حدیث نمبر: 17798
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ ، كَانَ رَجُلٌ قُتِلَ مِنْهُمْ بِأَوْطَاسٍ فقال له النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا عَامِرٍ ، أَلَا غَيَّرْتَ ؟ ! " فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَيْنَ ذَهَبْتُمْ ! إِنَّمَا هِيَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ مِنَ الْكُفَّارِ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ اوطاس میں ان کا ایک آدمی مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عامر ! تمہیں غیرت نہ آئی، ابو عامر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھ کر سنادی اے ایمان والو ! اپنے نفس کا خیال رکھنا اپنے اوپر لازم کرلو، اگر تم ہدایت پر ہوئے تو کسی کے بھٹکنے سے تمہیں نقصان نہیں ہوگا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے اور فرمایا تم کہاں جا رہے ہو ؟ آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ اے اہل ایمان ! اگر تم ہدایت پر ہوئے تو گمراہ کافر نہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، حديث على بن مدرك عن الصحابة منقطع
حدیث نمبر: 17799
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللَّهِ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ ، تَجِدُونَ الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أَوْ فِي الدَّارِ ، فَيَقْتَطِعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِهِ ذِرَاعًا ، فَإِذَا اقْتَطَعَهُ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظیم خیانت زمین کے گز میں خیانت ہے، تم دیکھتے ہو کہ دو آدمی ایک زمین یا ایک گھر میں پڑوسی ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک گز ظلما لے لیتا ہے، ایسا کرنے والے کو قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اس حصے کا طوق بنا کر گلے میں پہنایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن