حدیث نمبر: 17411
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عَنْ عُقَبْة بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ أَكْثَرَ مُنَافِقِي هَذِهِ الْأُمَّةِ لَقُرَّاؤُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے اکثر منافقین قراء ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل مشرح بن هاعان
حدیث نمبر: 17412
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ عَلَى الْقُرْآنِ بِأَنْ جُعِلَ فِيهَا سَجْدَتَانِ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا پورے قرآن میں سورت حج ہی کی یہ فضیلت ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اور جو شخص یہ دونوں سجدے نہیں کرتا گویا اس نے یہ سورت پڑھی ہی نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بطرقه وشواهده دون قوله: «ومن لم يسجدهما فلا يقرأهما» ، وهذا الإسناد ضعيف، حديث مشرح عن عقبة خاصة مقال
حدیث نمبر: 17413
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَسْلَمَ النَّاسُ ، وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے اور عمرو بن عاص ایمان لائے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 17414
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ الْغَافِقِيَّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ " ، فَلَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَالَ : " اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ فسبح باسم ربک العظیم نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں شامل کرلو (اسی وجہ سے رکوع میں سبحان ربی العظیم کہا جاتا ہے) اور جب سبح اسم ربک الاعلی نازل ہوئی تو فرمایا اسے اپنے سجدہ میں شامل کرلو۔ (اسی وجہ سے سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہا جاتا ہے ) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 17415
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ ، قَالَ : لَمْ أَسْمَعْ مِنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ . قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ : وَحَدَّثَنِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْكِتَابِ وَاللَّبَنِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ ؟ قَالَ : " يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَيَتَأَوَّلُونَهُ عَلَى غَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَيُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَيَبْدُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوقبیل سے سندا مروی ہے کہ میں نے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے صرف ذیل کی حدیث سنی ہے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اپنی امت کے متعلق کتاب اور دودھ سے خطرہ ہے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اور دوھ سے خطرے کا کیا مطلب ؟ فرمایا کہ اسے منافقین سیکھیں گے اور اہل ایمان سے جھگڑا کریں گے اور دودھ کو پسند کرتے ہوں گے اور اس کی وجہ سے جماعت سے نکل جائیں گئے اور جمعہ کی نمازیں چھوڑ دیا کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه حسنان
حدیث نمبر: 17416
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْخَيْرِ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَسْمَعُ أَذَانَ الْمَغْرِبِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَلَا أُعَجِّبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ؟ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَغْمِصَهُ ، قَالَ عُقْبَةُ : أَمَا إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : مَا يَمْنَعُكَ الْآنَ ؟ قَالَ : الشُّغْلُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوالخیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ابو تمیم جیشانی رحمہ اللہ کو نماز مغرب کی اذان سننے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا، تو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابو تمیم کی اس حرکت سے آپ کو تعجب نہیں ہوتا کہ وہ نماز مغرب سے قبل دو رکعتیں پڑھتے ہیں، میرا مقصد ابو تمیم کو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کی نظروں میں گرانا تھا، لیکن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ کام ہم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں کرتے تھے میں نے پوچھا کہ پھر اب کیوں نہیں کرتے ؟ فرمایا مصروفیت کی وجہ سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1184
حدیث نمبر: 17417
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُوبَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرُّعَيْنِيُّ ، وَأَبُو مَرْحُومٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ ہر نماز کے بعد معوذات (جن سورتوں میں قل اعوذ کا لفظ آتا ہے) پڑھا کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 814
حدیث نمبر: 17418
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا : سَمِعْنَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ وَسُورَةَ يُوسُفَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ ، إِنَّكَ لَمْ تَقْرَأْ سُورَةً أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا أَبْلَغَ عِنْدَهُ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ " ، قَالَ يَزِيدُ : لَمْ يَكُنْ أَبُو عِمْرَانَ يَدَعُهَا ، وَكَانَ لَا يَزَالُ يَقْرَؤُهَا فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، نبی صلی اللہ علیہ سوار تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں پر ہاتھ رکھ کر عرض کیا کہ مجھے سورت ہود اور سورت یوسف پڑھا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عقبہ کے نزدیک تم سورت فلق سے زیادہ بلیغ کوئی سورت نہ پڑھو گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17419
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يُضِيفُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو مہمان نوازی نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل سوء حفظ ابن لهيعة
حدیث نمبر: 17420
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْ كَانَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ ، مَا مَسَّتْهُ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر قرآن کریم کو کسی چمڑے میں لپیٹ کر بھی آگ میں ڈال دیا جائے تو آگ اسے جلائے گی نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، مشرح عن عقبة خاصة مقال، وابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17421
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ ، حَدَّثَنِي أَبُو قَبِيلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي اثْنَتَيْنِ : الْقُرْآنَ وَاللَّبَنَ ، أَمَّا اللَّبَنُ : فَيَبْتَغُونَ الرِّيفَ وَيَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ وَيَتْرُكُونَ الصَّلَوَاتِ ، وَأَمَّا الْقُرْآنُ : فَيَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ فَيُجَادِلُونَ بِهِ الْمُؤْمِنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اپنی امت کے متعلق کتاب اور دودھ سے خطرہ ہے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اور دوسرے خطرے کا کیا مطلب ؟ فرمایا کہ اسے منافقین سیکھیں گے اور اہل ایمان سے جھگڑا کریں گے اور دودھ کو پسند کرتے ہوں گے اور اس کی وجہ سے جماعت سے نکل جائیں گئے اور جمعہ کی نمازیں چھوڑ دیا کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، أبو السمع ضعيف، يعتبر به فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 17422
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَنْصُورٍ ، عَنْ دُخَيْنٍ الْحَجْرِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ ، فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكْتَ هَذَا ؟ ! قَالَ : " إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمَةً " ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا ، فَبَايَعَهُ ، وَقَالَ : " مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (دس آدمیوں کا) ایک وفد حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے نو آدمیوں کو بیعت کرلیا اور ایک سے ہاتھ روک لیا، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے نو کو بیعت کرلیا اور اس شخص کو چھوڑ دیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے تعویذ پہن رکھا ہے، یہ سن کر اس نے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اس تعویذ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی بیعت لے لی اور فرمایا جو شخص تعویذ لٹکاتا ہے وہ شرک کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 17423
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا النَّذْرُ كَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17424
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، فَصَارَ لِعُقْبَةَ جَذَعَةٌ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ ! قَالَ : " ضَحِّ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کئے تو میرے حصے میں چھ ماہ کا ایک بچہ آیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق قربانی کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 17425
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي الْأَسْلَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ فِي مَخْرَجٍ خَرَجْنَاهُ ، فَحَانَتْ صَلَاةٌ ، فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَؤُمَّنَا ، فَأَبَى عَلَيْنَا ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَؤُمُّ عَبْدٌ قَوْمًا إِلَّا تَوَلَّى مَا كَانَ عَلَيْهِمْ فِي صَلَاتِهِمْ ، إِنْ أَحْسَنَ فَلَهُ ، وَإِنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعلی ہمدانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر پر روانہ ہوا، ہمارے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے عرض کیا آپ ہماری امامت کیجئے، (انہوں نے انکار کردیا اور) فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص لوگوں کی امامت کرے بروقت اور مکمل نماز پڑھائے تو اسے بھی ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی اور جو شخص اس میں کوتاہی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، مقتدیوں پر نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف الأسلمي
حدیث نمبر: 17426
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَيِّ ، وَكَانَ يَكْرَهُ شُرْبَ الْحَمِيمِ ، وَكَانَ إِذَا اكْتَحَلَ اكْتَحَلَ وِتْرًا ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ وِتْرًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے داغنے سے منع فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گرم پانی پینے کو ناپسند فرماتے تھے، جب سرمہ لگاتے تو طاق عدد میں اور جب دھونی دیتے تو وہ بھی طاق عدد میں دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن صحيح، رواه عن ابن لهيعة أبو عبدالرحمن المقرئ، وروايته عنه صالحة
حدیث نمبر: 17427
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا ، وَإِذَا اكْتَحَلَ أَحدُكم ، فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی دھونی دے تو طاق عدد میں اور سرمہ لگائے تو وہ بھی طاق عدد میں لگائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن كسابقه
حدیث نمبر: 17428
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ ، فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی دھونی دے تو طاق عدد میں اور سرمہ لگائے تو وہ بھی طاق عدد میں لگائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن كسابقه
حدیث نمبر: 17429
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ مِثْلَهُ سَوَاءً ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أنَّ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ مَوْلًى لِشُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ ، يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا تیر جس چیز کو شکار کر کے تمہارے پاس لے آئے اسے کھالو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام رجل فيه
حدیث نمبر: 17430
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ مَوْلَى شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ وَحُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ ، يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا تیر جس چیز کو شکار کر کے تمہارے پاس لے آئے اسے کھالو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام رجل فيه
حدیث نمبر: 17431
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَأَظُنُّ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ أَبِي رُقَيَّةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مُخَلَّدٍ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَمَا لَكُمْ فِي الْعَصَبِ وَالْكَتَّانِ مَا يَكْفِيكُمْ عَنِ الْحَرِيرِ ، وَهَذَا رَجُلٌ فِيكُمْ يُخْبِرُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُمْ يَا عُقْبَةُ ، فَقَامَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ كَذِبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . وَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ ، وَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا ، حُرِمَهُ أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ہشام بن ابی رقیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے خطبہ دے رہے تھے اور میں بھی سن رہا تھا، انہوں نے فرمایا لوگو ! کیا ریشم سے عصب اور کتان تمہاری کفایت نہیں کرتے ؟ یہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ تم میں موجود ہیں جو تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بتائیں گے، عقبہ ! کھڑے ہوجائیے، چنانچہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے، وہ اپنے لئے جہنم میں ٹھکانہ بنالے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے اور آخرت میں اسے پہننے سے محروم رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17432
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَاهُ ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ سُرَيْجٌ : عَنْ عَمْرٍو ، وقَالَ هَارُونُ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : " وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60 ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر اس آیت " واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ " کی تلاوت کر کے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یاد رکھو ! قوت سے مراد تیر اندازی ہے، یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1918
حدیث نمبر: 17433
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وسُرَيجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ أَرَضُونَ وَيَكْفِيكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَا يُعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهِ " ، قَالَ سُرَيْجٌ : ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے سامنے بہت سی سر زمینیں مفتوح ہوجائیں گی اور اللہ تعالیٰ تمہاری کفایت فرمائے گا، لہذا کسی شخص کو اپنے تیروں میں مشغول ہونے سے عاجز نہیں آنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1918
حدیث نمبر: 17434
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا واَهْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذات الجنب نامی بیماری میں مرنے والا شخص شہید ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17435
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أُجْرِيَ عَلَيْهِ أَجْرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں اسلامی سرحدوں کی حفاطت کرتا ہے، اس کے نامہ اعمال میں مسلسل ثواب لکھا جاتا رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا الحديث قد رواه عن ابن لهيعة عبدالله المقرئ وقتيبه وروايتهما عنه صالحة
حدیث نمبر: 17436
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ قَالَ يَحْيَى : فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُجْرَى عَلَيْهِ أَجْرُ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر میت کے نامہ عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستہ میں اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے کہ اس کے نامہ اعمال میں دوبارہ زندہ ہونے تک ثواب لکھا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 17437
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ غُلَامًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِهِ عَنْهَا ؟ قَالَ : " أُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَأَمْسِكْ عَلَيْكَ حُلِيَّ أُمِّكَ " ، حَدَّثَنَاه أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْمُقْرِئَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے کچھ زیورات چھوڑے ہیں، کیا میں انہیں صدقہ کر دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا انہوں نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا ؟ اس نے جواب دیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اپنی والدہ کے زیورات سنبھال کر رکھو۔ گزشتہ حدیث میں اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف ومتنه منكر، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17438
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِحُلِيٍّ كَانَ لِأُمِّهِ عَنْ أُمِّهِ بَعْدَ مَوْتِهَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَلَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے کچھ زیورات چھوڑے ہیں، کیا میں انہیں صدقہ کر دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا انہوں نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا ؟ اس نے جواب دیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اپنی والدہ کے زیورات سنبھال کر رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، رشدين بن سعد ضعيف سيئ الحفظ، وكان يخلط فى الحديث، وله مناكير، وهذا الحديث محفوظ من حديث ابن لهيعة
حدیث نمبر: 17439
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ حَيُّ بْنُ يُؤْمِنَ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ فَيَعْرَقُ النَّاسُ ، فَمِنْ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ عَرَقُهُ عَقِبَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْعَجُزَ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْخَاصِرَةَ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ مَنْكِبَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ عُنُقَهُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَأَلْجَمَهَا فَاهُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ هَكَذَا وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهِ عَرَقُهُ " ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِشَارَةً.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سورج زمین کے انتہائی قریب آجائے گا جس کی بناء پر لوگ پسینہ پسینہ ہوجائیں گے چنانچہ کسی کا پسینہ اس کی ایڑیوں تک ہوگا، کسی کا نصف پنڈلی تک، کسی کا گھٹنوں تک، کسی کا سرین تک، کسی کا کوکھ تک، کسی کا کندھوں تک، کسی کا گردن تک اور کسی کا پسینہ منہ کے درمیان تک ہوگا اور لگام کی طرح اس کے منہ میں ہوگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارہ کر کے بتاتے ہوئے دیکھا اور کوئی اپنے پسینے میں مکمل ڈوبا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17440
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ يَرْعَى الصَّلَاةَ ، كَتَبَ لَهُ كَاتِبَاهُ ، أَوْ كَاتِبُهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَالْقَاعِدُ يَرْعَى الصَّلَاةَ كَالْقَانِتِ ، وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب انسان وضو کر کے نماز کے خیال سے مسجد آتا ہے تو ہر وہ قدم جو وہ مسجد کی طرف اٹھاتا ہے، فرشتہ اس کے لئے ہر قدم کے عوض دس نیکیاں لکھتا جاتا ہے اور بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والا نماز پڑھنے والے کی طرح ہوتا ہے اور اسے نمازیوں میں لکھا جاتا ہے جب سے وہ گھر سے نکلا اور جب تک گھر واپس آئے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17441
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، عَمَّنْ ، سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ آكُلَ مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَأَذِنَ لِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا، میں نے زکوٰۃ کے جانوروں میں سے کھانے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عقبة بن عامر، وابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17442
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَعْجَبُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ الشَّظِيَّةِ لِلْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا ، يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ ، يَخَافُ شَيْئًا ، قَدْ غَفَرْتُ لَهُ وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارا رب اس شخص سے بہت خوش ہوتا ہے جو کسی ویرانے میں بکریاں چراتا ہے اور نماز کا وقت آنے پر اذان دیتا ہے اور اقامت کہتا ہے، اسے صرف میرا خوف ہے، میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، ابن لهيعة توبع
حدیث نمبر: 17443
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَعْجَبُ رَبُّكَ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يَخَافُ مِنِّي ؟ ! قَدْ غَفَرْتُ لَهُ ، فَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ ".
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17444
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور آہستہ آواز سے قرآن پڑھنے والا خفیہ طور پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17445
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " اقْرَءُوا هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَاهُنَّ أَوْ أَعْطَانِيهِنَّ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کرو، کیونکہ مجھے یہ دونوں آیتیں عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا الحديث رواه عن ابن لهيعة قتيبة بن سعيد، وروايته عنه صالحة
حدیث نمبر: 17446
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِمَسَبَّةٍ عَلَى أَحَدٍ ، كُلُّكُمْ بَنُو آدَمَ ، طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَملَئُوه ، لَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِدِينٍ أَوْ تَقْوَى ، وَكَفَى بِالرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ بَذِيًّا بَخِيلًا فَاحِشًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے یہ نسب نامے کسی کے لئے عیب اور طعنہ نہیں ہیں تم سب آدم کی اولاد ہو اور ایک دوسرے کے قریب ہو، دین یا عمل صالح کے علاوہ کسی وجہ سے کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، انسان کے فحش گو ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ بیہودہ گو ہو، بخیل اور بزدل ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواه عنه ابن وهب و قتيبة، وروايتهما عنه صالحة
حدیث نمبر: 17447
حَدَّثَنَا يحيي بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ : إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، قَالَ : اسْتُرْ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : مَا أَسْتُرُ عَلَيْهِمْ ! أُرِيدُ أَنْ أَذْهَبَ أَجِيءَ بِالشُّرَطِ عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ عُقْبَةُ : وَيْحَكَ ، مَهْلًا عَلَيْهِمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا ، كَانَ كَمَنْ اسْتَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
دخین جو حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کا کاتب تھا، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمارے پڑوسی شراب پیتے ہیں، میں پولیس کو بلانے جا رہا ہوں تاکہ وہ آکر انہیں پکڑ لے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کرو، بلکہ انہیں سمجھاؤ اور ڈراؤ،۔ کاتب نے ایسا ہی کیا لیکن وہ باز نہ آئے، چنانچہ دخین دوبارہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے اور اب تو میں پولیس کو بلا کر رہوں گا، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا افسوس ! ایسا مت کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے، گویا وہ کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو بچا لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة، ولجهالة مولي عقبة بن عامر
حدیث نمبر: 17448
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ رَجِلٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ صَلَّى غَيْرَ سَاهٍ وَلَا لَاهٍ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " ، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً : " غُفِرَ مَا كَانَ قَبْلَهَا مِنْ سَيِّئَةٍ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر اس طرح نماز پڑھے کہ اس میں بھولے اور نہ ہی غفلت برتے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الذى روى عنه بكر بن سوادة، ولجهالة ربيعة بن قيس، وابن لهيعة متابع
حدیث نمبر: 17449
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أخْبَرَنَا بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً غَيْرَ سَاهٍ وَلَا لَاهٍ ، كُفِّرَ عَنْهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا مِنْ شَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر اس طرح نماز پڑھے کہ اس میں بھولے اور نہ ہی غفلت برتے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17450
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السِّيْلَحِينِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ رُزَيْقٍ الثَّقَفِيِّ . وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ رُزَيْقٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الذُّنُوبِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی رخصت کو قبول نہیں کرتا اسے عرفات کے پہاڑوں کے برابر گناہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة رزيق الثقفي، وابن لهيعة سيئ الحفظ ، وقد اضطرب فى إسناده