حدیث نمبر: 18313
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ : يَا أَبَا الْيَقْظَانِ ، أَرَأَيْتَ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي أَتَيْتُمُوهُ بِرَأْيِكُمْ ، أَوْ شَيْءٌ عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
قیس بن عباد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوالیقظان ! یہ بتائیے کہ جس مسئلے میں آپ لوگ پڑچکے ہیں وہ آپ کی اپنی رائے ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خاص وصیت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ ایسی کوئی وصیت نہیں فرمائی جو عام لوگوں کو نہ فرمائی ہو۔
حدیث نمبر: 18314
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُرَادِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : قَالَ عَمَّارٌ : قَالَ : لَمَّا هَجَانَا الْمُشْرِكُونَ ، شَكَوْنَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " قُولُوا لَهُمْ كَمَا يَقُولُونَ لَكُمْ " ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُعَلِّمُهُ إِمَاءَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب مشرکین ہماری ہجو گوئی کرنے لگے تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جیسے وہ تمہاری ہجو بیان کرتے ہیں اسی طرح تم بھی ان ہجو بیان کرو چناچہ پھر ہم نے وہ وقت بھی دیکھا کہ ہم اہل مدینہ کی باندیوں کو وہ اشعار سکھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 18315
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ نَاجِيَةَ الْعَنَزِيِّ ، قَالَ : تَدَارَأَ عَمَّارٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ في التيمم ، فقال عبد الله : لو مكثت شهرا لا أجد فيه الماء ، لما صليت ، فقال له عمار : أما تذكر إذ كنت أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ ، فَأَجْنَبْتُ ، فَتَمَعَّكْتُ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ التَّيَمُّمُ " .
مولانا ظفر اقبال
ناجیہ عنزی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جنبی کے تیمم کرنے کے مسئلہ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ اگر جنابت کے بعد مجھے ایک مہینے تک پانی نہ ملے تب بھی میں غسل کئے بغیر نماز نہیں پڑھوں گا حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے کیا آپ کو وہ واقعہ یاد نہیں ہے جب ایک مرتبہ میں اور آپ اونٹوں کے ایک باڑے میں تھے رات کو مجھ پر غسل واجب ہوگیا تو میں جانور کی طرح مٹی پر لوٹ پوٹ ہوگیا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپسی ہوئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو تیمم ہی کافی تھا۔
حدیث نمبر: 18316
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ جَدِّ أَبِيهِ الْمُخَارِقِ ، قَالَ : لَقِيتُ عَمَّارًا يَوْمَ الْجَمَلِ وَهُوَ يَبُولُ فِي قَرْنٍ ، فَقُلْتُ : أُقَاتِلُ مَعَكَ فَأَكُونُ مَعَكَ ؟ قَالَ : قَاتِلْ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِكَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَسْتَحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
مخارق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جنگ جمل کے دن حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی وہ ایک سینگ میں پیشاب کر رہے تھے میں نے ان سے پوچھا کیا میں آپ کی معیت میں قتال کرسکتا ہوں کہ مجھے آپ کی معیت نصیب ہوجائے ؟ انہوں نے فرمایا اپنی قوم کے جھنڈے تلے قتال کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی بات کو پسند فرماتے تھے کہ انسان اپنی قوم کے جھنڈے تلے قتال کرے۔
حدیث نمبر: 18317
حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو وَائِلٍ : خَطَبَنَا عَمَّارٌ ، فَأَبْلَغَ وَأَوْجَزَ ، فَلَمَّا نَزَلَ ، قُلْنَا : يَا أَبَا الْيَقْظَانِ ، لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ ، فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ ، قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ ، وَأَقْصِرُوا الْخُطْبَةَ ، فَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
ابو وائل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ہمیں انتہائی بلیغ اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا جب وہ منبر سے نیچے اترے تو ہم نے عرض کیا اے ابوالیقظان ! آپ نے نہایت بلیغ اور مختصر خطبہ دیا اگر آپ درمیان میں سانس لے لیتے ( اور طویل گفتگو فرماتے تو کیا خوب ہوتا) انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے انسان کا لمبی نماز اور چھوٹا خطبہ دینا اس کی سمجھ داری کی علامت ہے لہٰذا نماز کو لمبا کیا کرو اور خطبہ کو مختصر کیا کرو کیونکہ بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 18318
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ : " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جو نماز پڑھ رہے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب مرحمت فرمایا۔
حدیث نمبر: 18319
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَيُونُسُ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ يُونُسُ إِنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّيَمُّمِ ، فَقَالَ : " ضَرْبَةٌ لِلْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهِ " . وَقَالَ عَفَّانُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي التَّيَمُّمِ : " ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ضرب دونوں ہاتھوں کے لئے اور ایک ضرب چہرے کے لئے لگائی جائے۔
حدیث نمبر: 18320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ ، فَمَرَّ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْفِتْنَةِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يَأْخُذُونَ الْمُلْكَ ، يَقْتُلُ عَلَيْهِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا " . قَالَ : قُلْنَا لَهُ : لَوْ حَدَّثَنَا غَيْرُكَ مَا صَدَّقْنَاهُ ! قَالَ : فَإِنَّهُ سَيَكُونُ.
مولانا ظفر اقبال
ثروان بن ملحان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گذرے ہم نے ان سے درخواست کی کہ فتنوں کے حوالے سے آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میرے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو اقتدار حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کو قتل کردے گی ہم نے ان سے کہا کہ اگر آپ کے علاوہ کوئی اور شخص ہم سے یہ حدیث بیان کرتا تو ہم کبھی اس کی تصدیق نہ کرتے انہوں نے فرمایا ایسا ہو کر رہے گا۔
حدیث نمبر: 18321
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ ، فَلَمَّا نَزَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَقَامَ بِهَا ، رَأَيْنَا أُنَاسًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي عَيْنٍ لَهُمْ فِي نَخْلٍ ، فَقَالَ لِي عَلِيٌّ : يَا أَبَا الْيَقْظَانِ ، هَلْ لَكَ أَنْ تَأْتِيَ هَؤُلَاءِ ، فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ ؟ فَجِئْنَاهُمْ ، فَنَظَرْنَا إِلَى عَمَلِهِمْ سَاعَةً ، ثُمَّ غَشِيَنَا النَّوْمُ ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ فَاضْطَجَعْنَا فِي صَوْرٍ مِنَ النَّخْلِ فِي دَقْعَاءَ مِنَ التُّرَابِ ، فَنِمْنَا ، فَوَاللَّهِ مَا أَهَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُنَا بِرِجْلِهِ ، وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْكَ الدَّقْعَاءِ ، فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : " يَا أَبَا تُرَابٍ " لِمَا يُرَى عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ . قَالَ : " أَلَا أُحَدِّثُكُمَا بِأَشْقَى النَّاسِ رَجُلَيْنِ ؟ " قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " أُحَيْمِرُ ثَمُودَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ ، وَالَّذِي يَضْرِبُكَ يَا عَلِيُّ عَلَى هَذِهِ " يَعْنِي قَرْنَهُ " حَتَّى تُبَلَّ مِنْهُ هَذِهِ " يَعْنِي لِحْيَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ غزوہ ذات العشیرہ میں میں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ رفیق سفر تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا اور وہاں قیام فرمایا تو ہم نے بنی مدلج کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو اپنے باغات کے چشموں میں کام کر رہے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ مجھ سے کہنے لگے اے ابوالیقظان ! آؤ، ان لوگوں کے پاس چل کر دیکھتے ہیں کہ یہ کس طرح کام کرتے ہیں ؟ چناچہ ہم ان کے قریب چلے گئے تھوڑی دیر تک ان کا کام دیکھا پھر ہمیں نیند کے جھونکے آنے لگے چناچہ ہم واپس آگئے اور ایک باغ میں مٹی کے اوپر ہی لیٹ گئے۔ ہم اس طرح بیخبر ہو کر سوئے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے آکر اٹھایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے پاؤں سے ہلا رہے تھے اور ہم اس مٹی میں لت پت ہوچکے تھے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا ابوتراب ! کیونکہ ان پر تراب (مٹی) زیادہ تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں تمام لوگوں میں سب سے زیادہ شقی دو آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک تو قوم ثمود کا وہ سرخ و سپید آدمی جس نے ناقتہ اللہ کی کونچیں کاٹی تھیں اور دوسرا وہ آدمی جو اے علی ! تمہارے سر پر وار کر کے تمہاری ڈاڑھی کو خون سے تر کردے گا۔
حدیث نمبر: 18322
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِأُوَلَاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ ، فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا وَذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ ، وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةَ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ الْأَرْضَ ، ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ ، وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ ، وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ ، وَلَا يَغْتَرُّ بِهَذَا النَّاسُ " . وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا : وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عماربن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی لشکر کے ساتھ رات کے آخری حصے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں اسی رات ان کا ہاتھی دانت کا ایک ہار ٹوٹ کر گرپڑا لوگ ان کا ہار تلاش کرنے کے لئے رک گئے یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہا اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا (کہ نماز پڑھ سکیں) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے وضو میں رخصت کا پہلو یعنی پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، چناچہ تمام مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے اور زمین پر ہاتھ مار کر اپنے ہاتھ اٹھائے لیکن مٹی نہیں اٹھائی اور اپنے چہروں اور کندھوں تک ہاتھوں پر انہیں پھیرلیا اسی طرح ہاتھوں کے باطنی حصے پر بغلوں تک اسے پھیرلیا لہٰذا لوگ اس میں شکوک کا شکار نہ ہوں اور ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا بخدا ! مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اتنی مبارک ہے۔
حدیث نمبر: 18323
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنِ ابْنِ لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : دَخَلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ الْمَسْجِدَ ، فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، أَخَفَّهُمَا وَأَتَمَّهُمَا ، قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ ، فَقُمْنَا إِلَيْهِ ، فَجَلَسْنَا عِنْدَهُ ، ثُمَّ قُلْنَا لَهُ : لَقَدْ خَفَّفْتَ رَكْعَتَيْكَ هَاتَيْنِ جِدًّا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ ! فَقَالَ : " إِنِّي بَادَرْتُ بِهِمَا الشَّيْطَانَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ فِيهِمَا " . قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
ابن ل اس خزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے اور دو ہلکی لیکن مکمل رکعتیں پڑھیں اس کے بعد بیٹھ گئے ہم بھی اٹھ کر ان کے پاس پہنچے اور بیٹھ گئے اور ان سے عرض کیا کہ ابوالیقظان ! آپ نے یہ دو رکعتیں تو بہت ہی ہلکی پڑھی ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے ان میں شیطان پر سبقت حاصل کی ہے، کہ وہ میرے اندر داخل نہ ہونے پائے۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 18324
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ : " صَلَّى عَمَّارٌ صَلَاةً ، فَجَوَّزَ فِيهَا ، فَسُئِلَ أَوْ فَقِيلَ لَهُ : فَقَالَ : " مَا خَرَمْتُ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
حدیث نمبر: 18325
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا عَمَّارٌ صَلَاةً ، فَأَوْجَزَ فِيهَا ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ ، فَقَالَ : أَلَمْ أُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ؟ ! قَالُوا : بَلَى . قَالَ : أَمَا إِنِّي قَدْ دَعَوْتُ فِيهِمَا بِدُعَاءٍ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ : " اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي ، أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا ، وَالْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى ، وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ ، وَمِنْ فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابومجلز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے مختصر سی نماز پڑھی ان سے کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے سرمو بھی تفاوت نہیں کیا۔ ابومجلز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے ہمیں بہت مختصر نماز پڑھائی لوگوں کو اس پر تعجب ہوا تو انہوں نے فرمایا میں نے رکوع سجود مکمل نہیں کیا لوگوں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا میں نے اس میں ایک دعا مانگی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مانگتے تھے اور وہ یہ ہے اے اللہ اپنے علم غیب اور مخلوق پر قدرت کی وجہ سے مجھے اس وقت تک زندگی عطا فرما جب تک تیرے علم کے مطابق میں میرے لئے بہتری ہو اور جب میرے لئے موت بہتر ہو تو مجھے موت سے ہمکنار فرما، میں ظاہر باطن میں تیری خشیت کا سوال کرتا ہوں ناراضگی اور رضامندی میں کلمہ حق کہنے کی اور تنگدستی اور کشادہ دستی میں میانہ روی، آپ کے روئے انور کی زیارت اور آپ سے ملاقات کا شوق مانگتا ہوں اور نقصان دہ چیزوں سے اور گمراہ کن فتنوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اے اللہ ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ اور ہدایت کنندہ بنا۔
حدیث نمبر: 18326
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ محمد بن يَزِيدِِ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خُثَيْمٍ أَبُو يَزِيدَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ " " رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ الْعُشَيْرَةِ ، فَمَرَرْنَا بِرِجَالٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي نَخْلٍ لَهُمْ " " . فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ.
حدیث نمبر: 18327
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنَ الْفِطْرَةِ أَوْ الْفِطْرَةُ : الْمَضْمَضَةُ ، وَالِاسْتِنْشَاقُ ، وَقَصُّ الشَّارِبِ ، وَالسِّوَاكُ ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ ، وَالِاسْتِحْدَادُ ، وَالِاخْتِتَانُ ، وَالِانْتِضَاحُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مندرجہ ذیل چیزیں امور فطرت میں سے ہیں کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مونچھیں کترانا، مسواک کرنا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے پورے دھونا، بغل کے بال نوچنا، زیر ناف بال صاف کرنا، ختنہ کرنا اور استنجاء کے بعد کپڑے پر پانی کے چھینٹے مارنا۔
حدیث نمبر: 18328
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى وَعَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو مُوسَى : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ وَقَدْ أَجْنَبَ شَهْرًا ، مَا كَانَ يَتَيَمَّمُ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَوْ لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ شَهْرًا ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ : فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا ؟ قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا ، لَأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمْ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا الصَّعِيدَ ، ثُمَّ يُصَلُّوا . قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : إِنَّمَا كَرِهْتُمْ ذَا لِهَذَا ، قَالَ : نَعَمْ . قَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : أَلَمْ تَسْمَعْ لِقَوْلِ عَمَّارٍ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، فَأَجْنَبْتُ ، فَلَمْ أَجِدْ الْمَاءَ ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ : وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ مَسَحَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِصَاحِبَتِهَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ " ، لَمْ يُجِزْ الْأَعْمَشُ الْكَفَّيْنِ . قَالَ : فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : أَلَمْ تَرَ عُمَر ، لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ ؟ قال أبو عبد الرحمن : قال أبي : وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ نَفَضَهَا ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ ، وَيمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ عَلَى الْكَفَّيْنِ ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ.
مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ابوعبدالرحمن ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی ناپاک ہوجائے اور اسے پانی نہ ملے تو کیا وہ ایک مہینے تک جنبی ہی رہے گا اسے تیمم کرنے کی اجازت نہ ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا نہیں خواہ ایک مہینے تک پانی نہ ملے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر سورت مائدہ کی اس آیت کا کیا کریں گے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ " اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی گئی تو وہ معمولی سردی میں بھی مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھنے لگیں گے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا آپ صرف اسی وجہ سے ہی اسے مکروہ سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !
حدیث نمبر: 18329
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَجِدْ الْمَاء ، لَمْ يُصَلِّ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَمَا تَذْكُرُ إِذْ قَالَ عَمَّارٌ لِعُمَرَ : أَلَا تَذْكُرُ إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِيَّاكَ فِي إِبِلٍ ، فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، فَتَمَرَّغْتُ فِي التُّرَابِ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرْتُهُ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا " : وَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ مَسَحَ كَفَّيْهِ جَمِيعًا ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ مَسْحَةً وَاحِدَةً بِضَرْبَةٍ وَاحِدَةٍ ؟ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَا جَرَمَ مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ ؟ قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : فَكَيْفَ بِهَذِهِ الْآيَةِ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ : فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43 ؟ قَالَ : فَمَا دَرَى عَبْدُ اللَّهِ مَا يَقُولُ ، وَقَالَ : لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي التَّيَمُّمِ ، لَأَوْشَكَ أَحَدُهُمْ إِنْ بَرَدَ الْمَاءُ عَلَى جِلْدِهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ . قَالَ عَفَّانُ : وَأَنْكَرَهُ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، فَسَأَلْتُ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ ، فَقَالَ : كَانَ الْأَعْمَشُ يُحَدِّثُنَا بِهِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَذَكَرَ أَبَا وَائِلٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں سنی کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا مجھ پر دوران سفر غسل واجب ہوگیا مجھے پانی نہیں ملا تو میں اسی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جیسے چوپائے ہوتے ہیں پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس واقعے کا بھی ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو صرف یہی کافی تھا، یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر ملا اور چہرے پر مسح کرلیا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی بات پر قناعت نہیں کی تھی ؟ شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ابوعبدالرحمن ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی ناپاک ہوجائے اور اسے پانی نہ ملے تو کیا وہ ایک مہینے تک جنبی ہی رہے گا اسے تیمم کرنے کی اجازت نہ ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا نہیں خواہ ایک مہینے تک پانی نہ ملے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر سورت مائدہ کی اس آیت کا کیا کریں گے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ " اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی گئی تو وہ معمولی سردی میں بھی مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھنے لگیں گے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا آپ صرف اسی وجہ سے ہی اسے مکروہ سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں سنی کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا مجھ پر دوران سفر غسل واجب ہوگیا مجھے پانی نہیں ملا تو میں اسی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جیسے چوپائے ہوتے ہیں پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس واقعے کا بھی ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو صرف یہی کافی تھا، یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر ملا اور چہرے پر مسح کرلیا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی بات پر قناعت نہیں کی تھی ؟
حدیث نمبر: 18330
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مُوسَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : إِنْ لَمْ نَجِدْ الْمَاءَ لَا نُصَلِّي ؟ قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " نَعَمْ ، إِنْ لَمْ نَجِدْ الْمَاءَ شَهْرًا ، لَمْ نُصَلِّ ، وَلَوْ رَخَّصْتُ لَهُمْ فِي هَذَا ، كَانَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُهُمْ الْبَرْدَ ، قَالَ هَكَذَا ، يَعْنِي تَيَمَّمَ ، وَصَلَّى " . قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : فَأَيْنَ قَوْلُ عَمَّارٍ لِعُمَرَ ؟ قَالَ : إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِقَوْلِ عَمَّارٍ.
مولانا ظفر اقبال
ابو وائل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ابوعبدالرحمن ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی ناپاک ہوجائے اور اسے پانی نہ ملے تو کیا وہ ایک مہینے تک جنبی ہی رہے گا اسے تیمم کرنے کی اجازت نہ ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا نہیں خواہ ایک مہینے تک پانی نہ ملے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر سورت مائدہ کی اس آیت کا کیا کریں گے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ " اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو " حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی گئی تو وہ معمولی سردی میں بھی مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھنے لگیں گے حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جو بات فرمائی تھی وہ کہاں جائے گی ؟
حدیث نمبر: 18331
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَاهُمْ ، فَخَطَبَ عَمَّارٌ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَوْ إِيَّاهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابو وائل کہتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور امام حسن رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا تاکہ وہ انہیں کوچ کرنے پر آمادہ کرسکیں تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے وہاں تقریر کرتے ہوئے فرمایا میں جانتا ہوں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ دنیا و آخرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس آزمائش میں مبتلا کیا ہے کہ تم ان کی پیروی کرتے ہو یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی۔
حدیث نمبر: 18332
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَجْنَبْتُ ، فَلَمْ أَجِدْ مَاءً ، فَقَالَ عُمَرُ : لَا تُصَلِّ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَأَجْنَبْنَا ، فَلَمْ نَجِدْ مَاءً ، فَأَمَّا أَنْتَ ، فَلَمْ تُصَلِّ ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ ، فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ " : وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا ، وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ . .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابزی کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ مجھ پر غسل واجب ہوگیا ہے اور مجھے پانی نہیں مل رہا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نماز مت پڑھو، حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ امیر المؤمنین ! کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ میں اور آپ ایک لشکر میں تھے ہم دونوں پر غسل واجب ہوگیا اور پانی نہیں ملا تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے اتنا ہی کافی تھا یہ کہہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر ہاتھ مارا پھر اس پر پھونک ماری اور اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر پھیرلیا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی آخر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس جواب کے ساتھ منقول ہے کہ کیوں نہیں، ہم تمہیں اس چیز کے سپرد کرتے ہیں جو تم اختیار کرلو۔
حدیث نمبر: 18333
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ ، فَذَكَرَ ابْنُ جَعْفَرٍ مِثْلَ حَدِيثِ الْحَكَمِ ، وَزَادَ : قَالَ : وَسَلَمَةُ شَكَّ ، قَالَ : لَا أَدْرِي قَالَ فِيهِ : الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ . فَقَالَ عُمَرُ : بَلَى نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
حدیث نمبر: 18334
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الرَّجُلُ يُجْنِبُ وَلَا يَجِدُ الْمَاءَ ، أَيُصَلِّي ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا أَنَا وَأَنْتَ ، فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ بِالصَّعِيدِ ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا " : وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ وَاحِدَةً . فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَرَ عُمَرَ قَنَعَ بِذَلِكَ . قَالَ : فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ : فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43 ؟ قَالَ : إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا ، كَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا وَجَدَ الْمَاءَ الْبَارِدَ ، تَمَسَّحَ بِالصَّعِيدِ . قَالَ الْأَعْمَشُ : فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ : فَمَا كَرِهَهُ إِلَّا لِهَذَا ؟.
مولانا ظفر اقبال
شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ابوعبدالرحمن ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی ناپاک ہوجائے اور اسے پانی نہ ملے تو کیا وہ نماز پڑھے گا انہوں نے فرمایا نہیں حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں سنی کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا مجھ پر دوران سفر غسل واجب ہوگیا مجھے پانی نہیں ملا تو میں اسی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا جیسے چوپائے ہوتے ہیں پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس واقعے کا بھی ذکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو صرف یہی کافی تھا یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنا ہاتھ مارا پھر دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے پر ملا اور چہرے پر مسح کرلیا ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی بات پر قناعت نہیں کی ؟ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر آیت تیمم کا کیا کریں ؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر ہم لوگوں کو یہ رخصت دے دیں تو معمولی سردی میں بھی وہ تیمم کرنے لگیں گے۔