حدیث نمبر: 17029
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ عُثْمَانُ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، وَنَنْصَرِفُ إِلَى السُّوقِ ، وَلَوْ رَمَى أَحَدُنَا بِالنَّبْلِ قَالَ عُثْمَانُ : رَمَى بِنَبْلٍ لَأَبْصَرَ مَوَاقِعَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے اور بازار آتے اس وقت اگر ہم میں سے کوئی شخص تیر پھینکتا تو وہ تیر گرنے کی جگہ کو بھی دیکھ سکتا تھا ۔
حدیث نمبر: 17030
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ، ويَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ، وَيَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا ، صَلُّوا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنایا کرو بلکہ ان میں نماز پڑھا کرو ۔ “
حدیث نمبر: 17031
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى . وَيَزِيدُ قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ، قَالَ يَزِيدُ : أَنَّ أَبَا عَمْرَةَ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّيَ بِخَيْبَرَ ، وَأَنَّهُ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " ، قَالَ : فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ ، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ ، قَالَ : " إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ ، فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر میں ایک مسلمان فوت ہو گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنے ساتھی کی نماز جنازہ تم خود ہی پڑھ لو ، یہ سن کر لوگوں کے چہرے کا رنگ اڑ گیا“ (کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس طرح انکار فرمانا اس شخص کے حق میں اچھی علامت نہ تھی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی کیفیت بھانپ کر فرمایا : ”تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں نکل کر بھی (مال غنیمت میں) خیانت کی ہے ، ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں سے ایک رسی ملی جس کی قیمت صرف دو درہم کے برابر تھی ۔“
حدیث نمبر: 17032
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ابنا عبيد قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ " وَقَالَ مُحَمَّدٌ : لَوْلَا أَنْ يُشَقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ، وَلَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اگر مجھے اپنی امت پر شفقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نماز عشاء ایک تہائی رات تک مؤخر کر کے پڑھتا اور انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔“
حدیث نمبر: 17033
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ " . ، وَيَزِيدُ قَالَ : أَنْبَأَنَا ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ غَيْرِ أَنْ لَا يُنْتَقَصُ ".
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے ، اس کے لیے روزہ دار کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور روزہ دار کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی ، اور جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامانِ جہاد مہیا کرے یا اس پیچھے اس کے اہلِ خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور مجاہد کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی ۔ “
حدیث نمبر: 17034
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : لَعَنَ رَجُلٌ دِيكًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلْعَنْهُ ، فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک شخص نے ایک مرغے پر ”اس کے چیخنے کی وجہ سے “ لعنت کی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس پر لعنت نہ کرو ، کیونکہ یہ نماز کی طرف بلاتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 17035
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَثَرِ سَمَاءٍ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں بارش کے اثرات میں نماز فجر پڑھائی ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔
حدیث نمبر: 17036
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْأَعْمَى يُخْبِرُ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ : السَّائِبُ مَوْلَى الْفَارِسِيِّينَ ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ : مَوْلًى لِفَارِسَ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : مَوْلَى الْفَارِسِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ رَكَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ ، فَمَشَى إِلَيْهِ ، فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ وَهُوَ يُصَلِّي كَمَا هُوَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ زَيْدٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا بَعْدَ أَنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا ، قَالَ : فَجَلَسَ إِلَيْهِ عُمَرُ ، وَقَالَ : يَا زَيْدُ بْنَ خَالِدٍ ، لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُلَّمًا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى اللَّيْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِيهِمَا .
حدیث نمبر: 17037
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ بْنِ خَالِدِ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ رَاعِي الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " هِيَ لَكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي ضَالَّةِ رَاعِي الْإِبِلِ ؟ قَالَ : " وَمَا لَكَ وَلَهَا ، مَعَهَا سِقَاؤُهَا ، وَحِذَاؤُهَا ، وَتَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي الْوَرِقِ إِذَا وَجَدْتُهَا ؟ قَالَ : " اعْلَمْ وِعَاءَهَا ، وَوِكَاءَهَا ، وَعَدَدَهَا ، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ ، أَوْ اسْتَمْتِعْ بِهَا " ، أَوْ نَحْوَ هَذَا .
حدیث نمبر: 17038
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أن رجلا جاء إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ ، فَأَخْبَرُونِي ، أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِوَلِيدَةٍ ، وَبِماِئَةِ شَاةٍ ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَهْلُ الْعِلْمِ أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ ، وَتَغْرِيبَ عَامٍ ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ ، حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَمَّا الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ ، وَأَمَّا ابْنُكَ ، فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِئَةٍ ، وَتَغْرِيبُ عَامٍ " ، ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ : يُقَالُ لَهُ : أُنَيْسٌ : " قُمْ يَا أُنَيْسُ فَاسْأَلْ امْرَأَةَ هَذَا ، فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے بدکاری کی ، لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا ، میں نے اس کے فدیے میں ایک لونڈی اور سو بکریاں پیش کر دیں ، پھر مجھے اہل علم نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں ، ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے ، اس کی بیوی کو رجم کیا جائے ، اب آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کروں گا ، وہ لونڈی اور بکریاں تجھے واپس دے دی جائیں گی ، تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا“ ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ”اسلم“ کے ایک آدمی” انیس“ سے فرمایا : ”انیس اٹھو اور اس شخص کی بیوی سے جا کر پوچھو ، اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دو ۔ “
حدیث نمبر: 17039
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ غَزَا ، وَمَنْ خَلَفَهُ فَقَدْ غَزَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے گا یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے گا تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا ۔“
حدیث نمبر: 17040
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَهَ إِسْحَاقُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ ؟ الَّذِي يَأْتِي بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لئے تیار ہو ۔“
حدیث نمبر: 17041
حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى السُّوقِ ، فَلَوْ أَرْمِي لَأَبْصَرْتُ مَوَاقِعَ نَبْلِي .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتا اور بازار آتا ، اس وقت اگر میں تیر پھینکتا تو تیر گرنے کی جگہ بھی دیکھ سکتا تھا ۔
حدیث نمبر: 17042
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ، وَشَبْلًا ، قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ بَعْضُ النَّاسِ : ابْنَ مَعْبَدٍ ، وَالَّذِي حَفِظْتُ شِبْلًا ، قَالُوا : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأْذَنْ لِي فَأَتَكَلَّمَ ، قَالَ : " قُلْ " ، قَالَ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا ، عَلَى هَذَا ، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ ، وَخَادِمٍ ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، فَأَخْبَرُونِي ، أَنَّ عَلَى ابْنِي ، جَلْدَ مِئَةٍ ، وَتَغْرِيبَ عَامٍ ، وَعَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، الْمِئَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِئَةٍ ، وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا ، فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا " ، فَغَدَا عَلَيْهَا ، فَاعْتَرَفَتْ ، فَرَجَمَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ اور شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کیجئے ، اس کا فریق مخالف کھڑا ہوا ، ، جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا ، اور کہنے لگا یہ صحیح کہتا ہے ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیجئے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہو ، وہ اور کہنے لگا کہ میرا بیٹا اس شخص کے یہاں مزدور تھا اس نے اس کی بیوی سے بدکاری کی، لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا ، میں نے اس کے فدیے میں ایک لونڈی اور سو بکریاں پیش کر دیں ، پھر مجھے اہل علم نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں، ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اس شخص کی بیوی کو رجم کیا جائے ( اب آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کروں گا ، بکریاں اور لونڈی تمہیں واپس دے دی جائیں گی تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی ”انیس“ سے فرمایا : ”انیس اٹھو اور اس شخص کی بیوی سے جا کر پوچھو ، اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دو“ چنانچہ وہ اس کے پاس پہنچے تو اس نے اعتراف جرم کر لیا اور انہوں نے اسے رجم کر دیا ۔
حدیث نمبر: 17043
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَشَبْلٍ ، قَالُوا : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ ، قَالَ : " اجْلِدُوهَا فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا ، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا ، فَإِنْ عَادَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، زید بن خالد رضی اللہ عنہ اور شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باندی کے متعلق پوچھا، جو شادی شدہ ہونے سے پہلے بدکاری کا ارتکا ب کرے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اسے کوڑے مارو، اگر دوبارہ کرے تو پھر کوڑے مارو، اگر چوتھی مرتبہ پھر ایسا کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک رسی کے عوض ہی ہو ۔“
حدیث نمبر: 17044
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا صَلُّوا فِيهَا . وَمَنْ فَطَّرَ صَائِمًا ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الصَّائِمِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ . وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْغَازِي فِي أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنایا کرو، بلکہ ان میں نماز پڑھا کرو اور جو شخص کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے، اس کے لیے روزہ دار کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور روزہ دار کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی، اور جو شخص کسی مجاہد کے لیے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لیے مجاہد کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور مجاہد کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی ۔“
حدیث نمبر: 17045
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَدْ غَزَا ، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی مجاہد کے لیے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے اس کے لیے مجاہد کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا ۔“
حدیث نمبر: 17046
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ ؟ فَقَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا ، وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ، وَإِلَّا فَكُلْهَا ، فَإِنْ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ ! اگر مجھے گری پڑی کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا ظرف، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ، اگر اس دوران اس کا مالک آ جائے تو اس کے حوالے کر دو ، ورنہ وہ تمہاری ہو گئی ۔
حدیث نمبر: 17047
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشَّهَادَةِ ؟ الَّذِينَ يَبْدَؤُونَ بِشَهَادَتِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُسْأَلُوا عَنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کے بارے نہ بتاؤں ؟ وہ جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لئے تیار ہو ۔“
حدیث نمبر: 17048
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " ، قَالَ : فَكَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَضَعُ السِّوَاكَ مِنْهُ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ ، كُلَّمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اسْتَاكَ.
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ، اسی وجہ سے سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ مسواک کو اسی طرح اپنے کان پر رکھتے تھے جیسے کاتب قلم رکھتا ہے اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 17049
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَلَمَّا أَصْبَحُ ، قَالَ : " أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ ؟ " ، قَالَ : " مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي نِعْمَةً إِلَّا أَصْبَحَ بِهَا قَوْمٌ كَافِرِينَ بِالَّذِي آمَنَ بِي " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ رات کے وقت بارش ہوئی، جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ تمہارے پروردگار نے آج رات کیا فرمایا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اپنے بندوں پر جب بھی کوئی نعمت اتارتا ہوں تو ان میں سے ایک گروہ اس کی ناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے، لہٰذا جو شخص مجھ پر ایمان لائے، میرے پانی پلانے پر میری تعریف کرے تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے ستاروں کا انکار کرتا ہے اور جو یہ کہتا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ ستارے پر ایمان رکھتا ہے اور میرے ساتھ کفر کرتا ہے ۔“
حدیث نمبر: 17050
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ أَنَّهُ قَالَ : عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، فَسَأَلْتُ رَبِيعَةَ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِيهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ ؟ فَغَضِبَ ، وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ ، وَقَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا ، مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ ، تَرِدُ الْمَاءَ ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ ، حَتَّى يَجِيءَ رَبَّهَا . وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ ؟ فَقَالَ : " خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ ، أَوْ لِأَخِيكَ ، أَوْ لِلذِّئْبِ " . وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ ؟ فَقَالَ : " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ اعْتُرِفَتْ ، وَإِلَّا فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خود یا کسی اور آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کا حکم پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے پکڑ لو گے یا بھیڑیا لے جائے گا ، سائل نے پوچھا: یا رسول اللہ ! گمشدہ اونٹ ملے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی ناراض ہوئے ، حتیٰ کہ رخسار مبارک سرخ ہو گئے اور فرمایا : ”تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق ؟ اس کے پاس اس کا مشکیزہ اور جوتے ہیں اور وہ درختوں کے پتے کھا سکتا ہے“ ، پھر سائل نے پوچھا: یا رسول اللہ ! اگر مجھے کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس کا ظرف ، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ، اگر اس دوران اس کا مالک آ جائے تو اس کے حوالے کر دو ، ورنہ وہ تمہاری ہو گئی ۔“
حدیث نمبر: 17051
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَبُو جُهَيْمٍ ابْنُ أُخْتِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ مَا سَمِعَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي مِنْ يَوْمٍ أَوْ شَهْرٍ أَوْ سَنَةٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا بسر بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بھانجے ابوجہیم نے سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس وہ حدیث پوچھنے کے لیے بھیجا جو انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کے متعلق سن رکھی تھی ، انہوں نے فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے لیے نمازی کے آگے سے گزرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ چالیس ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تک کھڑا رہے ، یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دن فرمایا ، مہینے یا سال فرمایا ؟
حدیث نمبر: 17052
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَوْلَى الْجُهَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ النُّهْبَةِ وَالْخُلْسَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لوٹ مار کرنے اور اچکے پن سے منع فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 17053
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى السُّوقِ ، وَلَوْ رُمِيَ بِنَبْلٍ لَأَبْصَرْتُ مَوَاقِعَهَا .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے اور بازار آتے ، اس وقت اگر ہم میں سے کوئی شخص تیر پھینکتا تو وہ تیر گرنے کی جکہ کو بھی دیکھ سکتا تھا ۔
حدیث نمبر: 17054
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يَسْهُو فِيهِمَا ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے ، پھر دو رکعتیں اس طرح پڑھے کہ اس میں غفلت نہ کرے ، تو اللّٰہ اس کے پچھلے سارے گناہوں کو معاف فرما دے گا ۔“
حدیث نمبر: 17055
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ هُوَ ابْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ آوَى ضَالَّةً ، فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص کسی بھٹکے ہوئے جانور کو پکڑ لے ، وہ گمراہ ہے جب تک کہ اس کی تشہیر نہ کرے ۔“
حدیث نمبر: 17056
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ الْهُنَائِيُّ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا ، فَقَدْ غَزَا ، وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ ، فَقَدْ غَزَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے گا یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے، تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا ۔“
حدیث نمبر: 17057
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ ؟ قَالَ : " اجْلِدْهَا فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدْهَا " ، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ : " فَإِنْ زَنَتْ فَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " وَالضَّفِيرُ : الْحَبْلُ . .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے اس باندی کے متعلق پوچھا جو شادی شدہ ہونے پہلے بدکاری کا ارتکاب کرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کوڑے مارو اگر دوبارہ کرے تو پھر کوڑے مارو اور اگر چوتھی بار ایسا کرے تو اس کو بیچ دو خواہ ایک رسی کے عوض ہی ہو ۔
حدیث نمبر: 17058
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، الْمَعْنَى . .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 17059
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَمَةِ ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ ، أَوْ الرَّابِعَةِ : الزُّهْرِيُّ شَكَّ.
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 17060
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُقَطَةٍ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً ، ثُمَّ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِهَا ، وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْهَا " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : " لَكَ ، أَوْ لِأَخِيكَ ، أَوْ لِلذِّئْبِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ضَالَّةُ الْإِبِلِ ؟ قَالَ : فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا ؟ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا ، تَرِدُ الْمَاءَ ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خود یا کسی اور آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کا حکم پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم اسے پکڑ لو گے یا بھیڑیا لے جاۓ گا“ ، سائل نے پوچھا: یا رسول اللہ ! گمشدہ اونٹ ملے تو کیا حکم ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی ناراض ہوئے ، حتیٰ کہ رخسار مبارک سرخ ہو گئے اور فرمایا : ”تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق ؟ اس کے پاس مشکیزہ اور جوتے ہیں اور وہ درختوں کے پتے کھا سکتا ہے“ ، پھر سائل نے پوچھا: یا رسول اللہ ! اگر مجھے کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس کا ظرف ، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ، اگر اس دوران اس کا مالک آ جاۓ تو اس کے حوالے کر دو ، ورنہ وہ تمہاری ہو گئی ۔“
حدیث نمبر: 17061
قَرَأْتُ عَلَى قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، قَالَ أَبِي : وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي قَالَ إِسْحَاقُ ، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ رات کے وقت بارش ہوئی ، جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا کر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ”کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ تمہارے پروردگار نے آج رات کیا فرمایا ؟“ انہوں نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں ، فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندوں میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت مؤمن ( اور ستاروں کے منکر ، جبکہ لوگ ستاروں پر مؤمن) اور میرے منکر ہوتے ہیں ، جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا اور ستاروں کا انکار کرتا ہے ، اور جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے وہ تو ستارے پر ایمان رکھتا ہے اور میرے ساتھ کفر کرتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 17062
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ الشَّهَادَةِ مَنْ شَهِدَ بِهَا صَاحِبُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا میں بہترین گواہوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لیے تیار ہو ۔“