حدیث نمبر: 18347
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، وَالشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَلَالٌ بَيِّنٌ ، وَحَرَامٌ بَيِّنٌ ، وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ ، مَنْ تَرَكَ الشُّبُهَاتِ فَهُوَ لِلْحَرَامِ أَتْرَكُ ، وَمَحَارِمُ اللَّهِ حِمًى ، فَمَنْ أَرْتَعَ حَوْلَ الْحِمَى ، كَانَ قَمِنًا أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے۔
حدیث نمبر: 18348
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، وَالشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ وَشَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جن کی قسم گواہی پر اور گواہی قسم پر سبقت لے جائے گی۔
حدیث نمبر: 18349
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " ، قَالَ حَسَنٌ : " ثُمَّ يَنْشَأُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ ، وَشَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جن کی قسم گواہی پر اور گواہی قسم پر سبقت لے جائے گی۔
حدیث نمبر: 18350
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَفَعَهُ ، قَالَ : " إِنَّ مِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا ، وَمِنْ التَّمْرِ خَمْرًا ، وَمِنْ الْحِنْطَةِ خَمْرًا ، وَمِنْ الشَّعِيرِ خَمْرًا ، وَمِنْ الْعَسَلِ خَمْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ شراب کشمش کی بھی بنتی ہے کھجور کی بھی، گندم کی بھی، جو کی بھی اور شہد کی بھی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 18351
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، قَالَ : وَحَدَّثَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَسْأَلُ ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَسْأَلُ ، حَتَّى انْجَلَتْ الشَّمْسُ ، قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ أَوْ يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ إِذَا انْكَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا ، فَإِنَّمَا يَنْكَسِفُ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ ، وَإِنَّ ذَاكَ لَيْسَ كَذَاكَ ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ ، فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ ، خَشَعَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت نماز پڑھتے اور لوگوں سے صورت حال دریافت کرتے، پھر دو رکعت پڑھتے اور صورت حال دریافت کرتے حتیٰ کہ سورج مکمل روشن ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں لوگ کہتے ہیں کہ اگر چاند اور سورج میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے تو وہ اہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں یہ دونوں تو اللہ کی مخلوق ہیں البتہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر اپنی تجلی ظاہر فرماتا ہے تو وہ اس کے سامنے جھک جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 18352
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ يُسَيْعٍ الْكِنْدِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ " ، ثُمَّ قَرَأَ : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ، إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سورة غافر آية 60 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دعاء ہی اصل عبادت ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی مجھ سے دعاء مانگو، میں تمہاری دعاء قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے تکبر برتتے ہیں۔۔۔۔۔
حدیث نمبر: 18353
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ آلِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ، فرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ خَفَضَ ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ ، فَقَالَ : " أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَمَالَأَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَلَيْسَ مِنِّي ، وَلَا أَنَا مِنْهُ ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُمَالِئْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَهُوَ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُ ، أَلَا وَإِنَّ دَمَ الْمُسْلِمِ كَفَّارَتُهُ ، أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نماز عشاء کے بعد مسجد ہی میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا پھر نظریں جھکالیں، ہم سمجھے کہ شاید آسمان میں کوئی نیا واقعہ رونما ہوا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو ! میرے بعد کچھ جھوٹے اور ظالم حکمران بھی آئیں گے جو شخص ان کے جھوٹ کو سچ اور ان کے ظلم پر تعاون کرے اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جو ان کے جھوٹ کو سچ اور ظلم پر تعاون نہ کرے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں یاد رکھو ! مسلمان کا خون اس کا کفارہ ہے یاد رکھو ! سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ہی باقیات صالحات (باقی رہنے والی نیکیاں) ہیں۔
حدیث نمبر: 18354
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ نُحْلًا ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّ النُّعْمَانِ : أَشْهِدْ لِابْنِي عَلَى هَذَا النُّحْلِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ : " أَوَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَ مَا أَعْطَيْتَ هَذَا ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْهَدَ لَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں کوئی تحفہ دیا ان سے میری والدہ نے کہا کہ اس عطیے پر میرے بیٹے کے لئے کسی کو گواہ بنالو میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس معاملے کا ذکر کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا گواہ بننے کو اچھا نہیں سمجھا۔
حدیث نمبر: 18355
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْجَسَدِ ، إِذَا اشْتَكَى الرَّجُلُ رَأْسَهُ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے سر کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 18356
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ : وَاللَّهِ " مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ : نَبِيُّكُمْ عَلَيْهِ السَّلَام يَشْبَعُ مِنَ الدَّقَلِ ، وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ ! " .
مولانا ظفر اقبال
سماک بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا اللہ کی قسم ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک ایک مہینہ تک کبھی ردی کھجور سے اپنا پیٹ نہیں بھرا اور تم لوگ کھجور اور مکھن کے رنگوں پر ہی راضی ہو کر نہیں دیتے۔
حدیث نمبر: 18357
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ : أَحْمَدُ اللَّهَ تَعَالَى ، " فَرُبَّمَا أَتَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ يَظَلُّ يَتَلَوَّى ، مَا يَشْبَعُ مِنَ الدَّقَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
سماک بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا اللہ کی قسم ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک ایک مہینہ تک کبھی ردی کھجور سے اپنا پیٹ نہیں بھرا۔
حدیث نمبر: 18358
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : ذَهَبَ أَبِي بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى نُحْلٍ نَحَلَنِيهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَأَرْجِعْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والدنے انہیں کوئی تحفہ دیا ان سے میری والدہ نے کہا کہ اس عطیے پر میرے بیٹے کے لئے کسی کو گواہ بنالو میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس معاملے کا ذکر کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واپس چلے جاؤ۔
حدیث نمبر: 18359
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الضُّحَى ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ : انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي يُشْهِدُهُ عَلَى عَطِيَّةٍ يُعْطِينِيهَا ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَسَوِّ بَيْنَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والدنے انہیں کوئی تحفہ دیا اور اس پر گواہ بنانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس معاملے کا ذکر کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے بچے ہیں ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر سب کو برابر برابر دو ۔
حدیث نمبر: 18360
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَخْطُبُ ، وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ ، فَقَالَ : لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ : " أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ " . فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَوْضِعَ كَذَا وَكَذَا ، سَمِعَ صَوْتَهُ.
مولانا ظفر اقبال
سماک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کو چادر اوڑھے ہوئے خطاب کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے میں نے تمہیں جہنم سے ڈرا دیا ہے اگر کوئی شخص اتنی اتنی مسافت پر ہوتا تب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کو سن لیتا۔
حدیث نمبر: 18361
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَالْمُدَّهِنِ فِيهَا ، كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ فِي الْبَحْرِ ، فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا ، وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا ، فَكَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا يَصْعَدُونَ ، فَيَسْتَقُونَ الْمَاءَ ، فَيَصُبُّونَ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا ، فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا : لَا نَدَعُكُمْ تَصْعَدُونَ ، فَتُؤْذُونَنَا ، فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا : فَإِنَّنَا نَنْقُبُهَا مِنْ أَسْفَلِهَا ، فَنَسْتَقِي " قَالَ : " فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ ، فَمَنَعُوهُمْ ، نَجَوْا جَمِيعًا ، وَإِنْ تَرَكُوهُمْ غَرِقُوا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حدود اللہ کو قائم کرنے والے اور اس میں مداہنت برتنے والوں کی مثال اس قوم کی سی ہے جو کسی سمندری سفر پر روانہ ہو کچھ لوگ نچلے حصے میں بیٹھ جائیں اور کچھ لوگ اوپر والے حصے میں بیٹھ جائیں نچلے حصے والے اوپر چڑھ کر جاتے ہوں، وہاں سے پانی لاتے ہوں جس میں سے تھوڑا بہت پانی اوپروالوں پر بھی گرجاتا ہو جیسے دیکھ کر اوپر والے کہیں کہ اب ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تم ہمیں تکلیف دیتے ہو نیچے والے اس کا جواب دیں کہ ٹھیک ہے پھر ہم کشتی کے نیچے سوراخ کرکے وہاں سے پانی حاصل کرلیں گے اب اگر اوپر والے ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور انہیں اس سے باز رکھیں تو سب ہی بچ جائیں گے ورنہ سب ہی غرق ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 18362
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ الطَّحَّانَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الَّذِينَ يَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ مِنْ تَسْبِيحِهِ وَتَحْمِيدِهِ وَتَكْبِيرِهِ وَتَهْلِيلِهِ ، يَتَعَاطَفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ ، لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ ، يُذَكِّرُونَ بِصَاحِبِهِنَّ ، أَلَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ لَا يَزَالَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ شَيْءٌ يُذَكِّرُ بِهِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ اللہ کے جلال کی وجہ سے اس کی تسبیح وتحمید اور تکبیر و تہلیل کے ذریعے اس کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے یہ کلمات تسبیح عرش کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور مکھیوں جیسی بھنبھناہٹ ان سے نکلتی رہتی ہے اور وہ ذاکر کا ذکر کرتے رہتے ہیں کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ایک چیز مسلسل اللہ کے یہاں اس کا ذکر کرتی رہے۔
حدیث نمبر: 18363
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِي ، فَوَهَبَهَا لِي ، فَقَالَتْ : لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا غُلَامٌ ، وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمَّ هَذَا ابْنَةَ رَوَاحَةَ زَاوَلَتْنِي عَلَى بَعْضِ الْمَوْهِبَةِ لَهُ ، وَإِنِّي قَدْ وَهَبْتُهَا لَهُ ، وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ ، قَالَ : " يَا بَشِيْرُ ، أَلَكَ ابْنٌ غَيْرُ هَذَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قَالَ : " فَوَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ الَّذِي وَهَبْتَ لِهَذَا ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا ، فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ نے میرے والد سے مجھے کوئی چیز ہبہ کرنے کے لئے کہا انہوں نے وہ چیز مجھے ہبہ کردی، وہ کہنے لگیں کہ میں اس وقت تک مطمئن نہیں ہوسکتی جب تک تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہیں بنالیتے میں اس وقت نوعمر تھا میرے والدنے میرا ہاتھ پکڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی والدہ بنت رواحہ نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس بچے کو کوئی چیز ہبہ کردوں سو میں نے کردی وہ چاہتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بشیر ! کیا اس کے علاوہ بھی تمہارا کوئی بیٹا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔
حدیث نمبر: 18364
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ ، أَوْ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے صف اول میں شامل ہونے والوں پر صلوٰۃ پڑھتے ہیں (اللہ تعالیٰ دعاء قبول فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے لئے رحمت کی دعاء کرتے ہیں )
حدیث نمبر: 18365
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيَسْأَلُ ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيَسْأَلُ ، حَتَّى انْجَلَتْ . فَقَالَ : " إِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ إِذَا انْكَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا ، فَإِنَّمَا يَنْكَسِفُ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ ، خَشَعَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت نماز پڑھتے اور لوگوں سے صورت حال دریافت کرتے، پھر دو رکعت پڑھتے اور صورت حال دریافت کرتے حتیٰ کہ سورج مکمل روشن ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں لوگ کہتے ہیں کہ اگر چاند اور سورج میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے تو وہ اہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں یہ دونوں تو اللہ کی مخلوق ہیں البتہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر اپنی تجلی ظاہر فرماتا ہے تو وہ اس کے سامنے جھک جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 18366
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : حَمَلَنِي أَبِي بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ كَذَا وَكَذَا ، شَيْئًا سَمَّاهُ ، قَالَ : فَقَالَ : " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَأَشْهِدْ غَيْرِي " ، قال : ثُمَّ قَالَ : " أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً ؟ " قَالَ : بَلَى ، قَالَ : " فَلَا إِذًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ اس بات پر گواہ بن جائیے کہ میں نے نعمان کو فلاں فلاں چیز بخش دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی دے دیا ہے جسے اسے دیا ہے ؟ انہوں نے کہ نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کسی اور کو گواہ بنالو تھوڑی دیر بعد فرمایا کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ حس سلوک میں یہ سب تمہارے ساتھ برابر ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اس طرح تو نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 18367
قَالَ : عَبْد اللَّهِ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ : كَتَبَ إِلَيَّ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ يَعْنِي الْحَلَبِيَّ فَكَانَ فِي كِتَابِهِ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ : حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ إِلَى جَانِبِ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا أُبَاليِ أَنْ لَا أَعْمَلَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَسْقِيَ الْحَاجَّ ، وَقَالَ آخَرُ : مَا أُبَاليِ أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، وَقَالَ آخَرُ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ، فَقَالَ : " لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، وَلَكِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ ، دَخَلْتُ ، فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ سورة التوبة آية 19 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ كُلِّهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں منبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب بیٹھا ہوا تھا ایک صاحب کہنے لگے کہ اسلام لانے کے بعد مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں کوئی عمل کروں الاّ یہ کہ حجاج کرام کو پانی پلاتا ہوں دوسرے نے کہا کہ میں مسجد حرام کو آباد کرتا ہوں لہٰذا اسلام لانے کے بعد مجھے کسی عمل کی کوئی پرواہ نہیں اور تیسرے نے کہا کہ تم نے جو باتیں بیان کی ہیں ان سب سے افضل جہاد ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ منبر نبوی کے نزدیک اپنی آوازیں بلند نہ کرو وہ جمعہ کا دن تھا نماز کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گا اور اس مسئلے کے متعلق دریافت کروں گا جس میں تم اختلاف کر رہے ہو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کیا تم حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد و تعمیر کرنا اس شخص کے برابر قرار دیتے ہو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے۔ "
حدیث نمبر: 18368
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَوْمَأَ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ : " إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ ، وَإِنَّ بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُشْتَبِهَاتٍ ، لَا يَدْرِي كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ أَمِنَ الْحَلَالِ هِيَ ، أَمْ مِنَ الْحَرَامِ ، فَمَنْ تَرَكَهَا ، اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ ، وَمَنْ وَاقَعَهَا ، يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ ، فَمَنْ رَعَى إِلَى جَنْبِ حِمًى ، يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ ، وَلِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے۔
حدیث نمبر: 18369
قَالَ : وَسَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ : إِنَّ أَبِي بَشِيرًا وَهَبَ لِي هِبَةً ، فَقَالَتْ أُمِّي : أَشْهِدْ عَلَيْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمَّ هَذَا الْغُلَامِ سَأَلَتْنِي أَنْ أَهَبَ لَهُ هِبَةً ، فَوَهَبْتُهَا لَهُ ، فَقَالَتْ : أَشْهِدْ عَلَيْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُكَ لِأُشْهِدَكَ ، فَقَالَ : " رُوَيْدَكَ ، أَلَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " كُلُّهُمْ أَعْطَيْتَهُ كَمَا أَعْطَيْتَهُ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا ، إِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ ، إِنَّ لِبَنِيكَ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ نے میرے والد سے مجھے کوئی چیز ہبہ کرنے کے لئے کہا انہوں نے وہ چیز مجھے ہبہ کردی، وہ کہنے لگیں کہ میں اس وقت تک مطمئن نہیں ہوسکتی جب تک تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہیں بنالیتے میں اس وقت نو عمر تھا میرے والدنے میرا ہاتھ پکڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کی والدہ بنت رواحہ نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس بچے کو کوئی چیز ہبہ کردوں سو میں نے کردی وہ چاہتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بشیر ! کیا اس کے علاوہ بھی تمہارا کوئی بیٹا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔
حدیث نمبر: 18370
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ يَقُولُ ، وَأَوْمَأَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ ، وَالْوَاقِعِ فِيهَا ، أَوْ الْمُدَّهِنِ فِيهَا ، مَثَلُ قَوْمٍ رَكِبُوا سَفِينَةً ، فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا وَأَوْعَرَهَا وَشَرَّهَا ، وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا ، فَكَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا إِذَا اسْتَقَوْا الْمَاءَ ، مَرُّوا عَلَى مَنْ فَوْقَهُمْ ، فَآذَوْهُمْ ، فَقَالُوا : لَوْ خَرَقْنَا فِي نَصِيبِنَا خَرْقًا ، فَاسْتَقَيْنَا مِنْهُ ، وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا ، فَإِنْ تَرَكُوهُمْ وَأَمْرَهُمْ ، هَلَكُوا جَمِيعًا ، وَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ ، نَجَوْا جَمِيعًا " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان کانوں سے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حدود اللہ کو قائم کرنے والے اور اس میں مداہنت برتنے والوں کی مثال اس قوم کی سی ہے جو کسی سمندری سفر پر روانہ ہو کچھ لوگ نچلے حصے میں بیٹھ جائیں اور کچھ لوگ اوپر والے حصے میں بیٹھ جائیں نچلے حصے والے اوپر چڑھ کر جاتے ہوں، وہاں سے پانی لاتے ہوں جس میں سے تھوڑا بہت پانی اوپروالوں پر بھی گرجاتا ہو جیسے دیکھ کر اوپر والے کہیں کہ اب ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تم ہمیں تکلیف دیتے ہو نیچے والے اس کا جواب دیں کہ ٹھیک ہے پھر ہم کشتی کے نیچے سوراخ کرکے وہاں سے پانی حاصل کرلیں گے اب اگر اوپر والے ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور انہیں اس سے باز رکھیں تو سب ہی بچ جائیں گے ورنہ سب ہی غرق ہوجائیں گے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18371
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ " . فَذَكَرَهُ . .
حدیث نمبر: 18372
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرًا يَقُولُ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حدیث نمبر: 18373
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِم وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ شَيْءٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال باہمی محبت، ہمدردی اور شفقت میں جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو شب بیداری اور بخار کا احساس ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 18374
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ، فَمَنْ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ فِيهِ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ ، وَمَنْ وَاقَعَهَا وَاقَعَ الْحَرَامَ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْإِنْسَانِ مُضْغَةً إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے، یاد رکھوانسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہوجائے تو سارا جسم صحیح ہوجائے اور اگر وہ خراب ہوجائے تو ساراجسم خراب ہوجائے یاد رکھو ! وہ دل ہے۔
حدیث نمبر: 18375
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرًا يَقُولُ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حدیث نمبر: 18376
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي بَيْنَ الصُّفُوفِ ، كَمَا تُسَوَّى الْقِدَاحُ ، أَوْ الرِّمَاحُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو اس طرح درست کرواتے تھے جیسے تیروں کو سیدھا کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 18377
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ أَوْ كَأَعْلَمِ النَّاسِ بِوَقْتِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعِشَاءِ ، " كَانَ يُصَلِّيهَا بَعْدَ سُقُوطِ الْقَمَرِ فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عشاء کا وقت میں تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز آغاز مہینہ کی تیسری رات میں سقوط قمر کے بعد پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 18378
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ ، وَأَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ ، وَأَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ . ح وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، وَمُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ : نَحَلَهُ غُلَامًا ، قَالَ : فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ : ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَشْهِدْهُ ، قَالَ : فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلًا ، وَإِنَّ عَمْرَةَ سَأَلَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ النُّعْمَانَ ؟ " فَقَالَ : لَا ، فَقَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ : " هَذَا جَوْرٌ " ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : " هَذَا تَلْجِئَةٌ ، فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي " . وَقَالَ مُغِيرَةُ فِي حَدِيثِهِ : " أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي " ، وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ : " إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ كَمَا أَنَّ لَكَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ نے میرے والد سے مجھے کوئی چیز ہبہ کرنے کے لئے کہا انہوں نے وہ چیز مجھے ہبہ کردی، وہ کہنے لگیں کہ میں اس وقت تک مطمئن نہیں ہوسکتی جب تک تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہیں بنالیتے میں اس وقت نوعمر تھا میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی والدہ بنت رواحہ نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس بچے کو کوئی چیز ہبہ کردوں سو میں نے کردی وہ چاہتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بشیر ! کیا اس کے علاوہ بھی تمہارا کوئی بیٹا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔
حدیث نمبر: 18379
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى وَالرَّاتِعِ فِيهَا ، وَالْمُدَّهِنِ فِيهَا ، مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ ، فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا ، وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا وَأَوْعَرَهَا ، وَإِذَا الَّذِينَ أَسْفَلَهَا إِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاءِ ، مَرُّوا عَلَى أَصْحَابِهِمْ ، فَآذَوْهُمْ ، فَقَالُوا : لَوْ أَنَّا خَرَقْنَا فِي نَصِيبِنَا خَرْقًا ، فَاسْتَقَيْنَا مِنْهُ ، وَلَمْ نَمُرَّ عَلَى أَصْحَابِنَا فَنُؤْذِيَهُمْ ، فَإِنْ تَرَكُوهُمْ ، وَمَا أَرَادُوا ، هَلَكُوا ، وَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ ، نَجَوْا جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حدود اللہ کو قائم کرنے والے اور اس میں مداہنت برتنے والوں کی مثال اس قوم کی سی ہے جو کسی سمندری سفر پر روانہ ہو کچھ لوگ نچلے حصے میں بیٹھ جائیں اور کچھ لوگ اوپروالے حصے میں بیٹھ جائیں نچلے حصے والے اوپر چڑھ کر جاتے ہوں، وہاں سے پانی لاتے ہوں جس میں سے تھوڑا بہت پانی اوپر والوں پر بھی گرجاتا ہو جیسے دیکھ کر اوپر والے کہیں کہ اب ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تم ہمیں تکلیف دیتے ہو نیچے والے اس کا جواب دیں کہ ٹھیک ہے پھر ہم کشتی کے نیچے سوراخ کرکے وہاں سے پانی حاصل کرلیں گے اب اگر اوپر والے ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور انہیں اس سے باز رکھیں تو سب ہی بچ جائیں گے ورنہ سب ہی غرق ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 18380
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال باہمی محبت، ہمدردی اور شفقت میں جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو شب بیداری اور بخار کا احساس ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 18381
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ ، سَأَلَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ : " بِمَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَة " .
مولانا ظفر اقبال
ضحاک بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں سورت جمعہ کے علاوہ اور کون سی سورت پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا سورت غاشیہ۔
حدیث نمبر: 18382
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أخبراه ، أنهما سمعا النعمان بن بشير ، يَقُولُ : " نَحَلَنِي أَبِي غُلَامًا ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُشْهِدَهُ ، فَقَالَ : " أَكُلَّ وَلَدِكَ قَدْ نَحَلْتَ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَارْدُدْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد انہیں کوئی تحفہ دیا پھر میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اس پر گواہ بننے کے لئے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی دے دیا ہے، جیسے اسے دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے واپس لے لو۔
حدیث نمبر: 18383
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ فِي الْعِيدَيْنِ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ، وَإِنْ وَافَقَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، قَرَأَهُمَا جَمِيعًا " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : حَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ سَمِعَهُ مِنَ النُّعْمَانِ ، وَكَانَ كَاتِبَهُ ، وَسُفْيَانُ يُخْطِئُ فِيهِ يَقُولُ : حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ ، وَهُوَ سَمِعَهُ مِنَ النُّعْمَانِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے اور اگر عید جمعہ کے دن جاتی تو دونوں نمازوں (عید اور جمعہ) میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 18384
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْتُهُ مِنْ أَبِي فَرْوَةَ أَوَّلًا ، ثُمَّ مِنْ مُجَالِدٍ ، سَمِعَهُ مِنَ الشَّعْبِيِّ يَقُولُ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُنْتُ إِذَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَصْغَيْتُ وَتَقَرَّبْتُ ، وَخَشِيتُ أَنْ لَا أَسْمَعَ أَحَدًا يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " حَلَالٌ بَيِّنٌ وَحَرَامٌ بَيِّنٌ ، وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ ، مَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ ، كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكَ ، وَمَنْ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ فِيهِ ، أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ الْحَرَامَ ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي الْأَرْضِ مَعَاصِيهِ " أَوْ قَالَ : " مَحَارِمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان کانوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے۔
حدیث نمبر: 18385
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيمُ الصُّفُوفَ ، كَمَا تُقَامُ الرِّمَاحُ ، أَوْ الْقِدَاحُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو اس طرح درست کرواتے تھے جیسے تیروں کو سیدھا کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 18386
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ يُسَيْعٍ الْكِنْدِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ " ، ثُمَّ قَرَأَ : وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ سورة غافر آية 60 " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : يُسَيْعٌ الْكِنْدِيُّ : يُسَيْعُ بْنُ مَعْدَانَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دعاء ہی اصل عبادت ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی مجھ سے دعاء مانگو، میں تمہاری دعاء قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے تکبر برتتے ہیں۔
…