حدیث نمبر: 18174
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ ، وَالْمَاشِي أَمَامَهَا قَرِيبًا عَنْ يَمِينِهَا ، أَوْ عَنْ يَسَارِهَا ، وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ ، وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوار آدمی جنازے کے پیچھے چلے پیدل چلنے والے کی مرضی ہے (آگے چلے یا پیچھے دائیں جانب چلے یا بائیں جانب) اور نابالغ بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، جس میں اس کے والدین کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعاء کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، مبارك بن فضالة يدلس ويسوي، وقد عنعن، وقد توبع
حدیث نمبر: 18175
حَدَّثَنَا سَعْدٌ ، وَيَعْقُوبُ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ سَعْدُ : ابن أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : تَخَلَّفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَمَعِي الْإِدَاوَةُ ، قَالَ : " فَصَبَبْتُ عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَنْثَرَ ، قَالَ يَعْقُوبُ : ثُمَّ تَمَضْمَضَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَغْسِلَ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُخْرِجَهُمَا مِنْ كُمَّيْ جُبَّتِهِ ، فَضَاقَ عَنْهُ كُمَّاهَا ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنَ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَيَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَمَسَحَ بِخُفَّيْهِ وَلَمْ يَنْزِعْهُمَا ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى النَّاسِ ، فَوَجَدَهُمْ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِمْ ، فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ ، فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْآخِرَةَ بِصَلَاةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ ، فَأَفْزَعَ الْمُسْلِمِينَ ، فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " قَدْ أَحْسَنْتُمْ وَأَصَبْتُمْ " . يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے پیچھے ہٹنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے نماز مکمل کرنے کے لئے فرمایا اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا تم نے اچھا کیا اسی طرح کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 182، م: 274، عباد بن زياد مجهول، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18176
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَوَجَدَ مِنِّي رِيحَ الثُّومِ ، فَقَالَ : " مَنْ أَكَلَ الثُّومَ ؟ " قَالَ : فَأَخَذْتُ يَدَهُ ، فَأَدْخَلْتُهَا ، فَوَجَدَ صَدْرِي مَعْصُوبًا ، قَالَ : " إِنَّ لَكَ عُذْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے منہ سے لہسن کی بدبو محسوس ہوئی تو فرمایا لہسن کس نے کھایا ہے ؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اپنی قمیص میں داخل کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ میرے سینے پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم معذور ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى هلال، وقد اختلف فى وصله وإرساله، والراجع إرساله
حدیث نمبر: 18177
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، الْمَعْنَى ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، قَالَ زَيْدٌ : الْخُزَاعِيُّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ ضُرَّتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ ، فَقَتَلَتْهَا ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ ، وَفِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ " . قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : أَتُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلَ ، وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ " ، وَلِمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں کی لڑائی ہوئی، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کی چوب مار کر قتل کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا ایک دیہاتی کہنے لگا کہ آپ مجھ پر اس جان کا تاوان عائد کرتے ہیں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا اور نہ چلایا، ایسی جان کا معاملہ تو ٹال دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں جیسی تک بندی ہے لیکن فیصلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس بچے کے قصاص میں ایک غلام یا باندی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1682
حدیث نمبر: 18178
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ، فَقَالَ النَّاسُ : انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى تَنْكَشِفَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اس دن سورج گرہن ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ سورج اور چاند کسی کی موت سے نہیں گہناتے یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں لہٰذا جب ان میں سے کسی ایک کو گہن لگے تو تم فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو۔ یہاں تک کہ یہ ختم ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1060، م: 915
حدیث نمبر: 18179
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنْ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ : قِيلَ وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ بھیجیں جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ؟ انہوں نے جواباً لکھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل و قال، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1477، م: 593
حدیث نمبر: 18180
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ الْعَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ اكْتَوَى أَوْ اسْتَرْقَى ، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے جسم کو آگ سے داغے یا منتر پڑھے وہ توکل سے بری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، ليث بن أبى سليم ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18181
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ : " الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ ، وَالْمَاشِي يَمْشِي خَلْفَهَا ، وَأَمَامَهَا ، وَيَمِينَهَا ، وَشِمَالَهَا ، قَرِيبًا ، وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ ، يُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْعَافِيَةِ وَالرَّحْمَةِ " . قَالَ يُونُسُ : وَأَهْلُ زِيَادٍ يَذْكُرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا أَنَا فَلَا أَحْفَظُهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوار آدمی جنازے کے پیچھے چلے پیدل چلنے والے کی مرضی ہے ( آگے چلے یا پیچھے دائیں جانب چلے یا بائیں جانب) اور نابالغ بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، جس میں اس کے والدین کے لئے مغفرت اور رحمت کی دعاء کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، والراجح وقفه
حدیث نمبر: 18182
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَسُئِلَ : هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَزَادَهُ عِنْدِي تَصْدِيقًا الَّذِي قَرَّبَ بِهِ الْحَدِيثَ . قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ السَّحَرِ ، ضَرَبَ عَقِبَ رَاحِلَتِي ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ حَاجَةً ، فَعَدَلْتُ مَعَهُ ، فَانْطَلَقْنَا ، حَتَّى بَرَزْنَا عَنِ النَّاسِ ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، ثُمَّ انْطَلَقَ ، فَتَغَيَّبَ عَنِّي حَتَّى مَا أَرَاهُ ، فَمَكَثَ طَوِيلًا ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : " حَاجَتَكَ يَا مُغِيرَةُ ؟ " . قُلْتُ مَا لِي حَاجَةٌ ، فَقَالَ : " هَلْ مَعَكَ مَاءٌ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، فَقُمْتُ إِلَى قِرْبَةٍ ، أَوْ قَالَ : سَطِيحَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي آخِرَةِ الرَّحْلِ ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا ، " فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، فَأَحْسَنَ غَسْلَهُمَا ، قَالَ : وَأَشُكُّ أَقَالَ : دَلَّكَهُمَا بِتُرَابٍ أَمْ لَا ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ يَدِهِ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمِّ ، فَضَاقَتْ ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِهَا إِخْرَاجًا ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، قَالَ : فَيَجِيءُ فِي الْحَدِيثِ غَسْلُ الْوَجْهِ مَرَّتَيْنِ ، فَلَا أَدْرِي أَهَكَذَا كَانَ أَمْ لَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، ثُمَّ رَكِبْنَا فَأَدْرَكْنَا النَّاسَ ، وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، وَهُمْ فِي الثَّانِيَةِ ، فَذَهَبْتُ أُوذِنُهُ ، فَنَهَانِي ، فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي أَدْرَكْنَا ، وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھ کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس امت میں کوئی اور بھی ایسا شخص ہوا ہے جس کی امامت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دور چلے گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور فرمایا مغیرہ ! تم بھی اپنی ضرورت پوری کرلو میں نے عرض کیا کہ مجھے اس وقت حاجت نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور یہ کہہ کر میں وہ مشکیزہ لانے چلا گیا جو کجاوے کے پچھلے حصے میں لٹکا ہوا تھا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18183
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُسَيَّبَ بْنَ رَافِعٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 844، م: 593
حدیث نمبر: 18184
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : قَالَ : سَمِعْتُ مَيْمُونَ بْنَ أَبِي شَبِيبٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ رَوَى عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَذَّابِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك المغيرة
حدیث نمبر: 18185
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ بِالْهَاجِرَةِ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز دوپہر کی گرمی میں پڑھتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہم سے فرمایا نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کا اثر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 18186
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِحُجْزَةِ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي سَهْلٍ ، فَقَالَ : " يَا سُفْيَانُ بْنَ أَبِي سَهْلٍ ، لَا تُسْبِلْ إِزَارَكَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفیان بن ابی سہل کی کمر پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سنا اے سفیان بن ابی سہل اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے مت لٹکاؤ کیونکہ اللہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، علته شريك، والانقطاع بين عبدالملك والمغيرة
حدیث نمبر: 18187
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وحصين بن عقبة مجهول
حدیث نمبر: 18188
ح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ . .
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاختلاف فيه على شريك
حدیث نمبر: 18189
ح حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ .
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، حصين بن عقبة مجهول، واختلف فيه على شريك
حدیث نمبر: 18190
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ لِي : " يَا مُغِيرَةُ ، خُذْ الْإِدَاوَةَ " ، قَالَ : فَأَخَذْتُهَا ، قَالَ : ثُمَّ انْطَلَقْتُ مَعَهُ ، " فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ ، قَالَ : فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْهَا ، فَضَاقَتْ ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ مَسَحَ خُفَّيْهِ ، ثُمَّ صَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا مغیرہ پانی کا برتن پکڑ لو میں اسے پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیرگذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور پانی منگوایا۔ اور اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18191
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنِ ابْنِ سَوْقَةَ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنْ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَحَدٌ ، قَالَ : فَأَمْلَى عَلَيَّ وَكَتَبْتُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ثَلَاثًا ، وَنَهَى عَنْ ثَلَاثٍ ، فَأَمَّا الثَّلَاثُ اللَّاتِي نَهَى اللَّهُ عَنْهُنَّ : فَقِيلَ وَقَالَ ، وَإِلْحَافُ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةُ الْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو اور اس میں آپ کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی راوی نہ ہو ؟ انہوں نے جواباً لکھوا بھیجا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل و قال کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال دراز کرنا حرام قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 844، م: 593، وهذا إسناد منقطع، ابن سوقة لا يروي عن وراد
حدیث نمبر: 18192
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مُغِيرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ : اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ : إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . وَكَانَ " يَنْهَى عَنْ : قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ ، وَمَنْعٍ وَهَاتِ ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ ، وَوَأْدِ الْبَنَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا، بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا ممنوع قرار دیا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6473، م: 593
حدیث نمبر: 18193
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ . وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، رَفَعَهُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَغَمَزَ ظَهْرِي ، أَوْ كَتِفِي بِشَيْءٍ كَانَ مَعَهُ ، قَال : وَتَبِعْتُهُ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : " أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، وَمَعِي سَطِيحَةٌ مِنْ مَاءٍ ، " فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ ، فَرَفَعَ الْجُبَّةَ عَلَى عَاتِقِهِ ، وَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ، وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ ، قَالَ : وَذَكَرَ النَّاصِيَةَ بِشَيْءٍ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا ، فَأَدْرَكْنَا الْقَوْمَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يَؤُمُّهُمْ ، وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً ، فَذَهَبْتُ لِأُوذِنَهُ ، فَنَهَانِي ، فَصَلَّيْنَا مَعَهُ رَكْعَةً ، وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دورچلے گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور فرمایا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور یہ کہہ کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد ادا کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18194
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالاَ : أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ ، قَالَ الْمُغِيرَةُ : فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِطِ ، فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ ، أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ ، " وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ ، فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ ، فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ ، حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ . قَالَ الْمُغِيرَةُ : فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يُصَلِّي بِهِمْ ، فَأَدْرَكَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ : فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْآخِرَةَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ ، فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ ، فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ، أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " أَحْسَنْتُمْ ، أَوْ قَدْ أَصَبْتُمْ " . يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا کیا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 182، م: 274، عباد بن زياد مجهول، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18195
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ : قَالَ الْمُغِيرَةُ : وَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18196
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍة ، فَقَالَ : " أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، ثُمَّ مَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ ، فَقَالَ : " دَعْهُمَا ، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ " فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میرے نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور اپنے عمامے پر مسح کیا پھر میں نے ان کے موزے اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں رہنے دو میں نے وضو کی حالت میں انہیں پہنا تھا چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کرلیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18197
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ، فَمَسَحَ أَسْفَلَ الْخُفِّ وَأَعْلَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کیا اور موزے کے نچلے اور اوپر والے حصے پر مسح فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الوليد بن مسلم يدلس ويسوي، وقد عنعن، ثم هنا بين ثور ورجاء انقطاع، والصواب: إرساله
حدیث نمبر: 18198
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ ! فَقَالَ : " أَوَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر قیام فرماتے کہ آپ کے مبارک قدم سوج جاتے لوگ کہتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دئیے ہیں پھر اتنی محنت ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4836، م: 2819
حدیث نمبر: 18199
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدَةَ ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ ، سمعا ورادا كتب إليه يعني المغيرة : كتب إليه معاوية : اكتب إلي بشيء سمعته من رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ يَعْنِي الْمُغِيرَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 844، م: 593
حدیث نمبر: 18200
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ الْعَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمْ يَتَوَكَّلْ مَنْ اسْتَرْقَى وَاكْتَوَى " . وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّتَيْنِ : أَوْ اكْتَوَى.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے جسم کو آگ سے داغے یا منتر پڑھے وہ توکل سے بری ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18201
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُهُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَجْرَانَ ، قَالَ : فَقَالُوا : أَرَأَيْتَ مَا تَقْرَءُونَ : يَا أُخْتَ هَارُونَ سورة مريم آية 28 ، وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا ؟ ! قَالَ : فَرَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَا أَخْبَرْتَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُسَمَّوْنَ بِالْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے " نجران " کی طرف بھیجا وہاں کے عیسائی مجھ سے کہنے لگے کہ تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو " اے ہارون کی بہن " (حضرت مریم (علیہا السلام) کو لوگوں نے حضرت عیسیٰ کی بن باپ پیدائش پر اس طرح مخاطب کیا تھا) حالانکہ حضرت موسیٰ (جن کے بڑے بھائی حضرت ہارون تھے) تو حضرت عیسیٰ سے اتنا عرصہ پہلے گذر چکے تھے ( تو حضرت مریم علیہا ان کی بہن کیسے ہوسکتی ہیں ؟ ) جب میں واپس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے انہیں یہ جواب کیوں نہ دیا کہ پہلے کے لوگ انبیاء اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2135
حدیث نمبر: 18202
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبِيعَةَ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ خَرَجَ يَوْمًا فَرَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمّ قَالَ : مَا بَالُ هَذَا النَّوْحِ فِي الْإِسْلَامِ ، وَكَانَ مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَنِيحَ عَلَيْهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ ، فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ يُعَذَّبْ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
علی بن ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے نکلے اور منبر پر چڑھ کر اللہ کی حمد وثناء کرنے کے بعد فرمایا اسلام میں یہ کیسا نوحہ ؟ دراصل ایک انصاری فوت ہوگیا تھا جس پر نوحہ ہو رہا تھا " میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ پر جھوٹ باندھنا عام آدمی جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے یاد رکھو ! جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتا ہے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کرلینا چاہئے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص پر نوحہ کیا جاتا ہے اسے اس نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1291، م: 933
حدیث نمبر: 18203
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ يَزَالَ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ لوگوں پر غالب رہے گی یہاں تک کہ جب ان کے پاس اللہ کا حکم آئے تب بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3640، م: 1921
حدیث نمبر: 18204
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : قَالَ لِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : مَا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَحَدٌ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ ، وَإِنَّهُ قَالَ لِي : " مَا يَضُرُّكَ مِنْهُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ جَبَلَ خُبْزٍ وَنَهْرَ مَاءٍ ! قَالَ : " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دجال کے متعلق جتنی کثرت کے ساتھ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھے ہیں کسی نے نہیں پوچھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ وہ تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے سا تھا ایک نہر بھی ہوگی اور فلاں فلاں چیز بھی ہوگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہت حقیر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7122، م: 2153
حدیث نمبر: 18205
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : أَكَلْتُ ثُومًا ، ثُمَّ أَتَيْتُ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِرَكْعَةٍ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قُمْتُ أَقْضِي ، فَوَجَدَ رِيحَ الثُّومِ ، فَقَالَ : " مَنْ أَكَلَ هَذِهِ الْبَقْلَةَ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا " . قَالَ : فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ ، أَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي عُذْرًا ، نَاوِلْنِي يَدَكَ . قَالَ : فَوَجَدْتُهُ وَاللَّهِ سَهْلًا ، فَنَاوَلَنِي يَدَهُ ، فَأَدْخَلْتُهَا فِي كُمِّي إِلَى صَدْرِي ، فَوَجَدَهُ مَعْصُوبًا ، فَقَالَ : " إِنَّ لَكَ عُذْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے لہسن کھایا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت پڑھا چکے تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں اٹھ کر اپنی رکعت قضاء کرنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے منہ سے لہسن کی بدبو محسوس ہوئی تو فرمایا جو شخص یہ سبزی کھائے وہ اس وقت تک ہمارے مسجد کے قریب نہ آئے جب تک اس کی بدبو دور نہ ہوجائے میں اپنی نماز مکمل کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں معذور ہوں مجھے اپنا ہاتھ پکڑائیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اپنی قمیص میں داخل کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ میرے سینے پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم معذور ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، والراجح ارساله
حدیث نمبر: 18206
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو جرابوں اور جوتوں پر مسح فرمالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا حديث ضعيف لتفرد أبى قيس به، والمسح على الجوربين انما ثبت من أحاديث أخر
حدیث نمبر: 18207
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَرَوْحٌ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ رَوْحُ : بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَقَالَ وَكِيعٌ : عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ ، وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا ، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوار آدمی جنازے کے پیچھے چلے پیدل چلنے والے کی مرضی ہے (آگے چلے یا پیچھے دائیں جانب چلے یا بائیں جانب) اور نابالغ بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، واختلف فى رفعه ووقفه، والصواب وقفه
حدیث نمبر: 18208
حَدَّثَنَا وكيعٌ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " سَبِّ الْأَمْوَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18209
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ ، فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے کہ اس سے زندوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18210
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ ، فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو برابھلا کہنے سے منع فرمایا ہے کہ اس سے زندوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، زياد بن علاقة، سمعه فى هذه الرواية عن رجل عند المغيرة، وسمعه فى الروايتين السالفتين من المغيرة نفسه
حدیث نمبر: 18211
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَدَّثَ بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَذَّابِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك المغيرة
حدیث نمبر: 18212
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : ضِفْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَأَمَرَ بِجَنْبٍ ، فَشُوِيَ ، قَالَ : فَأَخَذَ الشَّفْرَةَ ، فَجَعَلَ يَحُزّ لِي بِهَا مِنْهُ ، قَالَ : فَجَاءَهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاة ، فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ ، وَقَالَ : " مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ ؟ " قَالَ مُغِيرَةُ : وَكَانَ شَارِبِي وَفَى ، فَقَصَّهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سِوَاكٍ ، أَوْ قَالَ : " أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں مہمان تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس ران بھونی گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چھری پکڑ کر مجھے اس میں سے کاٹ کاٹ کردینے لگے اس دوران حضرت بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لئے آگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری ہاتھ سے رکھ دی اور فرمایا اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں اسے کیا ہوا ؟ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسواک نیچے رکھ کر انہیں کتر دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18213
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ : اسْتَشَارَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ فِي مِلَاصِ الْمَرْأَةِ ، قَالَ : فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : " شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ ، أَوْ أَمَّةٍ " . قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ . قَالَ : فَشَهِدَ لَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا کہ اگر کسی سے حاملہ عورت کا بچہ ساقط ہوجائے تو کیا کیا جائے ؟ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ کی بات صحیح ہے تو کوئی گواہ پیش کیجئے جو اس حدیث سے واقف ہو ؟ اس پر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے شہادت دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1683 على وهم فى إسناده، وهم وكيع فى قوله: عن المسور بن مخرمة، والصواب بدون واسطة المسور بن مخرمة