حدیث نمبر: 16940
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ ، إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ " ، قَالُوا : لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ ، وَلِكِتَابِهِ ، وَلِرَسُولِهِ ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَعَامَّتِهِمْ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”دین تو سراسر خیر خواہی کا نام ہے“ ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ ! کس کے لیے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللّٰہ کے لیے ، اس کی کتاب کے لیے ، اس کے رسول کے لیے ، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے ۔“
حدیث نمبر: 16941
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ ، إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ " ، قِيلَ : لِمَنْ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ ، وَلِرَسُولِهِ ، وَلِكِتَابِهِ ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَعَامَّتِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”دین تو سراسر خیر خواہی کا نام ہے“ ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ ! کس کے لیے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللّٰہ کے لئے ، اس کی کتاب کے لئے ، اس کے رسول کے لئے ، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لئے اور عام مسلمانوں کے لیے ۔“
حدیث نمبر: 16942
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ " ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 16943
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ عَلَى النَّاسِ يَضْرِبُهُمْ عَلَى السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، حَتَّى مَرَّ بِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، فَقَالَ : لَا أَدَعُهُمَا ، صَلَّيْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ النَّاسَ لَوْ كَانُوا كَهَيْئَتِكَ لَمْ أُبَالي
مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نکلے اور نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے پر انہیں مارنے لگے ، اسی اثناء میں وہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، تو وہ کہنے لگے کہ میں تو ان دو رکعتوں کو نہیں چھوڑوں گا ، کیونکہ میں نے یہ دو رکعتیں اس ذات کے ساتھ پڑھی ہیں جو آپ سے بہتر تھی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : اگر باقی لوگوں کی بھی تمہارے جیسی کیفیت ہوتی تو مجھے کچھ پرواہ نہ ہوتی ۔
حدیث نمبر: 16944
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَوْهَبٍ ، يُحَدِّثُ عُمَرَ ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ الرَّجُلِ ؟ فَقَالَ : " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے ہاتھ پر کوئی شخص اسلام قبول کر لے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ زندگی اور موت میں دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ حقدار اور اس کے زیادہ قریب ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 16945
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ " ، قَالُوا : لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ ، وَلِكِتَابِهِ ، وَلِنَبِيِّهِ ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَعَامَّتِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دین تو سراسر خیر خواہی کا نام ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول ! کس لیے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ کے لئے، اس کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے ، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لئے اور عام مسلمانوں کے لیے ۔“
حدیث نمبر: 16946
قَالَ عَبْدُ الله بْنُ أَحْمَدَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قُلْتُ لِسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ فِي حَدِيثٍ ، حَدَّثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، فَقَالَ سُهَيْلٌ : سَمِعْتُهُ مِنَ الَّذِي سَمِعَهُ مِنْهُ أَبِي ، سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 16947
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدِّينُ النَّصِيحَةُ ، الدِّينُ النَّصِيحَةُ " ثَلَاثًا ، قَالُوا : لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”دین تو سراسر خیر خواہی کا نام ہے“ ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ ! کس کے لئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اﷲ کے لئے , اس کی کتاب کے لئے , اس کے رسول کے لئے، مسلمان کے حکمرانوں کے لئے اور عام مسلمانوں کے لئے ۔
حدیث نمبر: 16948
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ؟ قَالَ : " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھا: جس کے ہاتھ پہ کوئی شخص اسلام قبول کر لے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ زندگی اور موت میں دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ حقدار اور اس کے قریب ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 16949
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ ، فَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَمَّهَا ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَتُكْمِلُونَ بِهَا فَرِيضَتَهُ ، ثُمَّ الزَّكَاةُ كَذَلِكَ ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حِسَابِ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہو گی ، اگر اس نے اسے مکمل ادا کیا ہو گا تو وہ مکمل لکھ دی جائیں گی ، ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو ! میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ملتے ہیں ؟ کہ ان کے زریعے فرائض کی تکمیل کر سکو ، اسی طرح زکوۃ کے معاملے میں بھی ہو گا اور دیگر اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہو گا ۔“
حدیث نمبر: 16950
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے
حدیث نمبر: 16951
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ ابْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 16952
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي الطَّبَّاعَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنِ الْأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً ، وَلَا وَلَدًا ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، عَشْرَ مَرَّاتٍ ، كُتِبَتْ لَهُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ حَسَنَةٍ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص دس مرتبہ «لَا اِلَهَ اِلَّا اللَّهُ وَاحِدً اَحَدً صَمَدً لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدً وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُواً اَحَدً» کہہ لے ، اس کے لیے چالیس ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی ۔“
حدیث نمبر: 16953
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ؟ فَقَالَ : " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِحَيَاتِهِ وَمَوْتِهِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھا: جس کے ہاتھ پر کوئی شخص اسلام قبول کے لے ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ زندگی اور موت میں دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ حقدار اور اس کے قریب ہو گا ۔ “
حدیث نمبر: 16954
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَدَاوُدَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ ، فَإِنْ كَانَ أَكْمَلَهَا كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَكْمَلَهَا قَالَ لِلْمَلَائِكَةِ : انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ ، فَأَكْمِلُوا بِهَا مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَةٍ ، ثُمَّ الزَّكَاةُ ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہو گی ، اگر اس نے اسے مکمل ادا کیا ہو گا تو وہ مکمل لکھ دی جائے گی ، ورنہ اللّٰہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو ! میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ملتے ہیں ؟ کہ ان کے کے ذریعے فرائض کی تکمیل کر سکو ، اسی طرح زکوٰۃ کے معاملے میں بھی ہو گا اور دیگر اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہو گا ۔“
حدیث نمبر: 16955
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ زِنْبَاعٍ ، زَارَ تَمِيمًا الدَّارِيَّ ، فَوَجَدَهُ يُنَقِّي شَعِيرًا لِفَرَسِهِ ، قَالَ : وَحَوْلَهُ أَهْلُهُ ، فَقَالَ لَهُ رَوْحٌ : أَمَا كَانَ فِي هَؤُلَاءِ مَنْ يَكْفِيكَ ؟ قَالَ تَمِيمٌ : بَلَى ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يُنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا ، ثُمَّ يُعَلِّقُهُ عَلَيْهِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
روح بن زنباع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے گئے ، وہاں پہنچ کر دیکھا کہ وہ خود اپنے گھوڑے کے لئے جَو کے دانے صاف کر رہے ہیں ، حالانکہ ان کے اہل خانہ وہیں پر تھے ، روح کہنے لگے کہ کیا ان میں سے کوئی یہ کام نہیں کر سکتا ؟ انہوں نے فرمایا : کیوں نہیں ، لیکن بات یہ ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان اپنے گھوڑے کے لئے جَو کے دانے صاف کرے ، پھر اسے وہ کھلا دے تو اس لئے ہر دانے کے بدلے میں ایک نیکی لکھی جائے گی ۔
حدیث نمبر: 16956
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 16957
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ ، بِعِزِّ عَزِيزٍ ، أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ ، عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ ، وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ " ، وَكَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ ، يَقُولُ : قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِي ، لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ الْخَيْرُ ، وَالشَّرَفُ ، وَالْعِزُّ ، وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ كَافِرًا الذُّلُّ ، وَالصَّغَارُ ، وَالْجِزْيَةُ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات کا چکر چلتا ہے ، اور اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے ، خواہ اسے عزت کے ساتھ قبول کر لیا جائے یا اسے رد کر کے ذلت قبول کر لی جائے ، عزت وہ ہو گی جو اللّٰہ اسلام کے ذریعے عطاء کرے گا اور ذلت وہ ہو گی جس سے اللّٰہ کفر کو ذلیل کر دے گا ۔“ سیدنا تمیم داری رضی اللّٰہ عنہ فرماتے تھے کہ اس کی معرفت حقیقی اپنے اہل خانہ میں ہی نظر آئے گی ، کہ ان میں سے جو مسلمان ہو گیا ، اسے خیر ، شرافت اور عزت نصیب ہوئی اور جو کافر رہا ، اسے ذلت رسوائی اور ٹیکس نصیب ہوئے ۔
حدیث نمبر: 16958
قَالَ عَبْدِ الله بْنُ أَحْمَدَ : حَدَّثَنِي أَبِي إِملاءً ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا مِنَ النَّوَادِرِ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ بِمِئَِةِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ ، كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص ایک رات میں سو آیتیں پڑھ لے ، اس کے لئے ساری رات عبادت کا ثواب لکھا جائے گا ۔ “