حدیث نمبر: 17331
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا ، كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، وہ ایسے ہے جیسے اس نے کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو نئی زندگی عطا کردی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهعية ولجهالة مولي عقبة بن عامر، وقد انقلب اسمه على ابن لهيعة فسماه أبا كثير، وإنما هو: كثير أبو الهيثم
حدیث نمبر: 17332
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ يُقَالُ لَهُ : أَبُو كَثِيرٌ ، قَالَ : لَقِيتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، قَالَ : دَعْهُمْ ، ثُمَّ جَاءَهُ ، فَقَالَ : أَلَا أَدْعُو عَلَيْهِمْ الشُّرَطُ ؟ فَقَالَ عُقْبَةُ : وَيْحَكَ ، دَعْهُمْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مِنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا ، كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ کے آزاد کردہ غلام ابو کثیر کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو ، کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میں ان کے لئے پولیس کو نہ بلوا لوں، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ارے بھئی ! انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو ، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، وہ ایسے ہے جیسے اس نے کسی زندہ درگور کی ہوئی بچی کو نئی زندگی عطاء کردی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17333
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ " أَوْ قَالَ : " يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ " ، قَالَ يَزِيدُ : وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ إِلَّا تَصَدَّقَ فِيهِ بِشَيْءٍ وَلَوْ كَعْكَةً ، أَوْ بَصَلَةً ، أَوْ كَذَا.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان حساب کتاب اور فیصلہ شروع ہوجائے، راوی ابو الخیر کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ کوئی دن ایسا نہیں جانے دیتے تھے جس میں کوئی چیز خواہ میٹھی روٹی یا پیاز ہی ہو، صدقہ نہ کرتے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17334
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَابْتَدَأْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَجَاةُ المُؤمِن ؟ قَالَ : " يَا عُقْبَةُ ، احْرُسْ لِسَانَكَ ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ " . قَالَ : ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَابْتَدَأَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي ، قَالَ : ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَابْتَدَأَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَقَالَ : " يَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ ثَلَاثِ سُوَرٍ أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ ، وَالْإِنْجِيلِ ، وَالزَّبُورِ ، وَالْفُرْقَانِ الْعَظِيمِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ، قَالَ : فَأَقْرَأَنِي قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ قَالَ : " يَا عُقْبَةُ ، لَا تَنْسَاهُنَّ ، وَلَا تَبِيتَ لَيْلَةً حَتَّى تَقْرَأَهُنَّ " ، قَالَ : فَمَا نَسِيتُهُنَّ مِنْ مُنْذُ قَالَ : " لَا تَنْسَاهُنَّ " وَمَا بِتُّ لَيْلَةً قَطُّ حَتَّى أَقْرَأَهُنَّ . قَالَ عُقْبَةُ : ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَابْتَدَأْتُهُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِفَوَاضِلِ الْأَعْمَالِ ، فَقَالَ : " يَا عُقْبَةُ ، صِلْ مَنْ قَطَعَكَ ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ ، وَأَعْرِضْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری ملاقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو میں نے آگے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک تھام لیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مومن کی نجات کس طرح ہوگی ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عقبہ ! اپنی زبان کی حفاظت کرو اپنے گھر کو اپنے لئے کافی سمجھو اور اپنے گناہوں پر آہ وبکاء کرو۔ کچھ عرصہ بعد دوبارہ ملاقات ہوئی، اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا اے عقبہ بن عامر ! کیا میں تمہیں تورات، زبور، انجیل اور قرآن کی تین سب سے بہتر سورتیں نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ مجھے آپ پر نثار کرے، کیوں نہیں ! چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورت اخلاص، سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں اور فرمایا عقبہ ! انہیں مت بھلانا اور کوئی رات ایسی نہ گذارنا جس میں یہ سورتیں نہ پڑھو، چنانچہ میں اس وقت سے انہیں کبھی بھولنے نہیں دیا اور کوئی رات انہیں پڑھے بغیر نہیں گذاری۔ کچھ عرصے بعد پھر ملاقات ہوئی تو میں نے آگے بڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک تھام لیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سب سے افضل اعمال کے بارے میں بتائیے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عقبہ ! رشتہ توڑنے والے سے رشتہ جوڑو، محروم رکھنے والے کو عطاء کرو اور ظالم سے درگذر اور اعراض کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، م: 814، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد الألهاني، ومعان بن رفاعة حسن الحديث إلا عند المخالفة
حدیث نمبر: 17335
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ وَكَانَ رَجُلًا يُحِبُّ الرَّمْيَ ، إِذَا خَرَجَ خَرَجَ بِي مَعَهُ فَدَعَانِي يَوْمًا ، فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : تَعَالَ أَقُولُ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا حَدَّثَنِي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ : صَانِعَهُ الْمُحْتَسِبَ فِي صَنَعْتِهِ الْخَيْرَ ، وَالرَّامِيَ بِهِ ، وَمُنْبِلَهُ " . وَقَالَ : " ارْمُوا وَارْكَبُوا ، وَلَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا ، وَلَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلَّا ثَلَاثٌ : تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ ، وَمُلَاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ ، فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ تَرَكَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
خالد بن زید کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ میرے یہاں تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ چلو، تیر اندازی کی مشق کرتے ہیں ایک دن میری طبیعت بوجھل تھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان کے، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
حدیث نمبر: 17336
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ عُلِّمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ ، فَهِيَ نِعْمَةٌ كَفَرَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اس نعمت کے سکھانے والے کی ناشکری کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
حدیث نمبر: 17337
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ، قَالَ : كَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ يَخْرُجُ فَيَرْمِي كُلَّ يَوْمٍ ، وَكَانَ يَسْتَتْبِعُهُ ، فَكَأَنَّهُ كَادَ أَنْ يَمَلَّ ، فَقَالَ : أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ : صَاحِبَهُ الَّذِي يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ ، وَالَّذِي يُجَهِّزُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالَّذِي يَرْمِي بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
خالد بن زید کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ میرے یہاں تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ چلو، تیر اندازی کی مشق کرتے ہیں ایک دن میری طبیعت بوجھل تھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان کے، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد الأزرق، وقد وهم فيه معمر، فقال: عن زيد بن سلام، والصواب: عن أبى سلام
حدیث نمبر: 17338
وَقَالَ : " ارْمُوا وَارْكَبُوا ، وَإِنْ تَرْمُوا خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا " . وَقَالَ : " كُلُّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ ابْنُ آدَمَ فَهُوَ بَاطِلٌ ، إِلَّا ثَلَاثًا : رَمْيَهُ عَنْ قَوْسِهِ ، وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ ، وَمُلَاعَبَتَهُ أَهْلَهُ ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ " ، قَالَ : فَتُوُفِّيَ عُقْبَةُ وَلَهُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ أَوْ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ قَوْسًا ، مَعَ كُلِّ قَوْسٍ قَرْنٌ وَنَبْلٌ ، وَأَوْصَى بِهِنَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَزْرَقِ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 17339
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، قَالَ : انْطَلَقَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى ، لِيُصَلِّيَ فِيهِ ، فَاتَّبَعَهُ نَاسٌ ، فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكُمْ ؟ قَالُوا : صُحْبَتُكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحْبَبْنَا أَنْ نَسِيرَ مَعَكَ وَنُسَلِّمَ عَلَيْكَ ، قَالَ : انْزِلُوا فَصَلُّوا ، فَنَزَلُوا فَصَلَّى وَصَلَّوْا مَعَهُ ، فَقَالَ حِينَ سَلَّمَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ ، إِلَّا دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عائذ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کے لئے روانہ ہوئے تو کچھ لوگ ان کے پیچھے ہو لئے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ساتھ چلنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آپ نے چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی کا شرف پایا ہے، اس لئے ہم آپ کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں اور آپ کو سلام کرنے کے لئے آئے ہیں حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہیں پر اترو اور نماز پڑھو، چنانچہ سب نے اتر کر نماز پڑھی، سلام پھیرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اور اپنے ہاتھوں کو کسی کے خون سے رنگین کئے ہوئے نہ ہو، اسے اجازت ہوگی کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے، اس میں داخل ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح إن كان عبدالرحمن بن عائذ سمعه من عقبة بن عامر
حدیث نمبر: 17340
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ ، يَقُولُ : أَتَيْنَا أَبَا الْخَيْرِ فَقَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا النَّذْرُ يَمِينٌ ، كَفَّارَتُهَا كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، لكن بلفظ: «كفارة النذر كفارة اليمين» ، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17341
حَدَّثَنَا هَاشْمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : اتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ ، فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى قَدَمِه ، فَقُلْتُ : أَقْرِئْنِي مِنْ سُورَةِ يُوسُفَ ، فَقَالَ : " لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں پر ہاتھ رکھ کر عرض کیا کہ مجھے سورت یوسف پڑھا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک تم سورت فلق سے زیادہ بلیغ کوئی سورت نہ پڑھو گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17341
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17342
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ ، فَرَكِبَهَا ، فَأَخَذَ عُقْبَةُ يَقُودُهَا لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُقْبَةَ : " اقْرَأْ " ، فَقَالَ : وَمَا أَقْرَأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ حَتَّى قَرَأَهَا ، فَعَرَفَ أَنِّي لَمْ أَفْرَحْ بِهَا جِدًّا ، فَقَالَ : " لَعَلَّكَ تَهَاوَنْتَ بِهَا ! فَمَا قُمْتَ تُصَلِّي بِشَيْءٍ مِثْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے سفید رنگ کا ایک خچر ہدیہ میں آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اسے ہانکنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا پڑھو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا پڑھوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت علق پڑھو، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے پڑھ دیا، تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ میں اس سے بہت زیادہ خوش نہیں ہوا، چنانچہ فرمایا شاید یہ تمہیں کم معلوم ہو رہی ہو ؟ تم سورت فلق سے زیادہ بلیغ کوئی سورت نماز میں نہ پڑھو گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17342
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 814، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بقية بن الوليد
حدیث نمبر: 17343
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وهَاشِمٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ ، فَلَبِسَهُ ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَنَزَعَهُ نَزْعًا عَنِيفًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ایک ریشمی جوڑا ہدیہ میں آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پہن کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بےچینی سے اتارا اور فرمایا متقیوں کے لئے یہ لباس شایان شان نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17343
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 375، م: 2075
حدیث نمبر: 17344
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا ، فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : " إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ ، وَإِنِّي شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى الْحَوْضِ ، أَلَا وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي ، وَلَكِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اہل احد کی قبروں پر پہنچ کر نماز جنازہ پڑھی، پھر واپس آکر منبر پر رونق افروز ہوئے اور فرمایا میں تمہارا انتظار کروں گا اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا، واللہ میں اس وقت بھی اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں، یاد رکھو ! مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں، بخدا ! مجھے تمہارے متعلق یہ اندیشہ نہیں ہے کہ میرے پیچھے تم شرک کرنے لگو گے، بلکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا میں منہمک ہو کر ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگو گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1344، م: 2296
حدیث نمبر: 17345
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا ، فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يَقْرُونَا ، فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ ؟ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ ، فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ ، فَاقْبَلُوا ، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا ، فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ بعض اوقات آپ ہمیں کہیں بھیجتے ہیں، ہم ایسی قوم کے پاس پہنچتے ہیں جو ہماری مہمان نوازی نہیں کرتی تو اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم کسی قوم میں مہمان بن کر جاؤ اور وہ لوگ اس چیز کا حکم دے دیں جو ایک مہمان کے لئے مناسب حال ہوتی ہے تو اسے قبول کرلو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو تم خود ان سے مہمان کا مناسب حق وصول کرسکتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2461، م: 1727
حدیث نمبر: 17346
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا ، فَقَسَمَهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا ، فَبَقِيَ عَتُودٌ مِنْهَا ، فَذَكَرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ضَحِّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کئے تو میرے حصے میں چھ ماہ کا ایک بچہ آیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق قربانی کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2300، م: 1965
حدیث نمبر: 17347
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ ؟ قَالَ : " الْحَمْوُ الْمَوْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے پاس جانے سے اپنے آپ کو بچاؤ ایک انصاری نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم دیور کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا دیور تو موت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5232، م: 2172
حدیث نمبر: 17348
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ الضَّمْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُقْبَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مُرْ أُخْتَكَ فَلْتَرْكَبْ وَلْتَخْتَمِرْ ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدا چل کر دوپٹہ اوڑھے بغیر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سختی کا کیا کرے گا ؟ اسے حکم دو کہ وہ دوپٹہ اوڑھ کر سوار ہو کر جائے اور تین روزے رکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: «ولتصم ثلاثة أيام» وهذا إسناد فيه ضعف، عبيدالله بن زحر مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
حدیث نمبر: 17349
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، وَيُونُسُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَنْكَحَ الْوَلِيَّانِ ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا ، وَإِذَا بَاعَ مِنْ رَجُلَيْنِ ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا " ، وَقَالَ يُونُسُ : " وَإِذَا بَاعَ الرَّجُلُ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کسی لڑکی کے دو ولی ہوں اور دونوں مختلف جگہوں پر اس کا نکاح کردیں، تو ان میں سے جس نے پہلے نکاح کیا ہوگا، وہ صحیح ہوگا اور جب کوئی شخص دو آدمیوں سے چیز خریدے تو ان میں سے پہلے بیچنے والے کی وہ چیز ملکیت تصور ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، لم يسمع الحسن من عقبة شيئا
حدیث نمبر: 17350
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : " أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ لَمْ يُقْرَأْ بِمِثْلِهِمَا ؟ " قُلْتُ : بَلَى ، فَعَلَّمَنِي : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ، فَلَمْ يَرَنِي أُعْجِبْتُ بِهِمَا ، فَلَمَّا نَزَلَ الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِهِمَا ، ثُمَّ قَالَ لِي : " كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَةُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے آگے آگے چل رہا تھا، اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا م ہیں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ سکھا دوں، جن کی مثل نہ ہو ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز فجر میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر میرے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا اے عقبہ ! تم کیا سمجھے ؟ (یہ دونوں سورتیں سوتے وقت بھی پڑھا کرو اور بیدار ہو کر بھی پڑھا کرو) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17351
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ ، أَوْ مَبَارِكِ الْإِبِلِ " . .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو، لیکن اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17352
وقَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 17353
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ . ح وحَدَّثَنَا الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ ، فَلَبِسَهُ ، فَصَلَّى فِيهِ بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ نَزَعَهُ نَزْعًا عَنِيفًا ، ثُمَّ أَلْقَاهُ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ لَبِسْتَهُ وَصَلَّيْتَ فِيهِ ! قَالَ : " إِنَّ هَذَا لَا يَنْبَغِي لِلْمُتَّقِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ایک ریشمی جوڑا ہدیہ میں آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پہن کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بےچینی سے اتارا اور فرمایا متقیوں کے لئے یہ لباس شایان شان نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده الأول من جهة الضحاك بن مخلد صحيح، والإسناد الثاني فيه محمد بن إسحاق وهو مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17354
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ صَاحِبُ مَكْسٍ الْجَنَّةَ " يَعْنِي : الْعَشَّارَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ٹیکس وصول کرنے میں ظلم کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 17355
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ أَرَ مِثْلَهُنَّ : الْمُعَوِّذَتَيْنِ " ، ثُمَّ قَرَأَهُمَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر دو ایسی سورتیں نازل ہوئی ہیں کہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے۔ مراد معوذتین ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17356
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا ، قَالَ : " أَمَرَتْكَ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَلَا تَفْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کرنا چاہتا ہوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا انہوں نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا ؟ اس نے جواب دیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر نہ کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17357
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً ، فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرتا ہے وہ اس کے لئے جہنم سے آزادی کا ذریعہ بن جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يلق قيساً الجذامي
حدیث نمبر: 17358
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُهْدَةُ الرَّقِيقِ أَرْبَعُ لَيَالٍ " ، قَالَ قَتَادَةُ : وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ يَقُولُونَ : ثَلَاثُ لَيَالٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غلام کی ذمہ داری چار دن تک رہتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع عقبة بن عامر، ثم هو مضطرب
حدیث نمبر: 17359
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ ، إِلَّا الْمُرَابِطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ يُجْرَى لَهُ أَجْرُ عَمَلِهِ حَتَّى يُبْعَثَ " ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ فِيهِ : " وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر میت کے نامہ عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستہ میں اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے کہ اس کے نامہ اعمال میں دوبارہ زندہ ہونے تک ثواب لکھا جاتا رہے گا۔ گزشتہ حدیث قتیبہ سے بھی مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اسے قبر کے امتحان سے محفوظ رکھا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17360
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : قَالَ عَبْدُ الله بْنُ يَزِيدَ أَظُنُّهُ عَنْ مِشْرَحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہترین اہل خانہ ابو عبداللہ، ام عبداللہ اور عبداللہ ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد روي عنه أيضاً مرسلاً
حدیث نمبر: 17361
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا قَبَاثُ بْنُ رَزِينٍ اللَّخْمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ ، ثُمَّ قَالَ : " تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ وَاقْتَنُوهُ " ، قَالَ قَبَاث : وَحَسِبْتُهُ قَالَ : " وَتَغَنُّوا بِهِ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ مِنَ الْعُقُلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، ہم نے جواب دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کتاب اللہ کا علم حاصل کیا کرو، اسے مضبوطی سے تھامو اور ترنم کے ساتھ اسے پڑھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، یہ قرآن باڑے میں بندھے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 17362
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ . ح وهَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوَفُّوا بِهِ ، مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام شرائط میں پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ حق دار وہ شرط ہے جس کے ذریعے تم اپنے لئے عورتوں کی شرمگاہ کو حلال کرتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ: 2721، م: 1418، فالحديث بإسناده الثاني صحيح، وأما بالإسناد الأول فهو حسن
حدیث نمبر: 17363
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، عَنْ ابْنِ عَمٍّ لَهُ أَخِي أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ رَفَعَ نَظَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ مِنَ الْجَنَّةِ ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر آسمان کی طرف دیکھ کر یوں کہے اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے، داخل ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: «ثم رفع نظره إلى السماء» ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن عم زهرة بن معبد، وهذا الحديث لم يسمعه عقبة من النبى صلى الله عليه وسلم ، إنما سمعه من عمر عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 17364
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ أَبُو مُصْعَبٍ الْمَعَافِرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ عَلَى سَائِرِ الْقُرْآنِ بِسَجْدَتَيْنِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا ، فَلَا يَقْرَأْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا پورے قرآن میں سورت حج ہی کی یہ فضیلت ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اور جو شخص یہ دونوں سجدے نہیں کرتا گویا اس نے یہ سورت پڑھی ہی نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بطرقه وشواهده دون قوله: «فمن لم يسجدهما فلا يقرأهما» ، وهذا الإسناد ضعيف، حديث مشرح بن هاعان عن عقبة خاصة مقال
حدیث نمبر: 17365
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ الْقُرْآنَ جُعِلَ فِي إِهَابٍ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ مَا احْتَرَقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر قرآن کریم کو کسی چمڑے میں لپیٹ کر بھی آگ میں ڈال دیا جائے تو آگ اسے جلائے گی نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، مشرح بن هاعان عن عقبة ضعيف، وابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 17366
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَإِنَّكَ لَا تَقْرَأُ بِمِثْلِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا معوذتین پڑھا کرو کیونکہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 814، وهذا إسناد ضعيف من أجل عبدالله بن لهيعة
حدیث نمبر: 17367
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحٌ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْثَرُ مُنَافِقِي أُمَّتِي قُرَّاؤُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کے اکثر منافقین قراء ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل مشرح بن هاعان
حدیث نمبر: 17368
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : قَالَ أَبِي : كَانَ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَافِظًا ، وَكَانَ يُحَدِّثُنَا ، وَكَانَ يَحْفَظُ ، كَتَبْتُ عَنْهُ أَنَا وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور آہستہ آواز سے قرآن پڑھنے والا خفیہ طور پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حمد بن خالد حافظ الحدیث تھے، وہ ہمیں حدیث بھی پڑھاتے تھے اور درزی کا کام بھی کرتے تھے، میں نے اور یحییٰ بن معین نے ان سے حدیثیں لکھی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17369
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يُحَدِّثُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَفِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ ، تَحِلُّ لَهُ الْجَنَّةُ أَنْ يَرِيحَ رِيحَهَا وَلَا يَرَاهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو رَيْحَانَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللهِ إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ وَأَشْتَهِيهِ ، حَتَّى إِنِّي لَأُحِبُّهُ فِي عَلَاقَةِ سَوْطِي ، وَفِي شِرَاكِ نَعْلِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ ذَاكَ الْكِبْرُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مرتے وقت جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو تو اس کے لئے جنت کی خوشبو حلال ہے اور نہ ہی وہ اسے دیکھ سکے گا، ایک قریشی آدمی جس کا نام ابو ریحانہ تھا نے عرض کی یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میری سواری کا کوڑا جوتے کا تسمہ عمدہ ہو، ( کیا یہ بھی تکبر ہے ؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تکبر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات کو قبول نہ کرے اور اپنی نظروں میں لوگوں کو حقیر سمجھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، ولابهام الرجل الذى يحدث عن عقبة
حدیث نمبر: 17370
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلْنَ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ أَوْ لَا يُرَى مِثْلَهُنَّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر ایسی دو سورتیں نازل ہوئی ہیں، کہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے، مراد معوذتین ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 814