حدیث نمبر: 18387
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّد ، عَنْ أَبِيْه عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ، فَرُبَّمَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ ، فَقَرَأَ بِهَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے اور اگر عیدجمعہ کے دن جاتی تو دونوں نمازوں (عید اور جمعہ) میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 878
حدیث نمبر: 18388
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي عِيسَى مُوسَى الصَّغِيرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ وَتَسْبِيحِهِ وَتَحْمِيدِهِ وَتَهْلِيلِهِ تَتَعَطَّفُ حَوْلَ الْعَرْشِ ، لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ ، يُذَكِّرُونَ بِصَاحِبِهِنَّ ، أَفَلَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ لَا يَزَالَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ شَيْءٌ يُذَكِّرُ بِهِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ اللہ کے جلال کی وجہ سے اس کی تسبیح وتحمید اور تکبیر و تہلیل کے ذریعے اس کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے یہ کلمات تسبیح عرش کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور مکھیوں جیسی بھنبھناہٹ ان سے نکلتی رہتی ہے اور وہ ذاکر کا ذکر کرتے رہتے ہیں کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ایک چیز مسلسل اللہ کے یہاں اس کا ذکر کرتی رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18389
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، قال : سمعت رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی صفوں کو درست (سیدھا) رکھا کرو ورنہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 717، م: 436
حدیث نمبر: 18390
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَجُلٌ يُجْعَلُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کے پاؤں میں آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور ان سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6562، م: 213
حدیث نمبر: 18391
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ يُسَيْعٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ " ، ثُمَّ قَرَأَ : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ سورة غافر آية 60 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دعاء ہی اصل عبادت ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " مجھ سے دعاء مانگو، میں تمہاری دعاء قبول کروں گا "
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18392
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ ، يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج گرہن کے موقع پر اسی طرح نماز پڑھائی تھی جیسے تم عام طور پر پڑھتے ہو اور اسی طرح رکوع سجدہ کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو قلابة لم يسمع من النعمان
حدیث نمبر: 18393
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ ، إِنْ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ ، وَإِنْ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے سر کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور اگر آنکھ میں تکلیف ہوتب بھی سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے،۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6011، م: 2586
حدیث نمبر: 18394
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعِيزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : جَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعَ عَائِشَةَ وَهِيَ رَافِعَةٌ صَوْتَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَدَخَلَ ، فَقَالَ : يَا ابْنَةَ أُمِّ رُومَانَ ! وَتَنَاوَلَهَا ، أَتَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! قَالَ : فَحَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا . قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ ، جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهَا يَتَرَضَّاهَا : " أَلَا تَرَيْنَ أَنِّي قَدْ حُلْتُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَكِ " ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ ، فَوَجَدَهُ يُضَاحِكُهَا ، قَالَ : فَأَذِنَ لَهُ ، فَدَخَلَ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَشْرِكَانِي فِي سِلْمِكُمَا ، كَمَا أَشْرَكْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کرنے لگے اسی دوران حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی اونچی ہوتی ہوئی آواز ان کے کانوں میں پہنچی، اجازت ملنے پر جب وہ اندر داخل ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا اور فرمایا اسے بنت رومان ! کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کرتی ہو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیان میں آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو بچالیا۔ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو چھیڑتے ہوئے فرمانے لگے دیکھا ! میں نے تمہیں اس شخص سے کس طرح بچایا ؟ تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دوبارہ آئے اور اجازت لے کر اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو ہنسا رہے ہیں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی صلح میں مجھے بھی شامل کرلیجئے جیسے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18395
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي عَازِبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ شَيْءٍ خَطَأٌ إِلَّا السَّيْفَ ، وَلِكُلِّ خَطَأٌ أَرْشٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کی ایک خطا ہوتی ہے سوائے تلوار کے اور ہر خطا کا تاوان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا الضعف جابر، ولجهالة أبى عازب، وقد اختلف فيه على جابر
حدیث نمبر: 18396
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ أَوْ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِوَقْتِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ، كَانَ يُصَلِّيهَا مِقْدَارَ مَا يَغِيبُ الْقَمَرُ لَيْلَةَ ثَالِثَةٍ ، أَوْ رَابِعَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عشاء میں تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز آغاز مہینہ کی تیسری رات میں سقوط قمر کے بعد پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18397
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَأَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : رُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَجُلٌ أَحَلَّتْ لَهُ امْرَأَتُهُ جَارِيَتَهَا ، فَقَالَ : لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَئِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ ، لَأَجْلِدَنَّهُ مِائَةَ جَلْدَةٍ ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ ، لَأَرْجُمَنَّهُ " . قَالَ : فَوَجَدَهَا قَدْ أَحَلَّتْهَا لَهُ ، فَجَلَدَهُ مِئَةً.
