حدیث نمبر: 17291
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً ، فَسَأَلَ عُقْبَةُ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ " ، فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْ عَنْهُ ، فَلَمَّا خَلَا مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عَادَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ تَعْذِيبِ أُخْتِكَ نَفْسَهَا لَغَنِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے، عقبہ رضی اللہ عنہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم بات کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے، اس لئے ایک مرتبہ پھر خلوت ہونے کے بعد اپنا سوال دہرایا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب سابق وہی حکم دیا اور فرمایا کہ تمہاری ہمشیرہ کے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرنے سے اللہ غنی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبيدالله بن زحر مختلف فيه ، والأكثر على تضعيفه
حدیث نمبر: 17292
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا عُهْدَةَ بَعْدَ أَرْبَعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار دن کے بعد بائع (بچنے والا) کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع عقبة بن عامر، ثم هو مضطرب
حدیث نمبر: 17293
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَعَلَيْهِ فَرُّوجُ مِن حَرِيرٍ وَهُوَ الْقَبَاءُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَزَعَهُ نَزْعًا عَنِيفًا ، وَقَالَ : " إِنَّ هَذَا لَا يَنْبَغِي لِلْمُتَّقِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی قبا پہن رکھی تھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بےچینی سے اتارا اور فرمایا متقیوں کے لئے یہ لباس شایان شان نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ: 375، م: 2075، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، وقد توبع
حدیث نمبر: 17294
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ " يَعْنِي : الْعَشَّارَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ٹیکس وصول کرنے میں ظلم کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد ابن إسحاق مدلس، وعنعنه
حدیث نمبر: 17295
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى يَهُودَ ، فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا : وَعَلَيْكُمْ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قَالَ أَبِي : خَالَفَهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا : عَنْ أَبِي بَصْرَةَ . حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ أَبُو بَصْرَةَ : يَعْنِي فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہذا تم انہیں ابتداء میں سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف وعلیکم کہنا۔ عبدالحمید بن جعر اور ابن لہیعہ نے مذکورہ حدیث میں ابوعبدالرحمن کی بجائے ابوبصرہ کا نام لیا ہے۔ گزشتہ حدیث ابوعاصم سے بھی مروی ہے، امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ مراد اس سے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، لكن من حديث أبى بصرة الغفاري، وهذا الإسناد قد أخطأ فيه ابن إسحاق، فجعله من مسند أبى عبدالرحمن الجهني
حدیث نمبر: 17296
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ ، إِذْ قَالَ لِي : " يَا عُقْبَُ ، أَلَا تَرْكَبُ ؟ " قَالَ : فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبَ مَرْكَبَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عُقْبَُ ، أَلَا تَرْكَبُ ؟ " قَالَ : فَأَشْفَقْتُ أَنْ تَكُونَ مَعْصِيَةً ، قَالَ : فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْتُ هُنَيَّةً ، ثُمَّ رَكِبَ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عُقْبَُ ، أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ ؟ قَالَ : قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و َقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ، ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا ، ثُمَّ مَرَّ بِي ، قَالَ : " كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَُ ؟ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَكُلَّمَا قُمْتَ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هُوَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَابِسٍ ، وَيُقَالَ : ابْنُ عَبْسٍ الْجُهَنِيُّ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے آگے آگے چل رہا تھا، اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عقبہ ! تم سوار کیوں نہیں ہوتے ؟ لیکن مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا خیال آیا کہ ان کی سواری پر میں سوار ہوں، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے عقبہ ! تم سوار کیوں نہٰ ہوتے، اس مرتبہ مجھے اندیشہ ہو کہ کہیں یہ نافرمانی کے زمرے میں نہ آئے، چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اترے تو میں سوار ہوگیا اور تھوڑی ہی دور چل کر اتر گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سوار ہوئے تو فرمایا اے عقبہ ! کیا میں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ سکھا دوں جو ان تمام سورتوں سے بہتر ہوں جو لوگ پڑھتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر میرے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا اے عقبہ ! تم کیا سمجھے ؟ یہ دونوں سورتیں سوتے وقت بھی پڑھا کرو اور بیدار ہو کر بھی پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17297
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " يَا ابْنَ عَابِسٍ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا تَعَوَّذَ الْمُتَعَوِّذُونَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ و قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عابس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابن عابس ! کیا میں تمہیں تعوذ کے سب سے افضل کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں جن سے تعوذ کرنے والے تعوذ کرتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہیں، فرمایا دو سورتیں ہیں سورت فلق اور سورت ناس۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17297
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17298
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أُثْكِلَ ثَلَاثَةً مِنْ صُلْبِهِ ، فَاحْتَسَبَهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ أَبُو عُشَّانَةَ مَرَّةً : " فِي سَبِيلِ اللَّهِ " وَلَمْ يَقُلْهَا مَرَّةً أُخْرَى وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے تین حقیقی بچے فوت ہوجائیں اور وہ اللہ کے سامنے ان پر صبر کا مظاہرہ کرے تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 17299
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُنْزِلَتْ عَلَيَّ سُورَتَانِ ، فَتَعَوَّذُوا بِهِنَّ ، فَإِنَّهُ لَمْ يُتَعَوَّذْ بِمِثْلِهِنَّ " يَعْنِي : الْمُعَوِّذَتَيْنِ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر دو سورتیں نازل ہوئی ہیں تم ان سے اللہ کی پناہ حاصل کیا کرو، کیونکہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے مراد معوذتین ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17300
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْرَقِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ الثَّلَاثَةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ : صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ ، وَالْمُمِدَّ بِهِ ، وَالرَّامِيَ بِهِ " . وَقَالَ : " ارْمُوا وَارْكَبُوا ، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا ، وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ ، إِلَّا رَمْيَةَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ ، وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ ، وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ ، وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ ، فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عَلَّمَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان میں، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17300
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله الأزرق، وقد أضطرب فى إسناده
حدیث نمبر: 17301
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد مولى المغيرة بن شعبة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17302
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ ، مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام شرائط میں پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ حق دار وہ شرط ہے جس کے ذریعے تم اپنے لئے عورتوں کی شرمگاہ کو حلال کرتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2721، م: 1418
حدیث نمبر: 17303
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ سورة الناس آية 1 إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ، و قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ سورة الفلق آية 1 إِلَى آخِرِ السُّورَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر ایسی دو سورتیں نازل ہوئی ہیں، کہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے، مراد معوذتین ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17303
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 814
حدیث نمبر: 17304
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، فَأَصَابَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ جَذَعَةً ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا ، فَقَالَ : " ضَحِّ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کئے تو میرے حصے میں چھ ماہ کا ایک بچہ آیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق قربانی کا حکم پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کی قربانی کرلو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17304
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5547، م: 1965
حدیث نمبر: 17305
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ : خَرَجْتُ فِي سَفَرٍ ، وَمَعَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : فَقُلْنَا لَهُ : إِنَّكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأُمَّنَا ، فَقَالَ : لَا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ ، وَأَتَمَّ الصَّلَاةَ ، فَلَهُ وَلَهُمْ ، وَمَنْ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابو علی ہمدانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سفر پر روانہ ہوا، ہمارے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر ہوں، آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، لہذا آپ ہماری امامت کیجئے، انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص لوگوں کی امامت کرے، بروقت اور مکمل نماز پڑھائے تو اسے بھی ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی اور جو شخص اس میں کوتاہی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، مقتدیوں پر نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، إسماعيل ضعيف فى روايته عن غير أهل بلده، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17306
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْيَحْصَبِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا ، مُرْهَا فَلْتَخْتَمِرْ ، وَلْتَرْكَبْ ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدا چل کر دوپٹہ اوڑھے بغیر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سختی کا کیا کرے گا ؟ اسے حکم دو کہ وہ دوپٹہ اوڑھ کر سوار ہو کر جائے اور تین روزے رکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: «ولتصم ثلاثة أيام» ، وهذا إسناد فيه ضعف، عبيدالله بن زحر مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
حدیث نمبر: 17307
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ، ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً ، فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً أُخْرَى ، فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ أُخْرَى ، حَتَّى يَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص گناہ کرتا ہو، پھر نیکی کے کام کرنے لگے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے، جس نے اتنی تنگ قمیص پہن رکھی ہو کہ اس کا گلا گھٹ رہا ہو، پھر وہ نیکی کا ایک عمل کرے اور اس کا ایک حلقہ کھل جائے، پھر دوسری نیکی کرے اور دوسرا حلقہ بھی کھل جائے یہاں تک کہ وہ اس سے آزاد ہو کر زمین پر نکل آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17308
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُلَيْلٍ السَّلِيحِيُّ ، وَهُمْ إِلَى قُضَاعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ جَالِسًا قَرِيبًا مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَخَرَجَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ ، فَاسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ ، قَالَ : وَكَانَ مِنْ أَقْرَإِ النَّاسِ قَالَ : فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ رِجَالٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالملک بن ملیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن میں منبر کے قریب حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، محمد بن ابی حذیفہ آئے اور منبر پر بیٹھ کر خطبہ دینے لگے، پھر قرآن کریم کی کوئی سورت پڑھی اور وہ بہترین قاری تھے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہت سے ایسے لوگ قرآن پڑھیں گے جن کے حلق سے وہ آگے نہ جائے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالملك بن مليل
حدیث نمبر: 17309
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، عَمَّنْ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ نَأْكُلَ مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَأَذِنَ لَنَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا، میں نے زکوٰۃ کے جانوروں میں سے کھانے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الراوي الذى سمع عقبة بن عامر
حدیث نمبر: 17310
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رِشْدِينُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُخْبِرُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَمْنَعُ أَهْلَ الْحِلْيَةِ وَالْحَرِيرَ ، وَيَقُولُ : " إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ حِلْيَةَ الْجَنَّةِ وَحَرِيرَهَا ، فَلَا تَلْبَسُوهَا فِي الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کو زیورات اور ریشم سے منع فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر تمہیں جنت کے زیورات اور ریشم محبوب ہیں، تو دنیا میں انہیں مت پہنو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، رشدين بن سعد ضعيف، وقد توبع
حدیث نمبر: 17311
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رِشْدِينُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ أَبُو الْحَجَّاجِ الْمَهْرِيُّ ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مِنَ الدُّنْيَا عَلَى مَعَاصِيهِ مَا يُحِبُّ ، فَإِنَّمَا هُوَ اسْتِدْرَاجٌ " ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ سورة الأنعام آية 44 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود دنیا میں اسے وہ کچھ عطاء فرما رہا ہے جو وہ چاہتا ہے تو یہ استدراج ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ جب انہوں نے ان چیزوں کو فراموش کردیا جن کے ذریعے انہیں نصیحت کی گئی تھی، تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے، حتی کہ جب وہ خود کو ملنے والی نعمتوں پر اترانے لگے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا اور وہ ناامید ہو کر رہ گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد
حدیث نمبر: 17312
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي شَظِيَّةٍ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُقِيمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا رب اس شخص سے بہت خوش ہوتا ہے جو کسی ویرانے میں بکریاں چراتا ہے اور نماز کا وقت آنے پر اذان دیتا اور اقامت کہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17313
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَنْسَابَكُمْ هَذِهِ لَيْسَتْ بِسِبَابٍ عَلَى أَحَدٍ ، وَإِنَّمَا أَنْتُمْ وَلَدُ آدَمَ ، طَفُّ الصَّاعِ لَمْ تَمْلَئُوهُ ، لَيْسَ لِأَحَدٍ فَضْلٌ إِلَّا بِالدِّينِ أَوْ عَمَلٍ صَالِحٍ ، حَسْبُ الرَّجُلِ أَنْ يَكُونَ فَاحِشًا بَذِيًّا ، بَخِيلًا جَبَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے یہ نسب نامے کسی کے لئے عیب اور طعنہ نہیں ہیں، تم سب آدم کی اولاد ہو اور ایک دوسرے کے قریب ہو، دین یا عمل صالح کے علاوہ کسی وجہ سے کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، انسان کے فحش گو ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ بےہودہ گو ہو، بخیل اور بزدل ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17314
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ . وَرَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ . وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ بُخْتٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ الْجُهَنِيِّ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ عُقْبَةُ : كُنَّا نَخْدُمُ أَنْفُسَنَا ، وَكُنَّا نَتَدَاوَلُ رَعِيَّةَ الْإِبِلِ بَيْنَنَا ، فَأَصَابَنِي رَعِيَّةُ الْإِبِلِ فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ النَّاسَ ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ حَدِيثِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَغُفِرَ لَهُ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : مَا أَجْوَدَ هَذَا ! قَالَ : فَقَالَ قَائِلٌ بَيْنَ يَدِي : الَّتِي كَانَ قَبْلَهَا يَا عُقْبَةُ أَجْوَدُ مِنْهَا ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَمَا هِيَ يَا أَبَا حَفْصٍ ؟ قَالَ : إِنَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ ، فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ يَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ ، لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ اپنے کام خود کرتے تھے اور آپس میں اونٹوں کو چرانے کی باری مقرر کرلیتے تھے، ایک دن جب میری باری آئی اور میں انہیں دوپہر کے وقت لے کر چلا، تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر بیان کرتے ہوئے دیکھا، میں نے اس موقع پر جو کچھ پایا، وہ یہ تھا کہ تم میں سے جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر کھڑا ہو کردو رکعتیں پڑھے جن میں وہ اپنے دل اور چہرے کے ساتھ متوجہ رہے تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور اس کے سارے گناہ معاف ہوگئے۔ میں نے کہا کہ یہ کتنی عمدہ بات ہے، اس پر مجھ سے آگے والے آدمی نے کہا کہ عقبہ ! اس سے پہلے والی بات اس سے بھی عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، میں نے پوچھا اے ابو حفص ! وہ کیا بات ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے آنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ تم میں سے جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر یوں کہے اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ و رسولہ۔ تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے، داخل ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناداه الأول والثاني قويان، وأما الإسناد الثالث، ففيه ليث ابن سليم، وهو مجهول
حدیث نمبر: 17315
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ شِفَاءٌ : فَفِي شَرْطَةِ مُحْجِمٍ ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ ، أَوْ كَيَّةٍ تُصِيبُ أَلَمًا ، وَأَنَا أَكْرَهُ الْكَيَّ وَلَا أُحِبُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کسی چیز میں شفاء ہوسکتی ہے تو وہ تین چیزیں ہیں، سینگی لگانے والے کا آلہ، شہد کا ایک گھونٹ اور زخم کو داغنا جس سے تکلیف پہنچے، لیکن مجھے داغنا پسند نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا سند حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 17316
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَيْسَ مِنْ عَمَلِ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْتَمُ عَلَيْهِ ، فَإِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ ، قَالَتْ الْمَلَائِكَةُ : يَا رَبَّنَا ، عَبْدُكَ فُلَانٌ قَدْ حَبَسْتَهُ ، فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ : اخْتِمُوا لَهُ عَلَى مِثْلِ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دن بھر کا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جس پر مہر نہ لگائی جاتی ہو، چنانچہ جب مسلمان بیمار ہوتا ہے تو فرشتے بارگاہ الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ پروردگار ! تو نے فلاں بندے کو روک دیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے تندرست ہونے تک جیسے اعمال وہ کرتا ہے، ان کی مہر لگاتے جاؤ یا یہ کہ وہ فوت ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17317
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ ، وَتَعَاهَدُوهُ ، وَتَغَنُّوا بِهِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کتاب اللہ کا علم حاصل کیا کرو، اسے مضبوطی سے تھامو اور ترنم کے ساتھ اسے پڑھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، یہ قرآن باڑے میں بندھے ہوئے اونٹوں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17318
قَالَ : حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْكِتَابَ وَاللَّبَنَ " ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا بَالُ الْكِتَابِ ؟ قَالَ : " يَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ ثُمَّ يُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا " ، فَقِيلَ : وَمَا بَالُ اللَّبَنِ ؟ قَالَ : " أُنَاسٌ يُحِبُّونَ اللَّبَنَ ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ الْجَمَاعَاتِ وَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے اپنی امت کے متعلق کتاب اور دودھ سے خطرہ ہے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کتاب سے خطرے کا کیا مطلب ؟ فرمایا کہ اسے منافقین سیکھیں گے اور اہل ایمان سے جھگڑا کریں گے، پھر کسی نے پوچھا کہ دودھ سے خطرے کا کیا مطلب ؟ فرمایا کہ کچھ لوگ دودھ کو پسند کرتے ہوں گے اور اس کی وجہ سے جماعت سے نکل جائیں گے اور جمعہ کی نمازیں چھوڑ دیا کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن روى عنه هذا الحديث ابن المقريء، وراويته عنه صالحة، وهو متابع أيضا
حدیث نمبر: 17319
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، أبن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17320
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ زُرْعَةَ الْمَعَافِرِيُّ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ بَعْدَ أَمْنِهَا " ، قَالُوا : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الدَّيْنُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے آپ کو پرامن ہونے کے بعد خطرے میں مبتلا نہ کیا کرو، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیسے ؟ فرمایا قرض لے کر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17321
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : كَانَ عُقْبَةُ يَأْتِينِي ، فَيَقُولُ : اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي ، فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ ، أَوْ تَثَاقَلْتُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ : صَانِعَهُ الْمُحْتَسِبَ فِيهِ الْخَيْرَ ، وَالرَّامِيَ بِهِ ، وَمُنْبِلَهُ ، فَارْمُوا وَارْكَبُوا ، وَلَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مَنْ أَنْ تَرْكَبُوا . وَلَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلَّا ثَلَاثٌ : مُلَاعَبَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ ، وَتَأْدِيبُهُ فَرَسَهُ ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ ، وَمَنْ عَلَّمَهُ اللَّهُ الرَّمْيَ فَتَرَكَهُ رَغْبَةً عَنْهُ ، فَنِعْمَةً كَفَرَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
خالد بن زید کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ میرے یہاں تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ہمارے ساتھ چلو، تیر اندازی کی مشق کرتے ہیں ایک دن میری طبیعت بوجھل تھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان کے، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
حدیث نمبر: 17322
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ ، فَإِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا معوذتین پڑھا کرو کیونکہ تم ان جیسی کوئی سورت نہیں پڑھو گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 814، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، ومشرح بن هاعان مختلف فيه
حدیث نمبر: 17323
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَّافٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي ، فَإِنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، فَأَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، فَهِيَ لَكُمْ وَلَهُمْ ، وَإِنْ لَمْ يُصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ، وَلَمْ يُتِمُّوا رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا ، فَهِيَ لَكُمْ وَعَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میرے بعد تم پر کچھ حکمران آئیں گے، اگر وہ بروقت نماز پڑھیں اور رکوع و سجود مکمل کریں تو وہ تمہارے اور ان کے لئے باعث ثواب ہے اور اگر وہ بروقت نماز نہ پڑھیں اور رکوع و سجود مکمل نہ کریں تو تمہیں اس کا ثواب مل جائے گا اور وہ ان پر وبال ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17324
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَأْ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، فَإِنِّي أُعْطِيتُهُمَا مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کرو، کیونکہ مجھے یہ دونوں آیتیں عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، محمد بن إسحاق مدلس وعنعنه، لكنه توبع، سلمة بن الفضل مختلف فيه، وقد توبع
حدیث نمبر: 17325
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نذر کا کفارہ بھی وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17326
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخِفَافُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : ذَكَرَ أَنَّ قَيْسًا الْجُذَامِيَّ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، فَهِيَ فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرتا ہے، وہ اس کے لئے جہنم سے آزادی کا ذریعہ بن جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يلق قيساً الجذامي
حدیث نمبر: 17327
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِ مِصْرَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مصر کے منبر سے ارشاد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی شخص کے لئے اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرنا حلال نہیں ہے، الاّ یہ کہ وہ چھوڑ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17328
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ ، وَلَا يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی شخص کے لئے اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیجنا حلال نہیں ہے تاآنکہ وہ اسے چھوڑ دے، اسی طرح اس کی بیع پر بیع کرنا حلال نہیں ہے الاّ یہ کہ وہ چھوڑ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 17329
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ وَيَزَنُ : بَطْنٌ مِنْ حِمْيَرَ قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْرَ غَازِيًا وَكَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَبْسٍ الْجُهَنِيُّ أَمَّرَهُ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : فَحَبَسَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ بِالْمَغْرِبِ ، فَلَمَّا صَلَّى قَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ لَهُ : يَا عُقْبَةُ ، أَهَكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، أَمَا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ " ؟ قَالَ : فَقَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : شُغِلْتُ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : أَمَا وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَذَا.
مولانا ظفر اقبال
مرثد بن عبداللہ یزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے یہ ان مصر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ جہاد کے سلسلے میں تشریف لائے، اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارا امیر حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ہوا تھا، ایک دن حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کو نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی، نماز سے فراغت کے بعد حضرت حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور فرمایا اے عقبہ ! کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب اسی طرح پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے نکلنے تک مؤخر نہیں کرے گی ؟ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کیوں نہیں، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو پھر آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں مصروف تھا حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا ! میرا تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن لوگ یہ سمجھیں گے کہ شاید آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17330
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ جُعْثُلٍ الْقِتْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ نَذَرَتْ فِي ابْنٍ لَهَا لَتَحُجَّنَّ حَافِيَةً بِغَيْرِ خِمَارٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " تَحُجُّ رَاكِبَةً مُخْتَمِرَةً ، وَلْتَصُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے پیدا چل کر دوپٹہ اوڑھے بغیر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سختی کا کیا کرے گا ؟ اسے حکم دو کہ وہ دوپٹہ اوڑھ کر سوار ہو کر جائے اور تین روزے رکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: «فى ابن لها» ودون قوله: «ولتصم» ، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة