حدیث نمبر: 16868
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، عَامَ حَجَّ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16868
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1129
حدیث نمبر: 16869
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي شَارِبِ الْخَمْرِ : " إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ ، فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ الثَّالِثَةَ فَاجْلِدُوهُ ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ الرَّابِعَةَ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جو شخص شراب پیے تو اسے کوڑے مارے جائیں ، اگر دوبارہ پیے تو دوبارہ کوڑے مارو ، حتیٰ کہ اگر چوتھی مرتبہ پیے تو اسے قتل کر دو ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 16870
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ رَوْحٌ أخْبَرَهُ ، قَالَ : قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ عَلَى الْمَرْوَةِ ، أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ بِمِشْقَصٍ عَلَى الْمَرْوَةِ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے مروہ پر کاٹے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16870
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1730، م: 1246
حدیث نمبر: 16871
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَهُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ مُعَاوِيَةُ ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ حَدِيثِهِمْ ، فَقَالُوا : كُنَّا فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَلَا أَزِيدُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : بَلَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ ، أَحَبَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ ، أَبْغَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ "
مولانا ظفر اقبال
یزید بن جاریہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک مرتبہ وہ کچھ انصاری لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور موضوع بحث پوچھنے لگے، لوگوں نے بتایا کہ ہم انصار کے حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں بھی تمہاری معلومات میں اضافہ کے لیے ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، امیر المؤمنین ! انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو انصار سے محبت کرتا ہے اللہ اس سے محبت کرتا ہے اور جو انصار سے بغض رکھتا ہے اللہ اس سے بغض رکھتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16871
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16872
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنُ عَلِيِّ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ 4687 قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَهُ قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِمَكَّةَ يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ "
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن علی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مکہ مکرمہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو برسر منبر یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا اور ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذان إسنادان و هم روح فى أحدهما ، فقال: على بن على رجل من بني عبد شمس، والصواب: على بن عبدالله بن على العدوي، عن أبيه عبدالله بن علي ، علي بن عبدالله، وأبوه مجهولان
حدیث نمبر: 16873
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَتُوُفِّيَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : وَأَنَا الْيَوْمَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
مولانا ظفر اقبال
جریر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی ، اور میں بھی اب تریسٹھ سال کا ہو گیا ہوں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2352
حدیث نمبر: 16874
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا يُفَقِّهِْهُّ فِي الدِّينِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب اللّٰہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16875
قَالَ قَالَ عَبْدِ اللَّهِ : وَجَدْتُ هَذَا الْكَلَامَ فِي آخِرِ هَذَا الْحَدِيثِ ، فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ مُتَّصِلًا بِهِ ، وَقَدْ خَطَّ عَلَيْهِ ، فَلَا أَدْرِي أَقَرَأَهُ عَلَيَّ أَمْ لَا : " وَإِنَّ السَّامِعَ الْمُطِيعَ لَا حُجَّةَ عَلَيْهِ ، وَإِنَّ السَّامِعَ الْعَاصِي لَا حُجَّةَ لَهُ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16875
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16876
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ بِغَيْرِ إِمَامٍ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جو شخص امام (کی بیعت) کے بغیر ہی فوت ہو جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16876
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16877
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعَنِي ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو شَيْخٍ الْهُنَائِيُّ ، عَنْ أَخِيهِ حِمَّانَ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ عَامَ حَجَّ جَمَعَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ : أَسْأَلُكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَأَخْبِرُونِي ، أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ ، هَلْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ ثُمَّ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ ، أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ : قَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ ، أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ صُفَفِ النُّمُورِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں کہ حج کے سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بیت اللّٰہ میں جمع کیا اور فرمایا میں آپ لوگوں سے کچھ چیزوں کے متعلق سوال کرتا ہوں ، آپ مجھے ان کا جواب دیجیئے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ میں آپ لوگوں کو اللّٰہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا، جی ہاں ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ، پھر فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللّٰہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الایہ کہ معمولی سا ہو ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ۔ پھر فرمایا : میں آپ کو اللّٰہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتے کی سواری سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! فرمایا : میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16877
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد ضعيف لاضطراب يحيى بن أبى كثير فيه، وحمان مجهول
حدیث نمبر: 16878
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ جَرَادٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُّ فِي الدِّينِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب اللّٰہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16878
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16879
قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يَزِيدَ وَأَظُنُّي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فِي الْمُذَاكَرَةِ فَلَمْ أَكْتُبْهُ ، وَكَانَ بَكْرٌ يَنْزِلُ الْمَدِينَةَ ، أَظُنُّهُ كَانَ فِي الْمِحْنَةِ كَانَ قَدْ ضُرِبَ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِهِ : قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ الْكِلَابِيِّ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَيْنَيْنِ وِكَاءُ السَّهِ ، فَإِذَا نَامَتْ الْعَيْنَانِ اسْتُطْلِقَ الْوِكَاءُ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”آنکھیں شرمگاہ کا بندھن ہیں ، جب آنکھیں سو جاتی ہیں تو بندھن کھل جاتا ہے (اور انسان کو پتہ نہیں چلتا کہ کب اس کی ہوا خارج ہوئی) ۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16879
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى بكر
حدیث نمبر: 16880
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ ابْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا فَقَّهَهُ فِي الدِّينِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ھے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16880
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1037، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 16881
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ ابْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْصَبِيِّ قَالَ عَبْد اللَّهِ : قَالَ أَبِي : كَذَا قَالَ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ وإنما هو عبد الله بن عامر اليحصبي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ لَا يُبَالُونَ مَنْ خَالَفَهُمْ ، أَوْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا وہ اپنی مخالفت کرنے والوں اور بے یار و مددگار چھوڑ دینے والوں کی پرواہ نہیں کرے گا ، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے گا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16881
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 16882
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَتُوُفِّيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
مولانا ظفر اقبال
جریر کہتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2352، وهذا إسناد اضطرب فيه يونس، وقد خالف شعبة
حدیث نمبر: 16883
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اس شخص کے حق میں ”عمریٰ“ جائز ہوتا ہے جس کے لیے وہ کیا گیا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 16884
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ : عَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ ؟ فَقُلْتُ لَهُ : لَا أَعْلَمُ هَذَا إِلَّا حُجَّةً عَلَيْكَ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے، میں نے ان سے کہا ہے کہ میں تو اسے آپ پر حجت سمجھتا ہوں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 1730، م: 1246، هشام ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16885
قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : قَصَّرْتُ عَنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے مروہ پر کاٹے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على جعفر بن محمد
حدیث نمبر: 16886
قَالَ عَبْدِ اللَّهِ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقَصِّرُ بِمِشْقَصٍ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے مروہ پر کاٹے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على جعفر بن محمد
حدیث نمبر: 16887
قَالَ عَبْد اللَّهِ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ مُعَاوِيَةُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَمَا عَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّادٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَهَذِهِ حُجَّةٌ عَلَى مُعَاوِيَةَ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مجھ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے ، میں نے ان سے کہا: میں تو اسے آپ پہ حجت سمجھتا ہوں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ: 1730، م: 1246، هشام ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16888
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاضْرِبُوهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاضْرِبُوهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاضْرِبُوهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جو شخص شراب پیے اسے کوڑے مارے جائیں، اگر دوبارہ پیے تو دوبارہ کوڑے مارو حتیٰ کہ اگر چوتھی مرتبہ پیے تو اسے قتل کر دو۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16888
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16889
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ : " اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے کہ جسے آپ دیں ، اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے آپ روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور ذی عزت کو آپ کے سامنے اس کی عزت نفع نہیں پہنچا سکتی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16889
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16890
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَمَاتَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ، وَأَنَا الْيَوْمَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ "
مولانا ظفر اقبال
جریر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوۓ سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی ، اور میں اب تریسٹھ سال کا ہو گیا ہوں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16890
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2352
حدیث نمبر: 16891
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ بِالْمَدِينَةِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ "
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں دوران خطبہ یہ کہتے ہوۓ سنا کہ اے اہل مدینہ ! تمہارے علماء کہاں چلے گئے ؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، یہ عاشوراء کا دن ہے ، اس کا روزہ رکھنا ہم پر فرض نہیں ہے ، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھ لے ، اور میں تو روزے سے ہوں ، اس پر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا ۔ پھر انہوں نے ہاتھوں میں بالوں کا ایک گچھا لے کر فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کی چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل پر عذاب اسی وقت آیا تھا جب ان کی عورتوں نے اسی کو اپنا مشغلہ بنا لیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3468، م: 1129، 2127
حدیث نمبر: 16891
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا ، وَأَخْرَجَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ مِنْ كُمِّهِ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَتْهَا نِسَاؤُهُمْ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3468، م: 1129، 2127
حدیث نمبر: 16892
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبَادِرُونِي فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، فَإِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ ، وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي إِذَا رَفَعْتُ ، وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا سَجَدْتُ تُدْرِكُونِي إِذَا رَفَعْتُ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مجھ سے پہلے رکوع سجدہ نہ کیا کرو ، کیونکہ جب میں تم سے پہلے رکوع کروں گا تو میرے سر اٹھانے سے پہلے تم بھی مجھے رکوع میں پالو گے اور جب تم سے پہلے سجدہ کروں گا تو میرے سر اٹھانے سے پہلے تم بھی مجھے سجدہ میں پا لو گے ، یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اب میرا جسم بھاری ہو گیا ہے ۔“
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16893
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ شَيْئًا ، فَتَخْرُجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ ، فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی سے سوال کرتے ہوئے اس سے چمٹ نہ جایا کرو ( کہ اس کی جان ہی نہ چھوڑو ) بخدا ! مجھ سے جو آدمی بھی کچھ مانگے گا اور ضرورت نے اسے مانگنے پر مجبور کیا ہو گا تو اسے ( میری طرف سے ملنے والی بخشش میں ) برکت عطاء کی جائے گی ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1038
حدیث نمبر: 16894
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ ابْنُ كَعْبٍ يَعْنِي الْقُرَظِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : تَعَلَّمُنَّ أَنَّهُ " لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَى ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَ اللَّهُ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْهُ الْجَدُّ ، مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُّ فِي الدِّينِ " سَمِعْتُ هَذِهِ الْأَحْرُفَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ منبر پر یہ کلمات کہے ، اے اللّٰہ ! جسے آپ دیں ، اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے آپ روک لیں ، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور ذی عزت کو آپ کے سامنے اس کی عزت نفع نہیں پہنچا سکتی ، اللّٰہ پاک جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتا ہے ، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے ، میں نے یہ کلمات اسی منبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہیں ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16895
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَسَنُ ابْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أخْبَرَهُ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أخْبَرَهُ ، قَالَ : قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ ، أَوْ قَالَ : رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ بِمِشْقَصٍ عِنْدَ الْمَرْوَةِ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے مروہ پر کاٹے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1730، م: 1246
حدیث نمبر: 16896
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ الْمُؤَذِّنُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " ، فَقَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، فَقَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، فَقَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ " ، فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ، قَالَ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَوْ نَبِيُّكُمْ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ
مولانا ظفر اقبال
علقمہ بن وقاص رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کے مؤذن اذان دینے لگا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی وہی کلمات دہرانے لگے ، جب انہوں نے «حي على الصلوة» کہا: تو انہوں نے «لا حول ولا قوة الا بالله» کہا ، «حي على الفلاح» کے جواب میں بھی یہی کہا، اس کے بعد مؤذن کے کلمات دہراتے رہے ، پھر فرمایا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہی فرماتے تھے جب مؤذن اذان دیتا ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا سند محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 16897
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : حَجَّ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَمُعَاوِيَةُ ، فَجَعَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : إِنَّمَا اسْتَلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ مَهْجُورٌ
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما حرم مکی میں آئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے طواف کیا تو خانہ کعبہ کے سارے کونوں کا استلام کیا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف دو کونوں کا استلام کیا ہے ؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ خانہ کعبہ کا کوئی کونا بھی متروک نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات على قلب فى متنه، فالمحفوظ أن القائل: ليس من أركانه مهجور هو معاوية، وأن ابن عباس هو الذى أنكر عليه
حدیث نمبر: 16898
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ إِذَا أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ قیامت والے دن موذنین سب سے لمبی گردنوں والے ہوں گے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16899
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ ، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ مسلمان کو اس کے جسم میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16900
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ يُشَقِّقُونَ الْكَلَامَ تَشْقِيقَ الشِّعْرِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کی طرح بات چبا چبا کر کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 16901
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَيْهَسُ بْنُ فَهْدَانَ ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ سَمِعْهُ مِنْهُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ معمولی سا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16902
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ابْنِ سَهْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَشَهَّدُ مَعَ الْمُؤَذِّنِينَ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کے ساتھ خود بھی تشہد پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 612
حدیث نمبر: 16903
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ وَكَانَ قَلِيلَ الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ قَلَّمَا خَطَبَ إِلَّا ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي خُطْبَتِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ ، بَارِكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا ، يُفَقِّهِْهُّ فِي الدِّينِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْمَدْحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ " .
مولانا ظفر اقبال
معبد جہنی کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت کم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے ، البتہ یہ کلمات اکثر جگہوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں اور یہ دنیا کا مال بڑا شیریں اور سرسبز و شاداب ہوتا ہے ، سو جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور منہ پر تعریف کرنے سے بچو کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کر دینا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16904
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ فِيهِ : " وَإِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث یعقوب سے بھی مروی ہے (اور اس میں «مدح» کے بجائے «تمادح» کا لفظ ہے مطلب دونوں کا ایک ہی ہے یعنی) منہ پر تعریف کرنے سے بچو کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کر دینا ہے ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 16905
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس شخص کے حق میں ”عمریٰ“ جائز ہوتا ہے جس کے لیے وہ کیا گیا ہو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 16906
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ وَقَدْ غَمَّضَ عَيْنَيْهِ ، فَتَذَاكَرْنَا الْهِجْرَةَ ، وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ : قَد انْقَطَعَتْ ، وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ : لَمْ تَنْقَطِعْ ، فَاسْتَنْبَهَ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُمْ فِيهِ ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ ، وَكَانَ قَلِيلَ الرَّدِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تَذَاكَرْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا "
مولانا ظفر اقبال
ابوہند بجلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، جو اپنے تخت پر آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے ، ہم نے ہجرت کا تذکرہ شروع کر دیا، ہم میں سے کسی کی رائے تھی کہ ہجرت منقطع ہو گئی ہے اور کسی کی رائے تھی کہ ہجرت منقطع نہیں ہوئی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہوشیار ہو گئے اور فرمایا : تم کیا باتیں کر رہے ہو ؟ ہم نے انہیں بتا دیا، وہ کسی بات کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بہت کم کرتے تھے، کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہی مذاکرہ کیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک توبہ منقطع نہ ہو جائے اور توبہ اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔ “
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الشاميين / حدیث: 16906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى هند البجلي