مولانا ظفر اقبال
حبیب بن سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کردوں گا معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، قتادة لم يسمع هذا الحديث من حبيب بن سالم، ثم فيه اضطراب
حدیث نمبر: 18398
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ : " أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ ، أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ ، أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ " . حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِالسُّوقِ ، لَسَمِعَهُ مِنْ مَقَامِي هَذَا ، قَالَ : حَتَّى وَقَعَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَى عَاتِقِهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ.
مولانا ظفر اقبال
سماک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کو چادر اوڑھے ہوئے خطاب کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے میں نے تمہیں جہنم سے ڈرا دیا ہے اگر کوئی شخص اتنی اتنی مسافت پر ہوتا تب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کو سن لیتا، حتیٰ کہ ان کے کندھے پر پڑی ہوئی چادرپاؤں پر آگری۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18399
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ ، أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ " . حَتَّى لَوْ كَانَ رَجُلٌ كَانَ فِي أَقْصَى السُّوقِ ، سَمِعَهُ ، وَسَمِعَ أَهْلُ السُّوقِ صَوْتَهُ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ.
مولانا ظفر اقبال
سماک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کو چادراوڑھے ہوئے خطاب کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے میں نے تمہیں جہنم سے ڈرا دیا ہے اگر کوئی شخص اتنی اتنی مسافت پر ہوتا تب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کو سن لیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18400
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّينَا فِي الصُّفُوفِ ، حَتَّى كَأَنَّمَا يُحَاذِي بِنَا الْقِدَاحَ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُكَبِّرَ ، رَأَى رَجُلًا شَاخِصًا صَدْرُهُ ، فَقَالَ : " لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو اس طرح درست کرواتے تھے جیسے ہماری صفوں سے تیروں کو سیدھا کر رہے ہوں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تکبیر کہنے کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ ایک آدمی کا سینہ باہر نکلا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی صفوں کو درست (سیدھا) رکھا کرو ورنہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 717، م: 436
حدیث نمبر: 18401
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَمَثَلِ الصَّائِمِ نَهَارَهُ ، وَالْقَائِمِ لَيْلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ مَتَى يَرْجِعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا راہ اللہ میں جہاد کرنے والے کی مثال " جب تک وہ واپس نہ آجائے خواہ جب بھی واپس آئے " اس شخص کی طرح ہے جو صائم النہار اور قائم اللیل ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فى رفعه وقفه على سماك، والصحيح وقفه
حدیث نمبر: 18402
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو طَلْحَةَ الْأَنْمَارِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ ، " قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ قَامَ بِنَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِكَ الْفَلَاحَ " . قَالَ : وَكُنَّا نَدْعُو السُّحُورَ الْفَلَاحَ ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُولُ : لَيْلَةُ السَّابِعَةِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَأَنْتُمْ تَقُولُونَ : لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ السَّابِعَةُ ، فَمَنْ أَصَوْبُ نَحْنُ أَوْ أَنْتُمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حمص کے منبر سے فرما رہے تھے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کی ٢٣ ویں شب کو رات کی پہلی تہائی تک قیام میں مصروف رہے پھر ٢٥ ویں شب کو نصف رات تک ہم نے قیام کیا پھر ٢٧ ویں شب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اتناطویل قیام کرایا کہ ہمیں خطرہ ہو کیا کہ کہیں سحری کا وقت نہ نکل جائے اس لئے ہم تو کہتے تھے کہ عشرہ اخیرہ کی ساتویں رات ٢٧ ویں شب بنتی ہے اور تم لوگ کہتے ہو کہ ٢٣ ویں ساتویں رات بنتی ہے اب تم ہی بتاؤ کہ کون صحیح ہے، تم یا ہم ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18403
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً : وَرِقًا أَوْ ذَهَبًا ، أَوْ سَقَى لَبَنًا ، أَوْ أَهْدَى زِقَاقًا ، فَهُوَ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی کوئی ہدیہ مثلاً چاندی سونا دے یا کسی کو دودھ پلادے یا کسی کو مشکیزہ دے دے تو یہ ایسے ہے جیسے ایک غلام کو آزاد کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18404
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : صَحِبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ فِتَنًا كَأَنَّهَا قِطَعُ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا ، ثُمَّ يُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا ، ثُمَّ يُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا يَسِيرٍ ، أَوْ بِعَرَضِ الدُّنْيَا " . قَالَ الْحَسَنُ : وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْنَاهُمْ صُوَرًا وَلَا عُقُولَ ، أَجْسَامًا وَلَا أَحْلَامَ ، فَرَاشَ نَارٍ وَذِبَّانَ طَمَعٍ ، يَغْدُونَ بِدِرْهَمَيْنِ ، وَيَرُوحُونَ بِدِرْهَمَيْنِ ، يَبِيعُ أَحَدُهُمْ دَيْنَهُ بِثَمَنِ الْعَنْزِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کا شرف حاصل کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے پہلے فتنے اس طرح رونماہوں گے جیسے تاریک رات کے حصے ہوتے ہیں اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مسلمان اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مسلمان اور صبح کو کافر ہوگا اور لوگ اپنے دین و اخلاق کو دنیا کے ذرا سے مال ومتاع کے عوض بیچ دیں گے۔ حسن کہتے ہیں کہ بخدا ! ہم ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں ان کی شکلیں تو ہیں لیکن عقل نام کو نہیں، جسم تو ہیں لیکن دانائی کا نام نہیں یہ آگ کے پروانے اور حرص وہوا کی مکھیاں ہیں جو صبح وشام دو دو درہم لے کر خوش ہوجاتے ہیں اور ایک بکری کی قیمت کے عوض اپنا دین فروخت کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من النعمان بن بشير، ومبارك بن فضالة حجة فيما يرويه عن الحسن، وقد توبع
حدیث نمبر: 18405
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، فَقَالَتْ : إِنَّ زَوْجَهَا وَقَعَ عَلَى جَارِيَتِهَا ، فَقَالَ : سَأَقْضِي فِي ذَلِكَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كُنْتِ أَحْلَلْتِيهَا لَهُ ، ضَرَبْتُهُ مِائَةَ سَوْطٍ ، وَإِنْ لَمْ تَكُونِي أَحْلَلْتِيهَا لَهُ ، رَجَمْتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حبیب بن سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کردوں گا (معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے ) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18406
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ بَشِيرٌ رَجُلًا يَكُفُّ حَدِيثَهُ ، فَجَاءَ أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ، فَقَالَ : يَا بَشِيرُ بْنَ سَعْدٍ ، أَتَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأُمَرَاءِ ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَهُ ، فَجَلَسَ أَبُو ثَعْلَبَةَ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْفَعَهَا ، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا ، فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ " . ثُمَّ سَكَتَ . قَالَ حَبِيبٌ : فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَكَانَ يَزِيدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي صَحَابَتِهِ ، فَكَتَبْتُ إِلَيْهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أُذَكِّرُهُ إِيَّاهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنِّي أَرْجُو أَنْ يَكُونَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، يَعْنِي عُمَرَ ، بَعْدَ الْمُلْكِ الْعَاضِّ وَالْجَبْرِيَّةِ ، فَأُدْخِلَ كِتَابِي عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَسُرَّ بِهِ ، وَأَعْجَبَهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے بشیر اپنی احادیث روک رکھتے تھے ہماری مجلس میں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ اے بشیر سعد ! کیا امراء حوالے سے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث یاد ہے ؟ حضرت حذیفہ ! فرمانے لگے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یاد ہے حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا تمہارے درمیان نبوت موجود رہے گی پھر اللہ اسے اٹھانا چاہئے گا تو اٹھالے گا پھر طریقہ نبوت پر گامزن خلافت ہوگی اور وہ بھی اس وقت رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا پھر اللہ اسے اٹھانا چاہئے گا تو اٹھالے گا پھر کاٹ کھانے والی حکومت ہوگی اور وہ بھی اس وقت رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا پھر اللہ اسے اٹھانا چاہئے گا تو اٹھالے گا اس کے بعد ظلم کی حکومت ہوگی اور وہ بھی اس وقت رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا پھر اللہ اسے اٹھانا چاہئے گا تو اٹھالے گا پھر طریقہ نبوت پر گامزن خلافت آجائے گی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ راوی حدیث حبیب کہتے ہیں کہ جب عمربن عبدالعزیز خلفیہ مقرر ہوئے تو یزید بن نعمان رضی اللہ عنہ ان کے مشیربنے میں نے یزید بن نعمان کو یاد دہانی کرانے کے لئے خط میں یہ حدیث لکھ کر بھیجی اور آخر میں لکھا کہ مجھے امید ہے کہ امیر المؤمنین کی حکومت کاٹ کھانے والی اور ظلم کی حکومت کے بعد آئی ہے یزید بن نعمان نے میرا یہ خط امیر المؤمنین کی خدمت میں پیش کیا جسے پڑھ کر وہ بہت مسرور اور خوش ہوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18407
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ السَّرِيَّ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ الشَّعْبِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا ، وَمِنْ الشَّعِيرِ خَمْرًا ، وَمِنْ الزَّبِيبِ خَمْرًا ، وَمِنْ التَّمْرِ خَمْرًا ، وَمِنْ الْعَسَلِ خَمْرًا ، وَأَنَا أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ شراب کشمش کی بھی بنتی ہے کھجور کی بھی، گندم کی بھی، جو کی بھی اور شہد کی بھی ہوتی ہے اور ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح من قول عمر موقوفاً عدا قوله: وأنا أنهي عن كل مسكر فصحيح مرفوعاً بشواهده، وهذا إسناد اختلف فيه على الشعبي
حدیث نمبر: 18408
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَبَهْزٌ الْمَعْنَى ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : أَظُنُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَافَرَ رَجُلٌ بِأَرْضٍ تَنُوفَةٍ قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ : يَعْنِي فَلَاةً ، فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ ، وَعَلَيْهَا سِقَاؤُهُ وَطَعَامُهُ ، فَاسْتَيْقَظَ ، فَلَمْ يَرَهَا ، فَعَلَا شَرَفًا ، فَلَمْ يَرَهَا ، ثُمَّ عَلَا شَرَفًا ، فَلَمْ يَرَهَا ، ثُمَّ الْتَفَتَ ، فَإِذَا هُوَ بِهَا تَجُرُّ خِطَامَهَا ، فَمَا هُوَ بِأَشَدَّ بِهَا فَرَحًا مِنَ اللَّهِ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ " . قَالَ بَهْزٌ : " عَبْدِهِ إِذَا تَابَ إِلَيْهِ " . قَالَ بَهْزٌ : قَالَ حَمَّادٌ : أَظُنُّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی کسی جنگل کے راستے سفر پر روانہ ہوا راستے میں وہ ایک درخت کے نیچے قیلولہ کرے اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا ہو وہ آدمی جب سو کر اٹھے تو اسے اپنی سواری نظر نہ آئے وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ کر دیکھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر پیچھے مڑ کر دیکھے تو اچانک اسے اپنی سواری نظر آجائے جو اپنی لگام گھسیٹتی چلی جارہی ہو تو وہ کتنا خوش ہوگا لیکن اس کی یہ خوشی اللہ کی اس خوشی سے زیادہ نہیں ہوتی جب بندہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے اور اللہ خوش ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فى رفعه ووقفه، وموقوفه أصح
حدیث نمبر: 18409
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْجُمُعَةِ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ، وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ ، فَقَرَأَ بِهِمَا " . وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ : وَرُبَّمَا اجْتَمَعَ عِيدَانِ فِي يَوْمٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے اور اگر عیدجمعہ کے دن جاتی تو دونوں نمازوں (عید اور جمعہ) میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 878
حدیث نمبر: 18410
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ يقول : نَحَلَنِي أَبِي غُلَامًا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُشْهِدَهُ ، فَقَالَ : " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں کوئی تحفہ دیا پھر میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوئے اور انہیں اس پر گواہ بننے کے لئے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، مجالد ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18411
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، سَمِعَهُ مِنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَثَلُ الْمُدَّهِنِ وَالْوَاقِعِ فِي حُدُودِ اللَّهِ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : الْقَائِمِ فِي حُدُودِ اللَّهِ مَثَلُ ثَلَاثَةٍ رَكِبُوا فِي سَفِينَةٍ ، فَصَارَ لِأَحَدِهِمْ أَسْفَلُهَا وَأَوْعَرُهَا وَشَرُّهَا ، فَكَانَ يَخْتَلِفُ ، وَثَقُلَ عَلَيْهِ كُلَّمَا مَرَّ ، فَقَالَ : أَخْرِقُ خَرْقًا يَكُونُ أَهْوَنَ عَلَيَّ ، وَلَا يَكُونُ مُخْتَلَفِي عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا يَخْرِقُ فِي نَصِيبِهِ ، وَقَالَ آخَرُونَ : لَا ، فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ ، نَجَا وَنَجَوْا ، وَإِنْ تَرَكُوهُ هَلَكَ وَهَلَكُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں کوئی تحفہ دیا پھر میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوئے اور انہیں اس پر گواہ بننے کے لئے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل مجالد، وقد سلف بأسانيد صحيحة
حدیث نمبر: 18412
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حدثنا الشَّعْبِيُّ ، سَمِعَهُ مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُنْتُ إِذَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ظَنَنْتُ أَنْ لَا أَسْمَعَ أَحَدًا عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ مُضْغَةً ، إِذَا سَلِمَتْ وَصَحَّتْ ، سَلِمَ سَائِرُ الْجَسَدِ وَصَحَّ ، وَإِذَا سَقِمَتْ سَقِمَ سَائِرُ الْجَسَدِ وَفَسَدَ ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جو اگر تندرست اور صحیح ہو تو ساراجسم تندرست اور صحیح سالم رہتا ہے اور اگر وہ بیمار ہوجائے تو سارا جسم بیمار ہوجاتا ہے، یاد رکھو ! وہ دل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 52، م: 1599، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 18413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يَقُولُ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ يُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کے پاؤں میں آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور ان سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6561، م: 213
حدیث نمبر: 18414
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ ، فَأَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ ، فَخَتَمَ بِهِمَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، فَلَا يُقْرَآنِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبَهَا الشَّيْطَانُ " . قَالَ عَفَّانُ : فَلَا تُقْرَبَنَّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دوہزار سال قبل کتاب لکھ دی تھی اور اس میں سے دو آیتیں نازل کرکے ان سے سورت بقرہ کا اختتام فرمادیا لہٰذا جس گھر میں تین راتوں تک سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھی جائیں گی شیطان اس گھر کے قریب نہیں آسکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18415
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عشاء کا وقت میں تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز آغاز مہینہ کی تہائی رات کے سقوط قمر کے بعد پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18416
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ كَمَثَلِ الْجَسَدِ ، إِذَا أَلِمَ بَعْضُهُ تَدَاعَى سَائِرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے سر کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6011، م: 2586، سماك بن حرب توبع
حدیث نمبر: 18417
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ مَعْقِلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ وَهْبًا يَقُولُ : حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الرَّقِيمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ ثَلَاثَةً كَانُوا فِي كَهْفٍ ، فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلَى بَابِ الْكَهْفِ ، فَأُوصِدَ عَلَيْهِمْ ، قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ : تَذَاكَرُوا أَيُّكُمْ عَمِلَ حَسَنَةً ، لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ يَرْحَمُنَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً ، كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ ، فَجَاءَنِي عُمَّالٌ لِي ، اسْتَأْجَرْتُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَطَ النَّهَارِ ، فَاسْتَأْجَرْتُهُ بِشَطْرِ أَصْحَابِهِ ، فَعَمِلَ فِي بَقِيَّةِ نَهَارِهِ كَمَا عَمِلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فِي نَهَارِهِ كُلِّهِ ، فَرَأَيْتُ عَلَيَّ فِي الذِِّمَامِ أَنْ لَا أُنْقِصَهُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِهِ أَصْحَابَهُ ، لِمَا جَهِدَ فِي عَمَلِهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : أَتُعْطِي هَذَا مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَنِي ، وَلَمْ يَعْمَلْ إِلَّا نِصْفَ نَهَارٍ ؟ ! فَقُلْتُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَمْ أَبْخَسْكَ شَيْئًا مِنْ شَرْطِكَ ، وَإِنَّمَا هُوَ مَالِي أَحْكُمُ فِيهِ مَا شِئْتُ . قَالَ : فَغَضِبَ ، وَذَهَبَ ، وَتَرَكَ أَجْرَهُ . قَالَ : فَوَضَعْتُ حَقَّهُ فِي جَانِبٍ مِنَ الْبَيْتِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ مَرَّتْ بِي بَعْدَ ذَلِكَ بَقَرٌ ، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ فَصِيلَةً مِنَ الْبَقَرِ ، فَبَلَغَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَمَرَّ بِي بَعْدَ حِينٍ شَيْخًا ضَعِيفًا لَا أَعْرِفُهُ ، فَقَالَ : إِنَّ لِي عِنْدَكَ حَقًّا فَذَكَّرَنِيهِ حَتَّى عَرَفْتُهُ ، فَقُلْتُ : إِيَّاكَ أَبْغِي ، هَذَا حَقُّكَ ، فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ جَمِيعَهَا ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَا تَسْخَرْ بِي ، إِنْ لَمْ تَصَدَّقْ عَلَيَّ ، فَأَعْطِنِي حَقِّي . قَالَ : وَاللَّهِ لَا أَسْخَرُ بِكَ ، إِنَّهَا لَحَقُّكَ ، مَا لِي مِنْهَا شَيْءٌ ، فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ جَمِيعًا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا ، قَالَ : فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتَّى رَأَوْا مِنْهُ وَأَبْصَرُوا . قَالَ الْآخَرُ : قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي فَضْلٌ ، فَأَصَابَتْ النَّاسَ شِدَّةٌ فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ تَطْلُبُ مِنِّي مَعْرُوفًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ ، فَأَبَتْ عَلَيَّ ، فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ ، فَذَكَّرَتْنِي بِاللَّهِ ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ ، فَأَبَتْ عَلَيَّ ، وَذَهَبَتْ فَذَكَرَتْ لِزَوْجِهَا ، فَقَالَ لَهَا : أَعْطِيهِ نَفْسَكِ ، وَأَغْنِي عِيَالَكِ ، فَرَجَعَتْ إِلَيَّ فَنَاشَدَتْنِي بِاللَّهِ ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ ، أَسْلَمَتْ إِلَيَّ نَفْسَهَا ، فَلَمَّا تَكَشَّفْتُهَا وَهَمَمْتُ بِهَا ، ارْتَعَدَتْ مِنْ تَحْتِي ، فَقُلْتُ لَهَا : مَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ : أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ . قُلْتُ لَهَا : خِفْتِيهِ فِي الشِّدَّةِ ، وَلَمْ أَخَفْهُ فِي الرَّخَاءِ ! فَتَرَكْتُهَا ، وَأَعْطَيْتُهَا مَا يَحِقُّ عَلَيَّ بِمَا تَكَشَّفْتُهَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ ، فَافْرُجْ عَنَّا ، قَالَ : فَانْصَدَعَ حَتَّى عَرَفُوا ، وَتَبَيَّنَ لَهُمْ . قَالَ الْآخَرُ : عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً ، كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ ، وَكَانَتْ لِي غَنَمٌ ، فَكُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَيَّ وَأَسْقِيهِمَا ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى غَنَمِي ، قَالَ : فَأَصَابَنِي يَوْمًا غَيْثٌ حَبَسَنِي ، فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَمْسَيْتُ ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي ، وَأَخَذْتُ مِحْلَبِي ، فَحَلَبْتُ وَغَنَمِي قَائِمَةٌ ، فَمَضَيْتُ إِلَى أَبَوَيَّ ، فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا ، فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أُوقِظَهُمَا ، وَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أَتْرُكَ غَنَمِي ، فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا وَمِحْلَبِي عَلَى يَدِي حَتَّى أَيْقَظَهُمَا الصُّبْحُ ، فَسَقَيْتُهُمَا ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا ، قَالَ النُّعْمَانُ : لَكَأَنِّي أَسْمَعُ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ الْجَبَلُ : طَاقْ ، فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، فَخَرَجُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گزشتہ زمانہ میں تین آدمی جارہے تھے راستے میں بارش شروع ہوگئی یہ تینوں پہاڑ کے ایک غار میں پناہ گزین ہوئے اوپر سے ایک پتھر آکر دروازہ پر گرا اور غار کا دروازہ بند ہوگیا یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے اللہ کی قسم تمہاری یہاں سے رہائی بغیر سچائی کے اظہار کے نہیں ہوسکتی لہٰذا جس شخص نے اپنی دانست میں جو کوئی سچائی کا کام کیا ہو اس کو پیش کرکے خدا سے دعا کرے۔ مشورہ طے ہونے کے بعد ایک شخص بولا میں نے ایک مرتبہ ایک نیکی کی تھی میرے یہاں کچھ مزودر کام کررہے تھے، میں نے ان میں سے ہر ایک کو طے شدہ مزدوری پر رکھا ہوا تھا ایک دن ایک مزدور نصف النہار کے وقت میرے پاس آیا میں نے اسے اسی مزدوری پر رکھ لیا جس پر صبح سے کام کرنے والوں کو رکھا تھا چناچہ وہ دوسرے مزدوروں کی طرح باقی دن کام کرتا رہاجب مزدوری دینے کا وقت آیا تو ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ اس نے مزدوری تو نصف النہار سے کی ہے اور آپ اسے اجرت اتنی ہی دے رہے ہیں جتنی مجھے دی ہے ؟ میں نے اس سے کہا اللہ کے بندے ! میں نے تمہارے حق میں تو کوئی کمی نہیں کی آگے یہ میرا مال ہے میں جو چاہوں فیصلہ کروں اس پر وہ ناراض ہوگیا اور اپنی مزدوری بھی چھوڑ کر چلا گیا میں نے اس کا حق اٹھا کر گھرکے ایک کونے میں رکھ دیا کچھ عرصے بعد میرے پاس سے ایک گائے گذری میں نے ان پیسوں سے گائے کا بچہ خرید لیا جو بڑھتے بڑھتے پورا ریوڑ بن گیا کچھ عرصے بعد وہ انتہائی بوڑھا ہوگیا تو وہ شخص اپنی مزدوری مانگتا ہوا میرے پاس آیا میں نے کہا یہ گائے بیل لے جا وہ کہنے لگا میرے ساتھ مذاق نہ کر، میرا حق مجھے دے دے میں نے جواب دیا میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا، یہ تمہارا حق ہے یہ گائے بیل لے جا، الہٰی ! اگر تیری دانست میں میں نے یہ فعل صرف تیرے خوف سے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور فرمادے چناچہ اس کی دعا کی برکت سے پتھر کسی قد رکھل گیا۔ دوسرا شخص بولا الہٰی ! تو واقف ہے کہ ایک عورت جو میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب تھی میں نے بہلا کر اس سے کار برآری کرنا چاہی لیکن اس نے بغیر سو دینار لئے (وصل سے) انکار کردیا میں نے کوشش کرکے سو دینارحاصل کئے اور جب وہ میرے قبضہ میں آگئے تو میں نے لے جا کر اس کودے دیئے اس نے اپنے نفس کو میرے قبضہ میں دے دیا جب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو وہ کہنے لگی اللہ کا خوف کر اور بغیرحق کے مہر نہ توڑ، میں تو فوراً اٹھ کھڑا ہو اور سو دینار بھی چھوڑ دئیے، الہٰی ! اگر میرا یہ فعل صرف تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو یہ مصیبت ہم سے دور کردے چناچہ وہ پتھر مزید ہٹ گیا اور وہ باہر کی چیزیں دیکھنے لگے۔ تیسرا شخص کہنے لگا الہٰی ! تو واقف ہے کہ میرے والدین بہت بوڑھے تھے میں ان کو روزانہ شام کو اپنی بکریوں کا دودھ (دوہ کر) دیا کرتا تھا ایک روز مجھے (جنگل سے آنے میں) دیر ہوگئی جس وقت میں آیا تو وہ سوچکے تھے اور میری بیوی بچے بھوک کی وجہ سے چلا رہے تھے لیکن میرا قاعدہ تھا کہ جب تک میرے ماں باپ نہ پی لیتے تھے میں ان کو نہ پلاتا تھا (اس لئے بڑاحیران ہوا) ' نہ تو ان کو بیدار کرنا مناسب معلوم ہوا نہ یہ کچھ اچھا معلوم ہوا کہ ان کو ایسے ہی چھوڑ دوں کہ (نہ کھانے سے) ان کو کمزوری ہوجائے اور صبح تک میں ان کی (آنکھ کھلنے کے) انتظار میں (کھڑا) رہا الہٰی ! اگر تیری دانست میں میرا یہ فعل تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو ہم سے اس مصیبت کو دور فرمادے فوراً پتھر کھل گیا اور آسمان ان کو نظر آنے لگا اور وہ باہر نکل آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18418
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَلَالٌ بَيِّنٌ ، وَحَرَامٌ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ ، فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ ، أَوْ الْأَمْرِ ، فَهُوَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكُ ، وَمَنْ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ ، أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ ، وَمَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى ، يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 52، م: 1599، مؤمل سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18419
حَدَّثَنَا سُرَيجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کے درمیان عدل کیا کرو۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کے درمیان عدل کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18420
قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : حَدَّثَنِي الْقَوَارِيرِيُّ ، وَالْمُقَدَّمِيُّ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18421
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا الْعِيزَارُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ : قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا وَهِيَ تَقُولُ : وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ عَلِيًّا أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَبِي وَمِنِّي . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ ، فَدَخَلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا بِنْتَ فُلَانَةَ ! أَلَا أَسْمَعُكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کرنے لگے اسی دوران حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی اونچی ہوتی ہوئی آوازان کے کانوں میں پہنچی، اجازت ملنے پر جب وہ اندر داخل ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا اور فرمایا اسے بنت رومان ! کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کرتی ہو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیان میں آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو بچالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18422
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ ، اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کے درمیان عدل کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18423
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي الْحَرَّانِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ كَانَ فِي سَفَرٍ فِي فَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَآوَى إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ ، فَنَامَ تَحْتَهَا ، فَاسْتَيْقَظَ ، فَلَمْ يَجِدْ رَاحِلَتَهُ ، فَأَتَى شَرَفًا ، فَصَعِدَ عَلَيْهِ ، فَأَشْرَفَ ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، ثُمَّ أَتَى آخَرَ ، فَأَشْرَفَ ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ، فَقَالَ : أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ ، فَأَكُونُ فِيهِ حَتَّى أَمُوتَ " قَالَ : " فَذَهَبَ ، فَإِذَا بِرَاحِلَتِهِ تَجُرُّ خِطَامَهَا " . قَالَ : " فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی کسی جنگل کے راستے سفر پر روانہ ہوا راستے میں وہ ایک درخت کے نیچے قیلولہ کرے اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا ہو وہ آدمی جب سو کر اٹھے تو اسے اپنی سواری نظر نہ آئے وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ کر دیکھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر پیچھے مڑ کر دیکھے تو اچانک اسے اپنی سواری نظر آجائے جو اپنی لگام گھسیٹتی چلی جارہی ہو تو وہ کتنا خوش ہوگا لیکن اس کی یہ خوشی اللہ کی اس خوشی سے زیادہ نہیں ہوتی جب بندہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے اور اللہ خوش ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فى رفعه ووقفه، وموقوفه أصح
حدیث نمبر: 18424
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَازِبٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي شَهَادَةٍ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كُلُّ شَيْءٍ خَطَأٌ إِلَّا السَّيْفَ ، وَفِي كُلِّ خَطَإٍ أَرْشٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کی ایک خطا ہوتی ہے سوائے تلوار کے اور ہر خطا کا تاوان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً لضعف جابر، ولجهالة أبى عازب، وقد اختلف فيه على جابر
حدیث نمبر: 18425
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ ، وَكَانَ يُنْبَزُ قُرْقُورًا ، وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ ، قَالَ : فَرُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ : لَأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ ، جَلَدْتُكَ مِئَةً ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ ، رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ " . قَالَ : وَكَانَتْ قَدْ أَحَلَّتْهَا لَهُ ، فَجَلَدَهُ مِائَةً ، وَقَالَ : سَمِعْتُ أَبَانًا يَقُولُ : وَأَخْبَرَنَا قَتَادَةُ أَنَّهُ كَتَبَ فِيهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، وَكَتَبَ إِلَيْهِ بِهَذَا.
مولانا ظفر اقبال
حبیب بن سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کردوں گا معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، خالد بن عرفطة مجهول، ثم وفيه اضطراب
حدیث نمبر: 18426
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، وَقَالَ أَبَانُ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ فِيهِ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ ، كَانَ يُنْبَزُ قُرْقُورًا ، رُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ ، فَقَالَ : لَأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ ، جَلَدْتُكَ مِئَةً ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ ، رَجَمْتُك ، فَوَجَدَهَا قَدْ أَحَلَّتْهَا لَه ، فَجَلَدَهُ مِئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حبیب بن سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کردوں گا معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه