حدیث نمبر: 16907
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ : " كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ ، إِلَّا الرَّجُلُ يَمُوتُ كَافِرًا ، أَوْ الرَّجُلُ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا "
مولانا ظفر اقبال
ابوادریس کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ”جو بہت کم احادیث بیان کرتے تھے“ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ امید ہے اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف فرما دے گا، سوائے اس کے کہ کوئی شخص کفر کی حالت میں مر جائے یا وہ آدمی جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16908
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا ، وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا ، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم لوگ ایک ایسی نماز پڑہتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے باوجود ہم نے انہیں یہ نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ وہ اس سے منع کرتے تھے ، مراد عصر کے بعد دو سنتیں (نفل) ہیں (جو انہوں نے کچھ لوگوں کو پڑھتے ہوئے دیکھا تھا)۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 587
حدیث نمبر: 16909
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ ، أَنَّهُ شَهِدَ مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ جَمْعٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمْ مُعَاوِيَةُ : أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ رُكُوبِ جُلُودِ النُّمُورِ " ؟ قَالُوا : نَعَمْ قَالَ : قَالَ : أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ : قَالَ : أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُشْرَبَ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ : قَالَ : أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ : قَالَ : أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ جَمْعٍ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ لَا ، قَالَ : فَوَاللَّهِ إِنَّهَا لَمَعَهُنَّ .
مولانا ظفر اقبال
ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں ایک مرتبہ بیٹھا ہوا تھا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: میں اللہ کی قسم دے کر تمہیں پوچھتا ہوں کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ۔ پھر فرمایا : میں آپ لوگوں کو قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ معمولی سا ہو ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ۔ پھر فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتے کی سواری کرنے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! فرمایا : میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ۔ پھر فرمایا : میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! فرمایا : میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ۔ پھر فرمایا : میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا یہ بات ہم نہیں جانتے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ بات بھی ثابت شدہ ہے اور پہلی باتوں کے ساتھ ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سعيد بن أبى عروبة مختلط، وسماع محمد بن جعفر منه بعد الاختلاط، لكنه توبع، وقتادة مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16910
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ ، وَهُوَ يَقُولُ : إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا كَانَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ ، وَإِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ أَخَافَ النَّاسَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُّ فِي الدِّينِ " .
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کثرت کے ساتھ احادیث بیان کرنے سے بچو سوائے ان احادیث کے جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں زبان زد عام تھیں کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو اللہ کے معاملات میں ڈراتے تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1037
حدیث نمبر: 16911
وَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ ، وَإِنَّمَا يُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً عَنْ طِيبِ نَفْسٍ ، فَهُوَ أَنْ يُبَارَكَ لِأَحَدِكُمْ ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً عَنْ شَرَهٍ ، وَشَرَهِ مَسْأَلَةٍ ، فَهُوَ كَالْآكِلِ وَلَا يَشْبَعُ "
مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تو صرف خزانچی ہوں، اصل دینے والا اللہ ہے، اس لئے میں جس شخص کو دل کی خوشی کے ساتھ بخشش دوں تو اسے اس کے لیے مبارک کر دیا جائے گا اور جسے اس کے شر سے بچنے کے لئے یا اس کے سوال میں اصرار کی وجہ سے کچھ دوں، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا رہے اور سیراب نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1037
حدیث نمبر: 16912
وَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " لَا تَزَالُ أُمَّةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ "
مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ”میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا ، وہ اپنی مخالفت کرنے والوں کی پرواہ نہیں کرے گا ، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1037
حدیث نمبر: 16913
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ ، قَالَ : نَعَمْ ، صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي ، فَصَلَّيْتُ ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ ، فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَكَلَّمَ ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ ، " أَنْ لَا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَكَلَّمَ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر بن عطاء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے نافع بن جبیر نے سائب بن یزید کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ، جی ہاں ! ایک مرتبہ میں ان کے ساتھ ” مقصورہ “ میں جمعہ پڑھا تھا ، جب انہوں نے نماز کا سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ پر ہی کھڑے ہو کر سنتیں پڑھنے لگا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جب اندر چلے گئے ، تو مجھے بلا کر فرمایا : آج کے بعد دوبارہ اس طرح نہ کرنا جیسے ابھی کیا ہے ، جب تم جمعہ کی نماز پڑھو، تو اس سے متصل ہی دوسری نماز نہ پڑھو جب تک کوئی بات نہ کر لو ، یا وہاں سے ہٹ نا جاؤ ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ کسی نماز سے متصل ہی دوسری نماز نہ پڑھی جائے جب تک کہ بات نہ کر لو یا وہاں سے ہٹ نہ جاؤ ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 883
حدیث نمبر: 16914
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، أَنَّهُ رَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً قَدْ صَحِبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا ، وَلَقَدْ نَهَى عَنْهَا ، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم لوگ ایک ایسی نماز پڑھتے ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے باوجود ہم نے انہیں یہ نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ وہ اس سے منع فرماتے تھے ، مراد عصر کے بعد کی دو سنتیں (نفل) ہیں جو انہوں نے کچھ لوگوں کو پڑھتے ہوئے دیکھا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 587
حدیث نمبر: 16915
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص نماز میں کچھ بھول جائے تو اسے چاہیے کہ بیٹھ کر دو سجدے کر لے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16915
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16916
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے ، اسے چاہیے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16916
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد وهم فيه روح ابن عبادة، عن شعبة، عن أبى الفيض، والراجح: عن شعبة، عن رجل من بني عذرة، عن أبى الفيض، أى بزيادة واسطة: رجل من بني عذرة ، وهذا الإسناد ضعيف لجهالة رجل، ثم إن فى رواية أبى الفيض عن معاوية وقفة
حدیث نمبر: 16917
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ يُوسُفَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّهُ صَلَّى أَمَامَهُمْ فَقَامَ فِي الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ ، فَسَبَّحَ النَّاسُ ، فَتَمَّ عَلَى قِيَامِهِ ، ثُمَّ سَجَدْ بِنَا سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ أَنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ نَسِيَ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا فَلْيَسْجُدْ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے امام بن کر نماز پڑھائی اور بیٹھنے کی بجاۓ کھڑے ہو گئے ، لوگوں نے «سبحان اللہ» بھی کہا، لیکن انہوں نے اپنا قیام مکمل کیا ، پھر نماز مکمل ہونے کے بعد بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لیے اور منبر پر رونق افروز ہو کر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص نماز میں کچھ بھول جائے تو اسے چاہیے کہ بیٹھ کر اس طرح دو سجدے کر لے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16917
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16918
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِيَةُ ، فَقَامُوا لَهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ الرِّجَالُ قِيَامًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ "
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کہیں تشریف لے گئے لوگ ان کے احترام میں کھڑے ہو گئے لیکن سیدنا معاویہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللّٰہ کے بندے اس کے سامنے کھڑے رہیں ، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہئے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16918
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16919
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَهُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ جَارِيَةَ أخْبَرَهُ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ مُعَاوِيَةُ ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ حَدِيثِهِمْ ، فَقَالُوا : كُنَّا فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَلَا أَزِيدُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالُوا : بَلَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن جاریہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ کچھ انصاری لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، کہ سیدنا معاویہ رضی اللّٰہ عنہ تشریف لے آئے اور موضوعِ بحث پوچھنے لگے ، لوگوں نے بتایا کہ ہم انصار کے حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں ، سیدنا معاویہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا : کیا میں بھی تمہاری معلومات میں اضافے کے لیے ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، امیر المؤمنین ! انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو انصار سے محبت کرتا ہے اللّٰہ اس سے محبت کرتا ہے اور جو انصار سے بغض رکھتا ہے ، اللّٰہ اُس سے بغض رکھتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16919
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16920
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ ابْنُ مِينَاءَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ ، قَالَ : إِنِّي لَفِي مَجْلِسِ مُعَاوِيَةَ ، فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَنَحْنُ نَتَحَدَّثُ ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16920
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16921
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ ، وَإِنَّمَا يُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً بِطِيبِ نَفْسٍ ، فَإِنَّهُ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَطَاءً بِشَرَهِ نَفْسٍ ، وَشَرَهِ مَسْأَلَةٍ ، فَهُوَ كَالَّذِي يَأْكُلُ فَلَا يَشْبَعُ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تو صرف خزانچی ہوں ، اصل دینے والا اللّٰہ ہے، اس لیے میں جس شخص کو دل کی خوشی کے ساتھ کوئی بخشش دوں تو اسے اس کے لیے مبارک کر دیا جائے گا اور جسے اس کے شر سے بچنے کے لیے یا اس کے سوال میں اصرار کی وجہ سے کچھ دوں ، وہ اس شخص کی طرف ہے جو کھاتا رہے اور سیراب نہ ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16921
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، ابن لهيعة ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16922
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کی اذان جب سنتے تو وہی جملے دہراتے جو وہ کہہ رہا ہوتا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16922
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16923
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَهُوَ يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حُلِيِّ الذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ "
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مکہ مکرمہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خانہ کعبہ کے سائے میں برسر منبر یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا اور ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16923
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الجهالة على بن عبدالله، وأبيه
حدیث نمبر: 16924
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ ، وَإِذَا قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ ، وَإِذَا قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کی اذان جب سنتے تو وہی جملے دہراتے جو وہ کہہ رہا ہوتا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16924
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 612، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16925
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ ، يَقُولُ : مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَعُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
مولانا ظفر اقبال
جریر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی اور میں بھی اب تریسٹھ سال کا ہو گیا ہوں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2352
حدیث نمبر: 16926
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ ، فَاجْلِدُوهُ ، فَإِنْ عَادَ ، فَاجْلِدُوهُ ، فَإِنْ عَادَ ، فَاجْلِدُوهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ج”و شخص شراب پیے اسے کوڑے مارے جائیں اگر دوبارہ پئے تو دوبارہ مارو حتی کہ چوتھی مرتبہ پئے تو اسے قتل کر دو ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16926
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16927
قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَشِّرٍ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ فِي شَعَرِهَا مِنْ شَعَرِ غَيْرِهَا ، فَإِنَّمَا تُدْخِلُهُ زُورًا "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جو عورت اپنے بالوں میں کسی غیر کے بال داخل کرتی ہے (تاکہ انہیں لمبا ظاہر کر سکے ) وہ اسے غلط طور پر داخل کرتی ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16927
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16928
قَالَ : قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الْأَمْرِ ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا ، وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا مَا لِخِيَارِهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس معاملے (حکومت) میں لوگ قریش کے تابع ہیں ، زمانہ جاہلیت میں ان میں سے جو بہترین لوگ تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جبکہ وہ فقاہت حاصل کر لیں ، بخدا ! اگر قریش فخر میں مبتلا نہ ہو جاتے تو میں انہیں بتا دیتا کہ ان کے بہترین لوگوں کا اللہ کے یہاں کیا مقام ہے ؟ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16928
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16929
قَالَ : قَالَ : وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ، مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقَّهِْهُّ فِي الدِّينِ . " وَخَيْرُ نِسْوَةٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ ، صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ ، أَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ ، وَأَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ، جسے آپ دیں ، اس سے کوئی روک نہیں سکتا ، اور جس سے آپ روک لیں ، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور ذی عزت کو آپ کے سامنے اس کی عزت نفع نہیں پہنچا سکتی ، اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتا ہے ، اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتا ہے ، اور اونٹ پر سواری کرنے والی بہترین عورتیں قریش کی نیک عورتیں ہیں، جو اپنی ذات میں شوہر کی سب سے زیادہ محافظ ہوتی ہیں اور بچپن میں اپنے بچے پر انتہائی مہربان ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16929
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16930
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ الْعَدَوِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ أخْبَرَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِمَكَّةَ يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ "
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مکہ مکرمہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو برسر منبریہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا اور ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16930
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة على بن عبدالله، وأبيه
حدیث نمبر: 16931
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقَّهِْهُّ فِي الدِّينِ ، وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الْأُمَّةُ أُمَّةً قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا، وہ اپنی مخالفت کرنے والوں کی پرواہ نہیں کرے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے اور وہ لوگوں پر غالب ہو گا ، اس پر مالک بن یخامر سکسکی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : اے امیر المؤمنین ! میں نے سیدنا معاذ جبل رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد اہل شام ہیں، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی آواز بلند کرتے ہوئے فرمایا : مالک کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد اہل شام ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16931
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 71، م: 1037
حدیث نمبر: 16932
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ هَانِئٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ ، أَوْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ " ، فَقَامَ مَالِكُ بْنُ يَخَامِرٍ السَّكْسَكِيُّ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَقُولُ : " وَهُمْ أَهْلُ الشَّامِ " ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَرَفَعَ صَوْتَهُ : هَذَا مَالِكٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذًا ، يَقُولُ : " وَهُمْ أَهْلُ الشَّامِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ”میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا ، وہ اپنی مخالفت کرنے والوں یا بے یار و مددگار چھوڑ دینے والوں کی پرواہ نہیں کرے گا ، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے اور وہ لوگوں پر غالب ہو گا“ ، اس پر مالک بن یخامر سکسکی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : اے امیر المؤمنین ! میں سیدنا معاذ جبل رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد اہل شام ہیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی آواز کو بلند کرتے ہوئے فرمایا : مالک کہہ رہے ہیں انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد اہل شام ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16932
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3641، م: 1037
حدیث نمبر: 16933
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَدِّي يُحَدِّثُ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَخَذَ الْإِدَاوَةَ بَعْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا ، وَاشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَبَيْنَا هُوَ يُوَضِّئُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ مَرَّةً ، أَوْ مَرَّتَيْنِ وَهُو يَتَوَضَأ ، فَقَالَ : " يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ وُلِّيتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَاعْدِلْ " ، قَالَ : فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّي مُبْتَلًى بِعَمَلٍ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ابْتُلِيتُ
مولانا ظفر اقبال
مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو ان کے پیچھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے (ان کی خدمت سنبھالی اور ) برتن لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلے گئے ، ابھی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرا رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو مرتبہ ان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا : معاویہ ! اگر تمہیں حکو مت ملے تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور عدل کرنا ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے اسی وقت یقین ہو گیا کہ مجھے کوئی ذمہ داری سونپی جائے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16933
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لم يتبين لنا سماع جد عمرو بن يحيى من معاوية
حدیث نمبر: 16934
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : قَدِمَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْمَدِينَةَ ، وَكَانَتْ آخِرَ قَدْمَةٍ قَدِمَهَا ، فَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَصْنَعُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُودِ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الزُّورَ ، قَالَ : كَأَنَّهُ يَعْنِي الْوِصَالَ
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیّب رحمتہ اللّٰہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا ، جس میں بالوں کا ایک گچھا نکال کر دکھایا اور فرمایا : میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح تو صرف یہودی کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”جھوٹ“ کا نام دیا تھا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16934
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3688، م: 2127
حدیث نمبر: 16935
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَغَيْرِهِ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : خَطَبَ النَّاسَ مُعَاوِيَةُ بِحِمْصَ ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ سَبْعَةَ أَشْيَاءَ ، وَإِنِّي أُبْلِغُكُمْ ذَلِكَ وَأَنْهَاكُمْ عَنْهُ ، مِنْهُنَّ : النَّوْحُ ، وَالشِّعْرُ ، وَالتَّصَاوِيرُ ، وَالتَّبَرُّجُ ، وَجُلُودُ السِّبَاعِ ، وَالذَّهَبُ ، وَالْحَرِيرُ "
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ” حمیص “ میں لوگوں کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے اپنی گفتگو کے دوران ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کو حرام قرار دیا تھا ، میں تم تک وہ پیغام پہنچا رہا ہوں اور میں بھی تمہیں اس سے منع کرتا ہوں ، نوحہ ، شعر ، تصویر ، خواتین کا حد سے زیادہ بناؤ سنگھار ، درندوں کی کھالیں ، سونا اور ریشم ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16935
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وعبدالله بن دينار ضعيف، وأبو حريز مجهول
حدیث نمبر: 16936
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا مُبَلِّغٌ وَاللَّهُ يَهْدِي ، وَقَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي ، فَمَنْ بَلَغَهُ مِنِّي شَيْءٌ بِحُسْنِ رَغْبَةٍ ، وَحُسْنِ هُدًى ، فَإِنَّ ذَلِكَ الَّذِي يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ بَلَغَهُ منِّي شَيْءٌ بِسُوءِ رَغْبَةٍ ، وَسُوءِ هَدْيٍ ، فَذَاكَ الَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تو صرف خزانچی ہوں ، اصل دینے والا اللہ ہے، اس لیے میں جس شخص کو دل کی خوشی کے ساتھ کوئی بخشش دوں تو اسے اس کے لیے مبارک کر دیا جائے گا اور جسے اس کے شر سے بچنے کے لیے یا اس کے سوال میں اصرار کی وجہ سے کچھ دوں ، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا رہے اور سیراب نہ ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16936
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو الزاهرية لم يسمع من معاوية
حدیث نمبر: 16937
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَوْزَنِيُّ قَالَ أَبُو الْمُغِيرَةِ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ : الْحَرَازِيُّ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ ، قَالَ : حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَامَ حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابَيْنِ افْتَرَقُوا فِي دِينِهِمْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً يَعْنِي الْأَهْوَاءَ ، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً ، وَهِيَ الْجَمَاعَةُ ، وَإِنَّهُ سَيَخْرُجُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ ، لَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهُ " ، وَاللَّهِ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَئِنْ لَمْ تَقُومُوا بِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَغَيْرُكُمْ مِنَ النَّاسِ أَحْرَى أَنْ لَا يَقُومَ بِهِ
مولانا ظفر اقبال
ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا ، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو وہ ظہر کی نماز پڑھ کر کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ”یہود و نصاریٰ اپنے دین میں بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے ، جبکہ یہ امت تہتر فرقوں میں میں تقسیم ہو جائے گی ، وہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے اور وہ ایک فرقہ جماعت صحابہ کے نقش قدم پر ہو گا اور میری امت میں کچھ ایسی اقوام بھی آئیں گی جن پر یہ فرقے (اور خواہشات ) اس طرح غالب آجائیں گی جیسے کتا کسی پر چڑھ دوڑتا ہے اور اس شخص کی کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا نہیں رہتا جس میں زہر سرایت نہ کر جائے ، اللّٰہ کی قسم ! اے گروہ عرب ! اگر تم اپنے نبی کی لائی ہوئی شریعت پر قائم نہ رہے تو دوسرے لوگ تو زیادہ ہی اس پر قائم نہ رہیں گے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16937
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، وحديث افتراق الأمة منه صحيح بشواهده
حدیث نمبر: 16938
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أخْبَرَهُ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَصَّرَ مِنْ شَعَرِهِ بِمِشْقَصٍ " ، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا بَلَغَنَا هَذَا الْأَمْرُ إِلَّا عَنْ مُعَاوِيَةَ ؟ فَقَالَ : مَا كَانَ مُعَاوِيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّهَمًا
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16938
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16939
قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنَ أَحْمَدَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَشَارٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، أو أحدهما عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَصَّرَ بِمِشْقَصٍ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16939
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على جعفر بن محمد