حدیث نمبر: 18081
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا ، وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ ، فَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ . الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : وَقَالَ سَعِيدٌ : قَالَ مَطَرٌ : " لَا يَقْبَلُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا " . قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ : " لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " . أَوْ " عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ " . قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ حَدَّثَهُمْ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 18082
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، قَالَ : كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا ، وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، وَلَيْسَ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوْ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . قَالَ عَفَّانُ وَزَادَ فِيهِ هَمَّامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ غَنْمٍ وَإِنِّي لَتَحْتَ جِرَانِ رَاحِلَتِهِ ، وَزَادَ فِيهِ : " لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ " . وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ ، وَقَالَ : " رَغْبَةً عَنْهُمْ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18082
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 18083
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ ، وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا ، وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا ، وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوْ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 18084
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الثُّمَالِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهَدْيِ يَعْطَبُ ، قَالَ : " انْحَرْهُ وَاصْبُغْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ ، وَاضْرِبْ بِهِ عَلَى صَفْحَتِهِ " ، أَوْ قَالَ : " عَلَى جَنْبِهِ وَلَا تَأْكُلَنَّ مِنْهُ شَيْئًا أَنْتَ وَلَا أَهْلُ رُفْقَتِكَ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہدی کے اس جانور کے متعلق پوچھا جو مرنے کے قریب ہو ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح کردو، اس کے نعل کو خون میں رنگ دو اور اس کی پیشانی یا پہلو پر لگا دو اور خود تم یا تمہارے رفقاء اس میں سے کچھ نہ کھاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18084
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر وشريك وليث
حدیث نمبر: 18085
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَمْرٍو الثُّمَالِيِّ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي هَدْيًا ، قَالَ : " إِذَا عَطِبَ شَيْءٌ مِنْهَا فَانْحَرْهُ ، ثُمَّ اضْرِبْ خُفَّهُ فِي دَمِهِ ، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهُ ، وَلَا تَأْكُلْهُ أَنْتَ وَلَا أَهْلُ رُفْقَتِكَ ، وَخَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہدی کے اس جانور کے متعلق پوچھا جو مرنے کے قریب ہو ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح کردو، اس کے نعل کو خون میں رنگ دو اور اس کی پیشانی یا پہلو پر لگا دو اور خود تم یا تمہارے رفقاء اس میں سے کچھ نہ کھاؤ اور اسے لوگوں کے لئے چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18085
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 18086
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ الْخُشَنِيَّ حَدَّثَهُمْ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَإِنَّ رَاحِلَتَهُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا ، وَإِنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ ، فَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا . أَوْ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18086
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 18087
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمِنًى عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَإِنِّي لَتَحْتَ جِرَانِ نَاقَتِهِ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا ، وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ ، وَلَا يَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ ، أَلَا وَإِنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . قَالَ سَعِيدٌ ، وحَدَّثَنَا مَطَرٌ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ . وَزَادَ مَطَرٌ فِي الْحَدِيثِ : " وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18087
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 18088
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : قَالَ مَطَرٌ : " وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " ..
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ بھی اضافہ ہے کہ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 18088
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب