حدیث نمبر: 16964
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعَتُ سَلَمَةُ بْنُ نُفَيْلٍ السَّكُونِيُّ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ أُتِيتَ بِطَعَامٍ مِنَ السَّمَاءِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : وَبِمَاذَا ؟ قَالَ : " بِمِسْخَنَةٍ " ، قَالُوا : فَهَلْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ عَنْكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَمَا فُعِلَ بِهِ ؟ قَالَ : " رُفِعَ وَهُوَ يُوحَى إِلَيَّ أَنِّي مَكْفُوتٌ غَيْرُ لَابِثٍ فِيكُمْ ، وَلَسْتُمْ لَابِثِينَ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا ، بَلْ تَلْبَثُونَ حَتَّى تَقُولُوا : مَتَى ، وَسَتَأْتُونَ أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا ، وَبَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ مُوتَانٌ شَدِيدٌ ، وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ ! کیا آپ کے پاس بھی آسمان سے کھانا آیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں“ ، پوچھا: وہ کیا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”آٹے سے تیار کیا ہوا کھانا“ ، پوچھا: کیا اس میں سے کچھ باقی بھی بچا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں !“ پوچھا: وہ کیا ہوا ؟ فرمایا : ”اسے اٹھا لیا گیا اور مجھ پر وحی بھیجی گئی ہے کہ میں تم سے رخصت ہونے والا ہوں اور زیادہ دیر تک تمہارے درمیان نہیں رہوں گا اور میرے بعد تم بھی کچھ عرصہ رہو گے بلکہ تم اتنا عرصہ رہو گے کہ کہنے لگو موت کب آئے گی ؟ پھر تم پر ایسے مصائب آئیں گے کہ تم ایک دوسرے کو خود ہی فناء کر دو گے اور قیامت سے پہلے کثرت اموات کا نہایت شدید سلسلہ شروع ہو جائے گا اور اس کے بعد زلزلوں کے سال آئیں گے ۔“
حدیث نمبر: 16965
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ نُفَيْلٍ أَخْبَرَهُمْ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَسَمْتُ الْخَيْلَ ، وَأَلْقَيْتُ السِّلَاحَ ، وَوَضَعَتْ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ، قُلْتُ : لَا قِتَالَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْآنَ جَاءَ الْقِتَالُ ، لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ ، يُزِيغُ اللَّهُ قُلُوبَ أَقْوَامٍ ، فَيُقَاتِلُونَهُمْ ، وَيَرْزُقُهُمْ اللَّهُ مِنْهُمْ ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ ، أَلَا إِنَّ عُقْرَ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُ ، وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے گھوڑے کو چرنے کے لیے بھیج دیا ہے ، ہتھیار اتار دیئے ہیں اور جنگ بندی ہو چکی ہے، لہٰذا اب قتال نہ ہو گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اب تو قتال کا وقت آیا ہے ، میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر ہمیشہ غالب رہے گا، اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے دلوں کو اٹھائے گا، وہ ان سے قتال کریں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں وہاں سے رزق عطا فرمائے گا، حتی کہ جب اللہ کا حکم آئے گا تو وہ اسی حال میں ہوں گے ، یاد رکھو ! مسلمانوں کا خون بہنے کی جگہ شام ہے اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر و برکت رکھ دی گئی ہے ۔“