حدیث نمبر: 17253
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاذَا لِي إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " ، فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ : " إِلَّا الدَّيْنُ ، سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام آنِفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں تو مجھے کیا ملے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت، جب وہ واپس جانے کے لئے مڑا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے، کہ یہ بات ابھی ابھی مجھے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بتائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17254
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى الهُذَليين ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاذَا لِي إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ ؟ ، قَالَ : " الْجَنَّةُ " ، قَالَ : فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَّا الدَّيْنُ ، سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام آنِفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں تو مجھے کیا ملے گا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت، جب وہ واپس جانے کے لئے مڑا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے، کہ یہ بات ابھی ابھی مجھے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بتائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 17254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن