حدیث نمبر: 18214
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا طَعْمَةُ بْنُ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ بَيَانٍ التَّغْلِبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَاعَ الْخَمْرَ ، فَلْيُشَقِّصْ الْخَنَازِيرَ " يَعْنِي يُقَصِّبُهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب بیچ سکتا ہے تو پھر اسے چاہئے کہ خنزیر کے بھی ٹکڑے کرکے بیچنا شروع کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال عمر بن بيان
حدیث نمبر: 18215
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِحُجْزَةِ سُفْيَانَ بْنِ سَهْلٍ الثَّقَفِيِّ ، فَقَالَ : " يَا سُفْيَانُ ، لَا تُسْبِلْ إِزَارَكَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفیان بن ابی سہل کی کمر پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سنا اے سفیان بن ابی سہل ! اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے مت لٹکاؤ کیونکہ اللہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وحصين بن عقبة مجهول
حدیث نمبر: 18216
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، فَسَبَّحْنَا بِهِ ، فَمَضَى ، فَلَمَّا أَتَمَّ الصَّلَاةَ ، " سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ " ، وَقَالَ مَرَّةً : فَسَبَّحَ بِهِ مَنْ خَلْفَهُ ، فَأَشَارَ أَنْ قُومُوا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه، روي يزيد عن المسعودي بعد الاختلاط، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18217
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَقَّارُ بْنُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَدِيثًا ، فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ لَمْ أُمْعِنْ حِفْظَهُ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي ، فَلَقِيتُ حَسَّانَ بْنَ أَبِي وَجْزَةَ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ ، فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكَ ؟ فَقُلْتُ : كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ حَسَّانُ : حَدَّثَنَاهُ عَقَّارٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَمْ يَتَوَكَّلْ مَنْ اكْتَوَى وَاسْتَرْقَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے جسم کو آگ سے داغے یا منتر پڑھے وہ توکل سے بری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18217
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن من أجل عقار بن المغيرة
حدیث نمبر: 18218
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ النَّاسُ : كَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ ، فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اس دن سورج گرہن ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ سورج اور چاند کسی کی موت سے نہیں گہناتے یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں لہٰذا جب ان میں سے کسی ایک کو گہن لگے تو تم فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو۔ یہاں تک کہ یہ ختم ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1043، م: 915
حدیث نمبر: 18219
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، حَدَّثَنَا إِيَادٌ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَرْحَانَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ طَعَامًا ، ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَقَامَ ، وَقَدْ كَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ لِيَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، فَانْتَهَرَنِي ، وَقَالَ : " وَرَاءَكَ " ، فَسَاءَنِي وَاللَّهِ ذَلِكَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِ انْتِهَارُكَ إِيَّاهُ ، وَخَشِيَ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَيْهِ فِي نَفْسِي شَيْءٌ إِلَّا خَيْرٌ ، وَلَكِنْ أَتَانِي بِمَاءٍ لِأَتَوَضَّأَ ، وَإِنَّمَا أَكَلْتُ طَعَامًا ، وَلَوْ فَعَلْتُ ، فَعَلَ ذَلِكَ النَّاسُ بَعْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا اس کے بعد نماز کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے وضو فرما رکھا تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لے کر آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھڑکتے ہوئے فرمایا پیچھے ہٹو بخدا ! مغیرہ کو آپ کا جھڑکنا بہت پریشان کر رہا ہے اسے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے متعلق آپ کے دل میں کوئی بوجھ تو نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے دل میں تو اس کے متعلق سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں البتہ یہ میرے پاس وضو کے لئے پانی لائے تھے جبکہ میں نے تو صرف کھانا کھایا تھا اگر میں وضو کرلیتا تو میرے بعد لوگ بھی اسی طرح کرنا شروع کردیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18220
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَسِيتَ ؟ قَالَ : " بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک وادی میں قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے وہاں سے واپس آکر وضو کیا اور موزوں پر ہی مسح کرلیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! شاید آپ بھول گئے کہ آپ نے موزے نہیں اتارے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قطعاً نہیں تم بھول گئے ہو مجھے تو میرے رب نے یہی حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف بهذه السياقة، تفرد بها بكير، وهو ضعيف
حدیث نمبر: 18221
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ اكْتَوَى أَوْ اسْتَرْقَى ، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے جسم کو آگ سے داغے یا منتر پڑھے وہ توکل سے بری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18222
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : أَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ ، فَقَامَ ، فَقُلْنَا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ " ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ يَعْنِي قُومُوا ، فَقُمْنَا ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا ذَكَرَ أَحَدُكُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا ، فَلْيَجْلِسْ ، وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا ، فَلَا يَجْلِسْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہریا عصر کی نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور ہاتھ کے اشارے سے ہمیں بھی کھڑے ہونے کے لئے فرمایا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا اگر تمہیں مکمل کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ جایا کرو اور اگر مکمل کھڑے ہوجاؤ تو پھر نہ بیٹھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، جابر الجعفي ضعيف
حدیث نمبر: 18223
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا ، فَلْيَجْلِسْ ، وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا ، فَلَا يَجْلِسْ ، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص دو رکعتوں پر بیٹھنے کی بجائے کھڑا ہوجائے تو اگر وہ سیدھا کھڑا نہیں ہوا تو بیٹھ جائے اور اگر مکمل کھڑا ہوچکا ہو تو پھر نہ بیٹھے اور بعد میں سجدہ سہو کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف، جابر الجعفي ضعيف
حدیث نمبر: 18224
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ هَاشِمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا ، " فَأَخْبَرَنَا بِمَا يَكُونُ فِي أُمَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَعَاهُ مَنْ وَعَاهُ ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور اپنی امت میں قیامت تک پیش آنے والے واقعات کی خبردے دی جس نے اس خطبے کو یاد رکھا سو یاد رکھا اور جس نے بھلادیا سو بھلا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمر بن إبراهيم
حدیث نمبر: 18225
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ ، فَأَتَيْتُ خِبَاءً ، فَإِذَا فِيهِ امْرَأَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ ، قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يُرِيدُ مَاءً يَتَوَضَّأُ ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ مَاءٍ ؟ قَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَاللَّهِ مَا تُظِلُّ السَّمَاءُ ، وَلَا تُقِلُّ الْأَرْضُ رُوحًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رُوحِهِ ، وَلَا أَعَزَّ ، وَلَكِنَّ هَذِهِ الْقِرْبَةَ مَسْكُ مَيْتَةٍ ، وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " ارْجِعْ إِلَيْهَا ، فَإِنْ كَانَتْ دَبَغَتْهُ فَهِيَ طَهُورُهَا " . قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ : أَيْ وَاللَّهِ ، لَقَدْ دَبَغْتُهَا . فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ مِنْهَا ، وَعَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ، وَعَلَيْهِ خُفَّانِ وَخِمَارٌ ، قَالَ : فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ . قَالَ : مِنْ ضِيقِ كُمَّيْهَا . قَالَ : فَتَوَضَّأَ ، فَمَسَحَ عَلَى الْخِمَارِ وَالْخُفَّيْنِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پانی منگوایا میں ایک خیمے میں پہنچا وہاں ایک دیہاتی عورت تھی میں نے اس سے کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں اور وضو کے لئے پانی منگوا رہے ہیں تو کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ وہ کہنے لگی میرے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، واللہ آسمان کے سائے تلے اور روئے زمین پر میرے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب اور معزز کوئی شخص نہیں یہ مشکیزہ مردار کی کھال کا ہے میں نہیں چاہتی کہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپاک کروں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آیا اور یہ ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واپس جاؤ اگر اس نے کھال کو دباغت دے دی تھی تودباغت ہی اس کی پاکیزگی ہے چناچہ میں اس عورت کے پاس دوبارہ گیا اور اس یہ مسئلہ ذکر کردیا۔ اس نے کہا بخدا ! میں اسے دباغت تو دی تھی چناچہ میں اس میں سے پانی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا موزے اور عمامہ بھی پہن رکھا تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبے کے نیچے سے ہاتھ نکالے کیونکہ اس کی آستینیں تنگ تھیں پھر وضو کیا اور عمامے اور موزوں پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، معان بن رفاعة لين الحديث ، وعلي بن زيد ضعيف
حدیث نمبر: 18226
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : " ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ يَغْسِلُ ذِرَاعَيْهِ ، فَضَاقَ عَنْهُمَا كُمُّ الْجُبَّةِ ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَهُمَا ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور انہیں دھو کر موزوں پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4421، م: 274
حدیث نمبر: 18227
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ الْحَارِثِ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي أَوْ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى فَرْوَةٍ مَدْبُوغَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دباغت دی ہوئی پوستین پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يونس بن الحارث، وقد اضطرب فيه، ولجهالة والد ابي عون
حدیث نمبر: 18228
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظُهُورِ الْخُفَّيْنِ " . حَدَّثَنَاه سُرَيْجٌ ، والْهَاشِمِيُّ أَيْضًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18229
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا ، فَتَبَرَّزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَبِعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، " فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک وادی میں قضاء حاجت کے لئے چلے گئے میں بھی ایک برتن میں پانی لے کر پیچھے چلا گیا اور پانی ڈالتا رہا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر ہی مسح کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 182، م: 274، رجاله ثقات
حدیث نمبر: 18230
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَقِيلَ وَقَالَ ، وَمَنْعَ وَهَاتِ ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل وقال، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال کرنا حرام قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 844، م: 593، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18231
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ ، فَسَبَّحَ الْقَوْمُ ، قَالَ : فَأُرَاهُ فَسَبَّحَ وَمَضَى ، ثُمَّ " سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ ، وقَالَ : هَكَذَا فَعَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . إِنَّمَا شَكَّ فِي سَبَّحَ.
مولانا ظفر اقبال
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن انہوں نے اشارہ سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے ساتھ اسی طرح کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه ، وهذا اسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 18232
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، أخبرنا عَامِرٍ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ : اكْتُبْ إِلَيَّ بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَانِي الْمُغِيرَةُ . قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيْهِ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ ، قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . وَسَمِعْتُهُ " يَنْهَى عَنْ : قِيلَ وَقَالَ ، وَعَنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ ، وَعَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ ، وَمَنْعٍ وَهَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 844، م: 593، على ابن عاصم ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18233
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدَ ربه ، عَنْ وَرَّادٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ " مِثْلَ حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَأْدَ الْبَنَاتِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیرتے وقت یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 844، م: 593، على بن عاصم ضعيف، وسمع من الجريري بعد الاختلاط، لكنه توبع، وعبد ربه توبع كذلك
حدیث نمبر: 18234
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ، فَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ " . قَالَ بَكْر : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور اپنے عمامے پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18235
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍ ، فَقَالَ لِي : " مَعَكَ مَاءٌ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، ثُمَّ ذَهَبَ عَنِّي حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ ، قَالَ : وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ يَدَيْهِ مِنْهَا ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَنْزِعُ خُفَّيْهِ ، قَالَ : " دَعْهُمَا ، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ " ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میرے نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور اپنے عمامے پر مسح کیا پھر میں نے ان کے موزے اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں رہنے دو میں نے وضو کی حالت میں انہیں پہنا تھا چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18236
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : بِتُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ ، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ ، فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ ، فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ ، فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ ، وَقَالَ : " مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ ؟ " ، قَالَ : وَكَانَ شَارِبِي وَفَى ، فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ ، أَوْ قَالَ : " أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں مہمان تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس ران بھونی گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھری پکڑ کر مجھے اس میں سے کاٹ کاٹ کردینے لگے اس دوران حضرت بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لئے آگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری ہاتھ سے رکھ دی اور فرمایا اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں اسے کیا ہوا ؟ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسواک نیچے رکھ کر انہیں کتر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18237
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ، قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مِنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْكُوفَةِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ ، فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص پر نوحہ کیا جاتا ہے اسے اس نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1291، م: 933
حدیث نمبر: 18238
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ ، فَقَالَ : " أَوَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر قیام فرماتے کہ آپ کے مبارک قدم سوج جاتے لوگ کہتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادئیے ہیں پھر اتنی محنت ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کیا میں شکرگذار بندہ نہ بنوں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1130، م: 2819
حدیث نمبر: 18239
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبِسَ جُبَّةً رُومِيَّةً ضَيِّقَةَ الْكُمَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی جبہ زیب تن فرمایا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 182، م: 274، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18240
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَدَّثَ بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ " . وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : " فَهُوَ أَحَدُ الْكَذَّابِينَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك المغيرة
حدیث نمبر: 18241
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قَالَ : " فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك المغيرة
حدیث نمبر: 18242
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُهُ مِنَ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : شَهِدَ لِي عُرْوَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَلَى أَبِيهِ ، أَنَّهُ شَهِدَ لَهُ أَبُوهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ ، فَأَنَاخَ ، وَأَنَاخَ أَصْحَابُهُ ، قَالَ : فَبَرَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَأَتَيْتُهُ بِإِدَاوَةٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ رُومِيَّةٌ ، ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ ، فَضَاقَتَا ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ . قَالَ : ثُمَّ صَبَبْتُ عَلَيْهِ ، فَتَوَضَّأَ ، فَلَمَّا بَلَغَ الْخُفَّيْنِ ، أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَهُمَا ، فَقَالَ : " لَا ، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ " ، قَالَ : فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا . قَالَ الشَّعْبِيُّ : فَشَهِدَ لِي عُرْوَةُ عَلَى أَبِيهِ ، شَهِدَ لَهُ أَبُوهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میرے نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور اپنے عمامے پر مسح کیا پھر میں نے ان کے موزے اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں رہنے دو میں نے وضو کی حالت میں انہیں پہنا تھا چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 182، م: 274، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18243
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ ! قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیرقیام فرماتے کہ آپ کے مبارک قدم سوج جاتے لوگ کہتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادئیے ہیں پھر اتنی محنت ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کیا میں شکرگذار بندہ نہ بنوں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1130، م: 2819