حدیث نمبر: 18336
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ الْتَقَطَ لُقَطَةً ، فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَيْ عَدْلٍ ، ثُمَّ لَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ ، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ، وَإِلَّا فَإِنَّمَا هُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی کوئی گری پڑی ہوئی چیز پائے تو اسے چاہئے کہ اس پر دو عادل آدمیوں کو گواہ بنالے اور اس کی تھیلی اور منہ بند کو اچھی طرح ذہن میں محفوظ کرلے پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے مت چھپائے کیونکہ وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور اگر اس کا مالک نہ آئے تو وہ اللہ کا مال ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 18337
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِثْمُ الْمُسْتَبَّيْنِ مَا قَالاَ عَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدْ الْمَظْلُومُ ، وَالْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَكَاذَبَانِ وَيَتَهَاتَرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب دو آدمی گالی گلوچ کرتے ہیں تو اس کا گناہ آغاز کرنے والے پر ہوتا ہے الاّ یہ کہ مظلوم بھی حد سے آگے بڑھ جائے اور وہ دو شخص جو ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں وہ دونوں شیطان ہوتے ہیں جو کہ بکواس اور جھوٹ بولتے ہیں۔
حدیث نمبر: 18338
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا وَإِنَّهُ قَالَ : إِنَّ كُلَّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عِبَادِي ، فَهُوَ لَهُمْ حَلَالٌ " ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ . وَقَالَ : " وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ : الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ ، الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْتَغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے آج جو باتیں مجھے سکھائی ہیں اور تم ان سے ناواقف ہو، میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں، (چنانچہ میرے رب نے فرمایا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو ہبہ کردیا ہے وہ حلال ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا کہ اہل جہنم پانچ طرح کے لوگ ہوں گے وہ کمزور آدمی جس کے پاس مال و دولت نہ ہو اور وہ تم میں تابع شمار ہوتا ہو، جو اہل خانہ اور مال کے حصول کے لئے محنت بھی نہ کرتا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
حدیث نمبر: 18339
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ حَكِيمٍ الْأَثْرَمِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيُّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا ، قَالَ : وَإِنَّ كُلَّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عِبَادِي فَهُوَ لَهُمْ حَلَالٌ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے آج جو باتیں مجھے سکھائی ہیں اور تم ان سے ناواقف ہو، میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں، (چنانچہ میرے رب نے فرمایا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو ہبہ کردیا ہے وہ حلال ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ،۔
حدیث نمبر: 18340
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ ، وَحَدَّثَنِي يَزِيدُ أَخُو مُطَرِّفٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي عُقْبَةُ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ يَقُولُ : حَدَّثَنِي مُطَرِّفٌ ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ : " الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ ، الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْتَغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا " . قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِمُطَرِّفٍ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، أَمِنَ الْمَوَالِي هُوَ أَوْ مِنَ الْعَرَبِ ؟ قَالَ : هُوَ التَّابِعَةُ يَكُونُ لِلرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْ خَدَمِهِ سِفَاحًا غَيْرَ نِكَاحٍ . وَقَالَ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ : ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُصَدِّقٌ مُوقِنٌ ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ ، وَرَجُلٌ عَفِيفٌ فَقِيرٌ مُتَصَدِّقٌ " . قَالَ هَمَّامٌ : قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ قَتَادَةَ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ يُونُسُ الْإِسْكَافُ ، قَالَ لِي : إِنَّ قَتَادَةَ لَمْ يَسْمَعْ حَدِيثَ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ مِنْ مُطَرِّفٍ ، قُلْتُ : هُوَ حَدَّثَنَا عَنْ مُطَرِّفٍ ، وَتَقُولُ أَنْتَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ : فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَجَعَلَ يَسْأَلُهُ وَاجْتَرَأَ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَقُلْنَا لِلْأَعْرَابِيِّ : سَلْهُ ، هَلْ سَمِعَ حَدِيثَ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ عَنْ مُطَرِّفٍ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : لَا ، حَدَّثَنِي أَرْبَعَةٌ عَنْ مُطَرِّفٍ ، فَسَمَّى ثَلَاثَةً ، الَّذِي قُلْتُ لَكُمْ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے آج جو باتیں مجھے سکھائی ہیں اور تم ان سے ناواقف ہو، میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا اہل جنت تین طرح کے ہوں گے ایک وہ منصف بادشاہ جو صدقہ و خیرات کرتا ہو اور نیکی کے کاموں کی توفیق اسے ملی ہوئی ہو دوسرا وہ مہربان آدمی جو ہر قریبی رشتہ اور مسلمان کے لئے نرم دل ہو اور تیسرا وہ فقیر جو سوال کرنے سے بچے اور خود صدقہ کرے اور اہل جہنم پانچ طرح کے لوگ ہوں گے وہ کمزور آدمی جس کے پاس مال و دولت نہ ہو اور وہ تم میں تابع شمار ہوتا ہو، جو اہل خانہ اور مال کے حصول کے لئے محنت بھی نہ کرتا ہو۔
حدیث نمبر: 18341
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَزِيدَ أَخِي مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِثْمُ الْمُسْتَبَّيْنِ مَا قَالاَ عَلَى الْبَادِئِ حَتَّى يَفْتَدِيَ الْمَظْلُومُ ، أَوْ مَا لَمْ يَفْتَدِ الْمَظْلُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب دو آدمی گالی گلوچ کرتے ہیں تو اس کا گناہ آغاز کرنے والے پر ہوتا ہے الاّ یہ کہ مظلوم بھی حد سے آگے بڑھ جائے۔
حدیث نمبر: 18342
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَكَاذَبَانِ وَيَتَهَاتَرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دو شخص جو ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں وہ دونوں شیطان ہوتے ہیں جو کہ بکو اس اور جھوٹ بولتے ہیں۔
حدیث نمبر: 18343
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدًا يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ الْتَقَطَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَوَيْ عَدْلٍ أَوْ ذَا عَدْلٍ " خَالِدٌ الشَّاكُّ " وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ، وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی کوئی گری پڑی ہوئی چیز پائے تو اسے چاہئے کہ اس پر دو عادل آدمیوں کو گواہ بنالے اور اس کی تھیلی اور منہ بند کو اچھی طرح ذہن میں محفوظ کرلے پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے مت چھپائے کیونکہ وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور اگر اس کا مالک نہ آئے تو وہ اللہ کا مال ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 18344
حدثنا عبد الله ، حدثني أبي ، قَالَ : سَمِعْت يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ : مُطَرِّفٌ أَكْبَرُ مِنَ الْحَسَنِ بِعِشْرِينَ سَنَةً ، وَأَبُو الْعَلَاءِ أَكْبَرُ مِنَ الْحَسَنِ بِعَشْرِ سِنِينَ . قال عبد الله : قال أبي : حَدَّثَنِيهِ أَخٌّ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ الدَّوْرَقِيِّ بِهَذَا.