
حدیث نمبر: 18579
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : مَرَّ بِي عَمِّي الْحَارِثُ بْنُ عَمْرٍو ، وَمَعَهُ لِوَاءٌ قَدْ عَقَدَهُ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَيْ عَمِّ ، أَيْنَ بَعَثَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " بَعَثَنِي إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن اپنے چچاحارث بن عمرو سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے باپ کی بیوی (سوتیلی ماں) سے شادی کرلی ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ اسے قتل کردیں۔
حدیث نمبر: 18580
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ أَهْلُ مَكَّةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ بِسِلَاحٍ ، إِلَّا سِلَاحٍ فِي قِرَابٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے اس شرط پر صلح کی تھی کہ وہ مکہ مکرمہ میں صرف جلبان سلاح " لے کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوسکیں گے، یعنی میان اور تلوار۔
حدیث نمبر: 18581
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُمْنَا صُفُوفًا حَتَّى إِذَا سَجَدَ ، تَبِعْنَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم لوگ صفوں میں کھڑے رہتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے جاتے تب ہم آپ کی پیروی کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 18582
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ قَوْمًا فِيهِمْ كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلْأَنْصَارِ : " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً " . قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " اصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم لوگ ترجیحات سے آمنا سامنا کرو گے، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر کرنا یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملو۔
حدیث نمبر: 18583
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بُسْرَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا " فَلَمْ أَرَهُ تَرَكَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اٹھارہ سفر کیے ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی ظہر سے پہلے دو رکعتیں چھوڑتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 18584
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَكِيٍّ ذَمَّةٍ ، يَعْنِي قَلِيلَةَ الْمَاءِ ، قَالَ : فَنَزَلَ فِيهَا سِتَّةٌ أَنَا سَادِسُهُمْ مَاحَةً ، فَأُدْلِيَتْ إِلَيْنَا دَلْوٌ . قَالَ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ ، فَجَعَلْنَا فِيهَا نِصْفَهَا ، أَوْ قِرَابَ ثُلُثَيْهَا ، فَرُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ الْبَرَاءُ : فَكِدْتُ بِإِنَائِي ، هَلْ أَجِدُ شَيْئًا أَجْعَلُهُ فِي حَلْقِي ، فَمَا وَجَدْتُ ، فَرُفِعَتْ الدَّلْوُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا ، فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، فَعِيدَتْ إِلَيْنَا الدَّلْوُ بِمَا فِيهَا ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَنَا أُخْرِجَ بِثَوْبٍ خَشْيَةَ الْغَرَقِ ، قَالَ : ثُمَّ سَاحَتْ " يَعْنِي : جَرَتْ نَهْرًا . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے ہم ایک کنوئیں پر پہنچے جس میں تھوڑا سا پانی رہ گیا تھا چھ آدمی جن میں سے ایک میں بھی تھا اس میں اترے پھر ڈول لٹکائے گئے کنوئیں کی منڈیر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے ہم نے نصف یا دو تہائی کے قریب پانی ان میں ڈالا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا کردیا گیا میں نے اپنے برتن کو اچھی طرح چیک کیا کہ اتنا پانی ہی مل جائے جسے میں اپنے حلق میں ڈال سکوں لیکن نہیں مل سکا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ڈول میں ہاتھ ڈالا اور کچھ کلمات " جو اللہ کو منظور تھے " پڑھے اس کے بعد وہ ڈول ہمارے پاس واپس آگیا (جب وہ کنوئیں میں انڈیلا گیا تو ہم کنوئیں میں ہی تھے) میں نے اپنے آخری ساتھی کو دیکھا کہ اسے کپڑے سے پکڑ کر باہر نکالا گیا کہ کہیں وہ غرق ہی نہ ہوجائے اور پانی کی جل تھل ہوگئی . گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
…