حدیث نمبر: 18134
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَسُئِلَ : هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ السَّحَرِ ، ضَرَبَ عُنُقَ رَاحِلَتِي ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ حَاجَةً ، فَعَدَلْتُ مَعَهُ ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى بَرَزْنَا عَنِ النَّاسِ ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَته ، ثُمَّ انْطَلَقَ فَتَغَيَّبَ عَنِّي حَتَّى مَا أَرَاهُ ، فَمَكَثَ طَوِيلًا ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : " حَاجَتَكَ يَا مُغِيرَةُ ؟ " قُلْتُ : مَا لِي حَاجَةٌ . فَقَال : " هَلْ مَعَكَ مَاءٌ ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقُمْتُ إِلَى قِرْبَةٍ أَوْ إِلَى سَطِيحَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي آخِرَةِ الرَّحْلِ ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، فَأَحْسَنَ غَسْلَهُمَا ، قَالَ : وَأَشُكُّ أَقَالَ : دَلَّكَهُمَا بِتُرَابٍ ، أَمْ لَا ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ يَدَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ ، فَضَاقَتْ ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِهَا إِخْرَاجًا ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، قَالَ : فَيَجِيءُ فِي الْحَدِيثِ غَسْلُ الْوَجْهِ مَرَّتَيْن ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي أَهَكَذَا كَانَ أَمْ لَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، وَرَكِبْنَا فَأَدْرَكْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَهُمْ فِي الثَّانِيَةِ ، فَذَهَبْتُ أُوذِنُهُ فَنَهَانِي ، فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي أَدْرَكْنَا ، وَقَضَيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقْنَا .
مولانا ظفر اقبال
عمروبن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھ کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس امت میں کوئی اور بھی ایسا شخص ہوا ہے جس کی امامت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہو ؟ انہوں نے جواب دیاہاں ! ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دور چلے گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور فرمایا مغیرہ ! تم بھی اپنی ضرورت پوری کرلو میں نے عرض کیا کہ مجھے اس وقت حاجت نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور یہ کہہ کر میں وہ مشکیزہ لانے چلا گیا جو کجاوے کے پچھلے حصے میں لٹکا ہوا تھا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتارہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18135
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ ، وَهُمْ ظَاهِرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ لوگوں پر غالب رہے گی یہاں تک کہ جب ان کے پاس اللہ کا حکم آئے گا تب بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7311، م: 1921
حدیث نمبر: 18136
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامٌ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ حَدَّثَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ ، فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ : " قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُرَّةِ " . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ، فَأْتِ بِأَحَدٍ يَعْلَمُ ذَلِكَ ، فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا کہ اگر کسی سے حاملہ عورت کا بچہ ساقط ہوجائے تو کیا کیا جائے ؟ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ کی بات صحیح ہے تو کوئی گواہ پیش کیجئے جو اس حدیث سے واقف ہو ؟ اس پر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے شہادت دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6908
حدیث نمبر: 18137
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ لَهُ امْرَأَةً أَخْطُبُهَا ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا " . قَالَ : فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَخَطَبْتُهَا إِلَى أَبَوَيْهَا ، وَأَخْبَرْتُهُمَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَأَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ ، قَال : فَسَمِعَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا ، فَقَالَتْ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ ، فَانْظُرْ ، وَإِلَّا فَإِنِّي أَنْشُدُكَ ، كَأَنَّهَا أَعْظَمَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِ . قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَتَزَوَّجْتُهَا ، فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں فلاں عورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاکر پہلے اسے دیکھو کیونکہ اس سے تمہارے درمیان محبت بڑھے گی چناچہ میں انصار کی ایک عورت کے پاس آیا اور اس کے والدین کو پیغام نکاح دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی سنایا غالباً انہوں نے اسے پسند نہیں کیا لیکن اس عورت نے پردے کے پیچھے سے یہ بات سن لی اور کہنے لگی کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے کہ دیکھو تو پھر تم دیکھ سکتے ہو اگر تم ایسا نہیں کرتے تو میں تمہیں اللہ کی قسم دیتی ہوں، اس نے یہ بات بہت بڑی سمجھی تھی چناچہ میں نے اسے دیکھا اور اس سے شادی کرلی، پھر انہوں نے اس کے ساتھ اپنی موافقت کا ذکر کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، إن صح سماع بكر بن عبدالله من المغيرة
حدیث نمبر: 18138
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ ، فَقَتَلَتْهَا ، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ ، وَفِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ " ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : أَتُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ ! مِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ ؟ " . وَبِمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّة.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں کی لڑائی ہوئی، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کی چوب مار کر قتل کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا ایک دیہاتی کہنے لگا کہ آپ مجھ پر اس جان کا تاوان عائد کرتے ہیں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا اور نہ چلایا، ایسی جان کا معاملہ تو ٹال دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں جیسی تک بندی ہے لیکن فیصلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس بچے کے قصاص میں ایک غلام یا باندی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1682
حدیث نمبر: 18139
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالاَ : أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ : إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ يُسَلِّمُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . قَالَ وَرَّادٌ : ثُمَّ وَفَدْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى مُعَاوِيَةَ ، فَسَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ الْقَوْلِ ، وَيُعَلِّمُهُمُوهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا " جو ان کے کاتب وراد نے لکھا تھا " کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیرتے وقت یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا وراد کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ایک مرتبہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے برسر منبر انہیں لوگوں کو یہ کلمات کہنے کا حکم دیتے ہوئے سنا وہ لوگوں کو یہ کلمات سکھا رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6615، م: 593
حدیث نمبر: 18140
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَه : قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ ، فَنِيحَ عَلَيْهِ ، فَخَرَجَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثم قَالَ : مَا بَالُ النَّوْحِ فِي الْإِسْلَام ِ ؟ ! أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ ، أَلَا وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . أَلَا وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ يُنَحْ عَلَيْهِ ، يُعَذَّبْ بِمَا يُنَاحُ بِهِ عَلَيْه " .
مولانا ظفر اقبال
علی بن ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قرطہ بن کعب نامی ایک انصاری فوت ہوگیا اس پر آہ وبکاء شروع ہوگئی حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے نکلے اور منبر پر چڑھ کر اللہ کی حمد وثناء کرنے بعد فرمایا اسلام میں یہ کیسا نوحہ ؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ پر جھوٹ باندھنا عام آدمی پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے یاد رکھو ! جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتا ہے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کرلینا چاہئے۔ یاد رکھو ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص پر نوحہ کیا جاتا ہے اسے اس نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1291، م: 933
حدیث نمبر: 18141
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أَنْزِعُ خُفَّيْكَ ؟ قَالَ : " لَا ، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ ، ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِيًا بَعْدُ " ثُمَّ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْح .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئے اور سر اور موزوں پر مسح فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے موزے اتار نہ دوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے یہ وضو کی حالت میں پہنے تھے پھر میں انہیں اتار کر نہیں چلا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اسی طرح پڑھ لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 182، م: 274، مجالد ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18142
قال عبد الله : وجدتُ في كتاب أبي بخط يده : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : كَسَفَتْ الشَّمْسُ ضَحْوَةً حَتَّى اشْتَدَّتْ ظُلْمَتُهَا ، فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، فَقَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ سُورَةً مِنَ الْمَثَانِي ، ثُمَّ رَكَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ رَكَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ رَكَعَ الثَّانِيَةَ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ إِنَّ الشَّمْسَ تَجَلَّتْ ، فَسَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ سُورَةً ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : إِنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَإِنَّمَا هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِذَا انْكَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا ، فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ " . ثُمَّ نَزَلَ ، فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الصَّلَاةِ ، فَجَعَلَ يَنْفُخُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ إِنَّهُ مَدَّ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنَّ النَّارَ أُدْنِيَتْ مِنِّي حَتَّى نَفَخْتُ حَرَّهَا عَنْ وَجْهِي ، فَرَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ ، وَالَّذِي بَحَرَ الْبَحِيرَةَ ، وَصَاحِبَةَ حِمْيَرَ صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ " . .
مولانا ظفر اقبال
عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ چاشت کے وقت سورج گرہن ہوگیا اور آسمان اتنہائی تاریک ہوگیا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر اٹھے اور لوگوں کو نماز پڑھانے لگے انہوں نے اتنا طویل قیام کیا کہ جس میں " مثانی " کی ایک سورت پڑھی جاسکتی تھی اتنا ہی طویل رکوع کیا رکوع سے سر اٹھا کر اتنا ہی طویل رکوع دوبارہ کیا پھر سرا اٹھا کر اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھی۔ اتنی دیر میں میں سورج بھی روشن ہوگیا پھر انہوں نے سجدہ و نماز سے فاراغت پائی اور منبر پر چڑھ گئے اور فرمایا کہ جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اس دن سورج گرہن ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ سورج اور چاند کسی کی موت سے نہیں گہناتے یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں لہٰذا جب ان میں سے کسی ایک کو گہن لگے تو تم فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو۔ اس کے بعد انہوں نے منبر سے نیچے اتر کر یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کسوف پڑھا رہے تھے تو اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے پھونکیں مارنا شروع کردیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا جیسے کوئی چیز پکڑنا چاہ رہے ہوں اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ جہنم میرے اتنے قریب کردی گئی تھی کہ میں پھونکیں مار کر اس کی گرمی اپنے چہرے سے دور کرنے لگا میں نے جہنم میں لاٹھی والے کو بھی دیکھا جانوروں کو بتوں کے نام پر چھورنے کی رسم ایجاد کرنے والے کو بھی اور بلی کو باندھنے والی حمیری عورت کو بھی دیکھا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لضعف مجالد، وعبدالمتعال بن عبد الوهاب مستور، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18143
قال عبد الله بن أحمد : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، مِثْلَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مجالد ضعيف
حدیث نمبر: 18144
قال عبد الله بن أحمد : وجدت في كتاب أبي بخط يده : حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهُذَلِيَّتَيْنِ أَنَّ الْعَقْلَ عَلَى الْعَصَبَةِ ، وَأَنَّ الْمِيرَاثَ لِلْوَرَثَةِ ، وَأَنَّ فِي الْجَنِينِ غُرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوہذیل کی دو عورتوں کے بارے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور ورثہ کے لئے میراث کا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 18145
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ سَافَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَادِيًا ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ فَأَتَاهُ ، فَتَوَضَّأَ ، فَخَلَعَ خُفَّيْهِ ، فَتَوَضَّأَ ، فَلَمَّا فَرَغَ ، وَجَدَ رِيحًا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَعَادَ فَخَرَجَ ، فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، نَسِيتَ ، لَمْ تَخْلَعْ الْخُفَّيْنِ ، قَالَ : " كَلَّا ، بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک وادی میں قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے وہاں سے واپس آکر وضو کیا اور موزے اتار کر وضو کیا وضو سے فارغ ہونے کے بعد خروج ریح کا احساس ہوا تو دوربارہ چلے گئے واپس آکر وضو کیا اور اس مرتبہ موزوں پر ہی مسح کرلیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! شاید آپ بھول گئے کہ آپ نے موزے نہیں اتارے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قطعاً نہیں تم بھول گئے ہو مجھے تو میرے رب نے یہی حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: ضعيف بهذه السياقة، تفرد بها بكير، وهو ضعيف
حدیث نمبر: 18146
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَقَدْ كُنْتُ حَفِظْتُ مِنْ كَثِيرٍ مِنْ عُلَمَائِنَا بِالْمَدِينَةِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ كَانَ يَرْوِي ، عَنِ الْمُغِيرَةِ أَحَادِيثَ مِنْهَا أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میت کو غسل دے اسے خود بھی غسل کرلینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: وقال الأئمة الكبار: لا يصح من هذا الباب شيئ
حدیث نمبر: 18147
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَرَّادٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ، وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَأْدَ الْبَنَاتِ ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ ، وَمَنَعَ وَهَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل وقال، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال کرنا حرام قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18147
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2408، م: 593
حدیث نمبر: 18148
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً ضَرَبَتْهَا امْرَأَةٌ بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ ، فَقَتَلَتْهَا وَهِيَ حُبْلَى ، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَقَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ بِالدِّيَةِ ، وَفِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ " . فَقَالَ : عَصَبَتُهَا أَنْدِي مَنْ لَا طَعِمَ ، وَلَا شَرِبَ ، وَلَا صَاحَ ، فَاسْتَهَلَّ ، مِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ . فَقَالَ : " سَجْعٌ مِثْلُ سَجْعِ الْأَعْرَابِ " . وقَالَ شُعْبَةُ : سَمِعْتُ عُبَيْدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں کی لڑائی ہوئی، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کی چوب مار کر قتل کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا ایک دیہاتی کہنے لگا کہ آپ مجھ پر اس جان کا تاوان عائد کرتے ہیں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا اور نہ چلایا، ایسی جان کا معاملہ تو ٹال دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں جیسی تک بندی ہے لیکن فیصلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس بچے کے قصاص میں ایک غلام یا باندی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18148
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1682
حدیث نمبر: 18149
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : مَنْصُورٌ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ ، فَغَارَتَا ، فَضَرَبَتْهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ ، فَقَتَلَتْهَا ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا أَكَلَ ، وَلَا شَرِبَ ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ ؟ " قَالَ : " فَقَضَى فِيهِ غُرَّةً " . قَالَ : وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَة .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں کی لڑائی ہوئی، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کی چوب مار کر قتل کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا ایک دیہاتی کہنے لگا کہ آپ مجھ پر اس جان کا تاوان عائد کرتے ہیں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا اور نہ چلایا، ایسی جان کا معاملہ تو ٹال دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں جیسی تک بندی ہے لیکن فیصلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس بچے کے قصاص میں ایک غلام یا باندی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18149
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1682
حدیث نمبر: 18150
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَحَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى عَلَى سُبَاطَةِ بَنِي فُلَانٍ ، فَبَالَ قَائِمًا " . قَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ : فَفَحَّجَ رِجْلَيْهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18150
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: وهم فى اسناده حماد بن سلمة وعاصم بن بهدلة، فجعلاه من مسند المغيرة بن شعبة، والصواب هو حديث صحيح من حديث حذيفة
حدیث نمبر: 18151
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِحُجْزَةِ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي سَهْلٍ وَهُوَ يَقُولُ : " يَا سُفْيَانُ بْنَ أَبِي سَهْلٍ ، لَا تُسْبِلْ إِزَارَكَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفیان بن ابی سہل کی کمر پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سنا اے سفیان بن ابی سہل ! اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے مت لٹکاؤ کیونکہ اللہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18151
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك صدوق يخطئ كثيرا، وحصين إن كان ابن عقبة فهو مجهول، وإن كان ابن قبيصة فهو صدوق، وهذا اختلاف على شريك فيه
حدیث نمبر: 18152
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ نَوْفَلٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُثْلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاشوں کے ناک کان اور دیگر اعضاء کاٹنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18152
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل من ولد المغيرة، وللاختلاف فيه
حدیث نمبر: 18153
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ صَحِبَ قَوْمًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَوَجَدَ مِنْهُمْ غَفْلَةً ، فَقَتَلَهُمْ ، وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ ، فَجَاءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْبَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مشرکین کی ایک جماعت کے ساتھ تھے انہوں نے جب مشرکین کو غافل پایا تو انہیں قتل کردیا اور ان کا مال و دولت لے آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18153
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18154
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : خَطَبْتُ امْرَأَةً ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا ؟ " قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک عورت پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا ہے ؟ میں نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاکر پہلے اسے دیکھو، کیونکہ اس سے تمہارے درمیان محبت بڑھے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18154
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، إن صح سماع بكر بن عبدالله من المغيرة بن شعبة
حدیث نمبر: 18155
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُ أَنَا عَنْهُ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ " ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَعَهُ نَهَرٌ وَكَذَا وَكَذَا . قَالَ : " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دجال کے متعلق جتنی کثرت کے ساتھ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھے ہیں کسی نے نہیں پوچھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ وہ تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچاسکے گا میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ ایک نہر بھی ہوگی اور فلاں فلاں چیز بھی ہوگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہت حقیر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7122، م: 2152
حدیث نمبر: 18156
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قَالَ الْمُغِيرَةُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى ظُهُورِ الْخُفَّيْن " . قال عبد الله : قال أبي : حَدَّثَنَاه سُرَيْجٌ ، والْهَاشِمِيُّ أَيْضًا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن فى المتعابعات لأجل عبدالرحمن بن أبى الزناد
حدیث نمبر: 18157
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُمَا : صَلَاةُ الْإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى خَلْفَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْح " . وَمَسْحُ الرَّجُلِ عَلَى خُفَّيْهِ ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو چیزوں کے متعلق تو میں کسی سے سوال نہیں کروں گا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے ایک تو امام کا اپنی رعایا میں سے کسی کے پیچھے نماز پڑھنا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ فجر کی ایک رکعت میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرا موزوں پر مسح کرنا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه ضعف وانقطاع، ومحمد بن جعفر روي عن سعيد بن أبى عروبة بعد الاختلاط، وبكر بن عبدالله لم يسمع هذا الحديث من المغيرة
حدیث نمبر: 18158
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي وَرَّادٌ كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ ، اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَانَ إِذَا صَلَّى فَفَرَغَ ، قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " قَالَ : وَأَظُنُّهُ قَالَ : " وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 844، م: 593، أبو سعيد مجهول
حدیث نمبر: 18159
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، " فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ جِئْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ، قَالَ : فَلَمْ يَقْدِرْ أَنْ يُخْرِجَ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهَا ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء حاجت کی پھر میں پانی کا ایک برتن لے کر حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے وضو کرکے موزوں پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، والظاهر أن بين أبى الضحى والمغيرة مسروقاً
حدیث نمبر: 18160
قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ من وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، قَالَ الْمُغِيرَةُ : فَذَهَبْتُ مَعَهُ بِمَاءٍ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ مَاءً ، " فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمِّ جُبَّتِهِ ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ مِنْ ضِيقِ كُمِّ الْجُبَّةِ ، فَأَخْرَجَهَا مِنْ تَحْتِ جُبَّتِهِ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَحْسَنْتُمْ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے میں بھی پانی لے کر ساتھ چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد ادا کیا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا کیا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح على وهم فى إسناده، قوله: عباد بن زياد من ولد المغيرة خطأ، والصواب: ليس هو من ولد المغيرة، بل هو من ولد زياد بن أبى سفيان، وعباد هذا مجهول، وإسقاط مالك عروة وحمزة من الإسناد بين عباد وبين المغيرة ، وقوله: «عن أبيه» خطأ
حدیث نمبر: 18161
قال عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَاه مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ . قَالَ مُصْعَبٌ : وَأَخْطَأَ فِيهِ مَالِكٌ خَطَأً قَبِيحًا.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، فقول مالك: «عباد بن زياد من ولد المغيرة .....» خطاً، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 18162
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ ، وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا ، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوار آدمی جنازے کے پیچھے چلے پیدل چلنے والے کی مرضی ہے (آگے چلے یا پیچھے دائیں جانب چلے یا بائیں جانب) اور نابالغ بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى رفعه ووقفه
حدیث نمبر: 18163
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، " فَلَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، قَامَ وَلَمْ يَجْلِسْ ، فَسَبَّحَ بِهِ مَنْ خَلْفَهُ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ قُومُوا ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا صَنَعَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن انہوں نے اشارہ سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے ساتھ اسی طرح کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى رفعه ووقفه
حدیث نمبر: 18164
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْجَامِعِ ، فَإِذَا عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ الثَّقَفِيُّ قَدْ دَخَلَ مِنَ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى ، فَالْتَقَيْنَا قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ الْمَسْجِدِ ، فَابْتَدَأَنِي بِالْحَدِيثِ ، وَكَانَ يُحِبُّ مَا سَاقَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ ، فَابْتَدَأَنِي بِالْحَدِيثِ ، فَقَالَ : كُنَّا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَزَادَهُ فِي نَفْسِي تَصْدِيقًا الَّذِي قَرَّبَ بِهِ الْحَدِيثَ ، قَالَ : قُلْنَا : هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كُنَّا فِي سَفَرِ كَذَا وَكَذَا ، فَلَمَّا كَانَ فِي السَّحَرِ ، ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُنُقَ رَاحِلَتِهِ ، وَانْطَلَقَ فَتَبِعْتُهُ ، فَتَغَيَّبَ عَنِّي سَاعَةً ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : " حَاجَتَكَ ؟ " فَقُلْتُ : لَيْسَتْ لِي حَاجَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " هَلْ مِنْ مَاءٍ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، " فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ ، وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ شَامِيَّةٌ ، فَضَاقَتْ ، فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ، وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ ، وَعَلَى الْخُفَّيْنِ . ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ ، وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً ، فَذَهَبْتُ لِأُوذِنَهُ ، فَنَهَانِي ، فَصَلَّيْنَا الَّتِي أَدْرَكْنَا ، وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا " . .
مولانا ظفر اقبال
عمرو بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس امت میں کوئی اور بھی ایسا شخص ہوا ہے جس کی امامت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دور چلے گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور فرمایا مغیرہ ! تم بھی اپنی ضرورت پوری کرلو میں نے عرض کیا کہ مجھے اس وقت حاجت نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور یہ کہہ کر میں وہ مشکیزہ لانے چلا گیا جو کجاوے کے پچھلے حصے میں لٹکا ہوا تھا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18165
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ ، يَعْنِي فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، لعل ابن سيرين سمع الحديث من رجل، عن عمرو، ثم لقيه، فسمع منه
حدیث نمبر: 18166
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَزَالُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ قتال کرتی اور لوگوں پر غالب رہے گی یہاں تک کہ جب ان کے پاس اللہ کا حکم آئے گا تب بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7311، م: 1921
حدیث نمبر: 18167
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لِي : " أَيْ بُنَيَّ ، وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ ؟ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ جِبَالَ الْخُبْزِ وَأَنْهَارَ الْمَاءِ ! فَقَالَ : " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دجال کے متعلق جتنی کثرت کے ساتھ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھے ہیں کسی نے نہیں پوچھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ وہ تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچاسکے گا میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے سا تھا ایک نہر بھی ہوگی اور فلاں فلاں چیز بھی ہوگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہت حقیر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7122، م: 2152
حدیث نمبر: 18168
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ ، وَاللَّهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي ، وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ ، وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ الْمُرْسَلِينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ ، وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِدْحَةٌ مِنَ اللَّهِ ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھ لو تو تلوار سے اس کی گردن اڑادوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو فرمایا کہ تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو ؟ بخدا ! میں ان سب سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیور ہے اسی بناء پر اس نے ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام قرار دیا اور اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی شخص نہیں ہوسکتا اللہ سے زیادہ عذر کو پسند کرنے والا کوئی شخص نہیں ہوسکتا، اسی وجہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ عبیداللہ قواریری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث سے زیادہ سخت حدیث فرقہ جہمیہ کے نزدیک کوئی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اللہ سے زیادہ تعریف پسند ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6846 ، م: 1499
حدیث نمبر: 18169
قال عبد الله بن أحمد : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ سَوَاءً . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ : لَيْسَ حَدِيثٌ أَشَدَّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلِهِ : " لَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِدْحَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6846، م: 1499
حدیث نمبر: 18170
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ إيَادًا يُحَدِّثُ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ بُرْمَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَا كَانَ يُسَافِرُ ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي وَجْهِ السَّحَرِ ، انْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي ، " فَضَرَبَ الْخَلَاءَ ، ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِطَهُورٍ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ، ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر پر نکلا صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے پانی منگوایا اور اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، وَكَانَ إِذَا ذَهَبَ ، أَبْعَدَ فِي الْمَذْهَبِ ، فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ، وَقَالَ : " يَا مُغِيرَةُ اتْبَعْنِي بِمَاءٍ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18172
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، فَقَالَ : " هَلْ مَعَكَ طَهُورٌ ؟ " قَال : فَاتَّبَعْتُهُ بِمِيضَأَةٍ فِيهَا مَاءٌ ، " فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ ، وَكَانَ فِي يَدَيْ الْجُبَّةِ ضِيقٌ ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى عِمَامَتِهِ وَخُفَّيْهِ ، وَرَكِبَ وَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يُتِمَّ الصَّلَاةَ ، وَقَالَ : " قَدْ أَحْسَنْتَ ، كَذَلِكَ فَافْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھاچکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18173
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ " قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ ، فَسَبَّحُوا بِهِ ، فَلَمْ يَجْلِسْ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن انہوں نے اشارہ سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند الكوفيين / حدیث: 18173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه ، ابن أبى ليلى سيئ الحفظ، لكنه توبع