حدیث نمبر: 17921
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا ، وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ ، فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قُلْتُمْ ؟ " قَالُوا : دَعَوْنَا لَهُ اللَّهُمَّ أَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ ؟ وَأَيْنَ صَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ ؟ وَأَيْنَ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ ؟ " شَكَّ فِي الصَّلَاةِ وَالْعَمَلِ شُعْبَةُ فِي أَحَدِهِمَا الَّذِي بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی، ان میں سے ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پہلے شہید ہوگیا اور کچھ عرصے بعد دوسرا طبعی طور پر فوت ہوگیا، لوگ اس کے لئے دعاء کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا دعاء کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں اے اللہ ! اس کی بخشش فرما، اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطاء فرما، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر شہید ہونے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں گئیں ؟ جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو بھی اعمال کئے، وہ کہاں جائیں گے ؟ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 17922
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حدیث نمبر: 17923
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، قَالَ : آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا ، وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ ، فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا قُلْتُمْ ؟ " قَالُوا : دَعَوْنَا لَهُ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ ، وَأَنْ يَرْحَمَهُ ، وَأَنْ يُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ ، وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ ، أَوْ صِيَامُهُ بَعْدَ صِيَامِهِ ؟ " قَالَ : " إِنَّ مَا بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی، ان میں سے ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پہلے شہید ہوگیا اور کچھ عرصے بعد دوسرا طبعی طور پر فوت ہوگیا، لوگ اس کے لئے دعاء کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا دعاء کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں اے اللہ ! اس کی بخشش فرما، اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطاء فرما، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر شہید ہونے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں گئیں ؟ جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو بھی اعمال کئے، وہ کہاں جائیں گے ؟ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔
حدیث نمبر: 17924
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ " . وَحَدَّثَ بِهِ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ جو کہ صحابی تھے سے مروی ہے کہ ناگہانی موت افسوسناک موت ہے۔ گزشتہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 17925
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي مَوْتِ الْفَجْأَةِ : " أَخْذَةُ أَسَفٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبید بن خالد رضی اللہ عنہ جو کہ صحابی تھے سے مروی ہے کہ ناگنہانی موت افسوسناک موت ہے۔