حدیث نمبر: 18300
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَوْ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَوْقِفِ ، فَقُلْتُ : جِئْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ ، أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي ، وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ ، هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ ، وَأَتَى عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِكَ ، لَيْلًا أَوْ نَهَارًا ، تَمَّ حَجُّهُ ، وَقَضَى تَفَثَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں بنوطی کے دو پہاڑوں کے درمیان سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، میں نے اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو تھکا دیا اور اپنی سواری کو مشقت میں ڈال دیا، بخدا ! میں نے ریت کا کوئی ایسا لمبا ٹکڑا نہیں چھوڑا جہاں میں ٹھہرا نہ ہوں کیا میرا حج ہوگیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے ہمارے ساتھ آج فجر کی نماز میں شرکت کرلی اور ہمارے ساتھ وقوف کرلیا یہاں تک کہ واپس منٰی کی طرف چلا گیا اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں وقوف عرفات کرچکا تھا تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور اس کی محنت وصول ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18300
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18301
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي السَّفَرِ قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِجَمْعٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ : " مَنْ صَلَّى مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَكَانِ ، ثُمَّ وَقَفَ مَعَنَا هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ الْإِمَامُ ، أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، وَقَضَى تَفَثَهُ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میرا حج ہوگیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے ہمارے ساتھ آج فجر کی نماز میں شرکت کرلی اور ہمارے ساتھ وقوف کرلیا یہاں تک کہ واپس منٰی کی طرف چلا گیا اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں وقوف عرفات کرچکا تھا تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور اس کی محنت وصول ہوگئی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18302
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَذَكَرَهُ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18303
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ حَدَّثَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِجَمْعٍ . فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ رَوْحٍ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18303
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18304
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِجَمْعٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ : " مَنْ صَلَّى مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَكَانِ ، وَوَقَفَ مَعَنَا هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ ، أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، وَقَضَى تَفَثَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میرا حج ہوگیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے ہمارے ساتھ آج فجر کی نماز میں شرکت کرلی اور ہمارے ساتھ وقوف کرلیا یہاں تک کہ واپس منٰی کی طرف چلا گیا اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں وقوف عرفات کرچکا تھا تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور اس محنت وصول ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18304
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح