حدیث نمبر: 17842
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَزَقَ يَوْمًا فِي كَفِّهِ ، فَوَضَعَ عَلَيْهَا أُصْبُعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " قَالَ اللَّهُ : ابْنَ آدَمَ أَنَّى تُعْجِزُنِي ، وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ ، حَتَّى إِذَا سَوَّيْتُكَ وَعَدَلْتُكَ ، مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ وَلِلْأَرْضِ مِنْكَ وَئِيدٌ ، فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ التَّرَاقِيَ ، قُلْتَ : أَتَصَدَّقُ ، وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پر تھوکا اور اس پر انگلی رکھ کر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم ! تو مجھے کس طرح عاجز کرسکتا ہے جبکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے ؟ جب میں نے تجھے برابر اور معتدل بنادیا تو تو دو چادروں کے درمیان چلنے لگا اور زمین پر تیری چاپ سنائی دینے لگی، تو جمع کر کے روک کر رکھتا رہا، جب روح نکل کر ہنسلی کی ہڈی میں پہنچی تو کہتا ہے کہ میں یہ چیز صدقہ کرتا ہوں، لیکن اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا ؟ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17842
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 17843
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَفِّهِ ، فَقَالَ : " ابْنَ آدَمَ " فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17843
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 17844
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَقَ يَوْمًا فِي كفَّه ، فَوَضَعَ عَلَيْهَا إِصْبُعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " قَالَ اللَّهُ : عَزَّ وَجَلَّ بُنَيَّ آدَمَ ، أَنَّى تُعْجِزُنِي ، وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ ، حَتَّى إِذَا سَوَّيْتُكَ وَعَدَلْتُكَ ، مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ وَلِلْأَرْضِ مِنْكَ وَئِيدٌ ، فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ التَّرَاقِيَ قُلْتَ أَتَصَدَّقُ ، وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پر تھوکا اور اس پر انگلی رکھ کر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم ! تو مجھے کس طرح عاجز کرسکتا ہے جبکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے ؟ جب میں نے تجھے برابر اور معتدل بنادیا تو تو دو چادروں کے درمیان چلنے لگا اور زمین پر تیری چاپ سنائی دینے لگی، تو جمع کر کے روک کر رکھتا رہا، جب روح نکل کر ہنسلی کی ہڈی میں پہنچی تو کہتا ہے کہ میں یہ چیز صدقہ کرتا ہوں، لیکن اب صدقہ کرنے کا وقت کہاں رہا ؟ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17844
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 17845
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ ، فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَقُلْ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَقَالَ : " وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ ".
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17845
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن