حدیث نمبر: 17945
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الشَّرِيدِ ، أَنَّ أُمَّهُ أَوْصَتْ أَنْ يُعْتِقَ عَنْهَا رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : عِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ نُوبِيَّةٌ ، فَأَعْتِقُهَا ؟ فَقَالَ : " ائْتِ بِهَا " . فَدَعَوْتُهَا ، فَجَاءَتْ ، فَقَالَ لَهَا : " مَنْ رَبُّكِ ؟ " قَالَتْ : اللَّهُ . قَالَ : " مَنْ أَنَا ؟ " فَقَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : " أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں ان کی والدہ نے یہ وصیت کی کہ ان کی طرف سے ایک مسلمان غلام آزاد کردیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھتے ہوئے کہا کہ میرے پاس حبشہ کے ایک علاقے نوبیہ کی ایک باندی ہے، کیا میں اسے آزاد کرسکتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے کر آؤ، میں نے اسے بلایا، وہ آگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تیرا رب کون ہے ؟ اس نے کہا اللہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا میں کون ہوں ؟ اس نے جواب دیا آپ اللہ کے رسول ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے آزاد کردو، یہ مسلمان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17945
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 17946
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ ، شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ " . قَالَ وَكِيعٌ : عِرْضُهُ : شِكَايَتُهُ . وَعُقُوبَتُهُ : حَبْسُهُ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی شکایت اور اسے قید کرنے کو حلال کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17946
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين