حدیث نمبر: 16828
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَالَ أَبِي : وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى مُعَاوِيَةَ ، فَنَادَى الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ : أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : وَأَنَا أَشْهَدُ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ : أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ يَحْيَى : فَحَدَّثَنَا رَجُلٌ ، أَنَّهُ لَمَّا قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : هَكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
مولانا ظفر اقبال
عیسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اسی اثناء میں مؤذن نے اذان دینا شروع کردی، جب اس نے «الله اكبر، الله اكبر» کہا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی «الله اكبر، الله اكبر» کہا، جب اس نے «اشهد ان لا اله الا الله» کہا تو انہوں نے کہا «وانا اشهد» جب اس نے «اشهد ان محمد رسول الله» کہا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی «وانا اشهد» کہا، جب اس نے «حي على الصلاة» کہا تو انہوں نے کہا «لا حول ولاقوة الا بالله» اور فرمایا کہ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح اذان کا جواب دیتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 16829
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ ، فَخَطَبَنَا ، وَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ ، أَوْ الزِّيرَ ، شَكَّ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا، جس میں بالوں کا ایک گچھا نکال کر دکھایا اور فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح تو صرف یہودی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھوٹ کا نام دیا تھا۔
حدیث نمبر: 16830
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ ، قَالَ : دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَابْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ ، وَلَمْ يَقُمْ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : وَكَانَ الشَّيْخُ أَوْزَنَهُمَا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ عِبَادُ اللَّهِ قِيَامًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ "
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ابن عامر کے یہاں گئے، ابن عامر تو ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے لیکن ابن زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے نہیں ہوئے اور شیخ ان دونوں پر بھاری تھے، وہ کہنے لگے کہ رک جاؤ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ کے بندے اس کے سامنے کھڑے رہیں اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہیے۔
حدیث نمبر: 16831
قَالَ عَبْد اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ : وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَهُوَ البُرْسَانِي ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، أَنَّ عِيسَى بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، قَالَ : إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : كَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ ، حَتَّى إِذَا قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، فَلَمَّا قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ
مولانا ظفر اقبال
علقمہ بن وقاص رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ مؤذن اذان دینے لگا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی وہی کلمات دہرانے لگے، جب اس نے حی علی الصلاۃ کہا تو انہوں نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہا، حی علی الفلاح کے جواب میں بھی یہی کہا، اس کے بعد مؤذن کے کلمات دہراتے رہے، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 16832
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ لَهُ : أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ ؟ فَقَالَ : مَا كُنْتِ لِتَفْعَلِيِ وَأَنَا فِي بَيْتِ أَمَانٍ ، وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ يَعْنِي : " الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكِ " ، كَيْفَ أَنَا فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ ، وَفِي حَوَائِجِكِ ؟ قَالَتْ : صَالِحٌ ، قَالَ : فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کیا تمہیں اس بات کا خطرہ نہ ہوا کہ میں ایک آدمی کو بٹھا دوں گی اور وہ تمہیں قتل کر دے گا ؟ وہ کہنے لگے کہ آپ ایسا نہیں کر سکتیں، کیونکہ میں امن و امان والے گھر میں ہوں اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان بہادری کو بیڑی ڈال دیتا ہے، آپ یہ بتائیے کہ میرا آپ کے ساتھ اور آپ کی ضروریات کے حوالے سے رویہ کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا صحیح ہے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا تو پھر ہمیں اور انہیں چھوڑ دیجئے تاآنکہ ہم اپنے پروردگار سے جا ملیں۔
حدیث نمبر: 16833
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ فِي مَلَإٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ : أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ : أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ : أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ : أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ جَمْعٍ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ " ؟ قَالُوا : أَمَّا هَذَا ، فَلَا ، قَالَ : أَمَا إِنَّهَا مَعَهُنَّ
مولانا ظفر اقبال
ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں ایک مرتبہ بیٹھا ہوا تھا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ، جی ہاں ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ۔ پھر فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ معمولی سا ہو ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ۔ پھر فرمایا : میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتے کی سواری سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! فرمایا : میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ۔ پھر فرمایا : میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! فرمایا : میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں ۔ پھر فرمایا : میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا یہ بات ہم نہیں جانتے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ بات بھی ثابت شدہ ہے اور پہلی باتوں کے ساتھ ہے ۔
حدیث نمبر: 16834
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا فَقَّهَهُ فِي الدِّينِ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 16835
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : مَا أَجْلَسَكُمْ ؟ قَالُوا : جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ ؟ قَالُوا : آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ ، قَالَ : أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " مَا أَجْلَسَكُمْ ؟ " قَالُوا : جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ ، قَالَ : " آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ ؟ " قَالُوا : آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ ، قَالَ : " أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ ، وَإِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسجد میں ایک حلقہ ذکر کے پاس آئے ، اور ان سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا، ہم لوگ بیٹھتے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں قسم دے کر پوچھا: کیا واقعی آپ لوگوں کو یہاں اسی چیز نے بٹھا رکھا ہے ؟ انہوں نے قسم کھا کر جواب دیا کہ ہم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے آپ لوگوں کو قسم کھانے پر اس لئے مجبور نہیں کیا کہ میں آپ کو جھوٹا سمجھتا ہوں، مجھ سے زیادہ کم احادیث نبویہ بیان کرنے والا کوئی نہ ہو گا ، بات دراصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے صحابہ کے ایک حلقے میں تشریف لے گئے اور انہوں نے بھی اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہی سوال و جواب کیے تھے اور ان سے قسم لی تھی اور بعد میں فرمایا تھا کہ میں نے تمہیں قسم کھانے پر اس لئے مجبور نہیں کیا کہ میں تمہیں جھوٹا سمجھتا ہوں، بلکہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ اس وقت اللہ اپنے فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرما رہا ہے ۔
حدیث نمبر: 16836
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا قَيْسٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ ، أَخَذَ مِنْ أَطْرَافِ يَعْنِي شَعَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ بِمِشْقَصٍ مَعِي وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَالنَّاسُ يُنْكِرُونَ ذَلِكَ
مولانا ظفر اقبال
عطا کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے ، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے (اس سے نکلنے کے لیے بال کٹوانا ضروری ہوتا ہے ) یہ ایام عشر کی بات ہے ، لیکن کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 16837
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : كَانَ مُعَاوِيَةُ قَلَّمَا يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، وَيَقُولُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ قَلَّمَا يَدَعُهُنَّ ، أَوْ يُحَدِّثُ بِهِنَّ فِي الْجُمَعِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ ، فَمَنْ يَأْخُذْهُ بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ ، فَإِنَّهُ الذَّبْحُ "
مولانا ظفر اقبال
معبد جہنی کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت کم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرتے تھے ، البتہ یہ کلمات اکثر جگہوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں ، اور یہ دنیا کا مال بڑا شیریں اور سرسبز و شاداب ہوتا ہے ، سو جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے ، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے ، اور منہ پر تعریف کرنے سے بچو ، کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کر دینا ہے ۔
حدیث نمبر: 16838
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُبَادِرُونِي بِرُكُوعٍ وَلَا بِسُجُودٍ ، فَإِنَّهُ مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي إِذَا رَفَعْتُ ، وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا سَجَدْتُ تُدْرِكُونِي إِذَا رَفَعْتُ ، إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مجھ سے پہلے رکوع سجدہ نہ کیا کرو ، کیونکہ جب میں تم سے پہلے رکوع کروں گا تو میرے سر اٹھانے سے پہلے تم بھی مجھے رکوع میں پالو گے اور جب تم سے پہلے سجدہ کروں گا تو میرے سر اٹھانے سے پہلے تم بھی مجھے سجدہ میں پا لو گے ، یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اب میرا جسم بھاری ہو گیا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 16839
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : قَالَ مُعَاوِيَةُ عَلَى الْمِنْبَرِ " اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ، مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُّ فِي الدِّينِ " سَمِعْتُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ماویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ منبر پر یہ کلمات کہے : «اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ» اے ﷲ ! جسے آپ دیں ، اس سے کوئی روک نہیں سکتا ، اور جس سے آپ روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور ذی عزت کو آپ کے سامنے اس کی عزت نفع نہیں پہنچا سکتی ، اﷲ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتا ہے ، اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتا ہے ، میں نے یہ کلمات اسی منبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہیں ۔
حدیث نمبر: 16840
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُعْتَمِرِ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلَا النِّمَارَ " ، قَالَ ابْنُ سِيرِينَ : وَكَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يُتَّهَمُ فِي الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : يُقَالُ لَهُ : الْحِيْرِيُّ ، يَعْنِي أَبَا الْمُعْتَمِرِ ، وَيَزِيدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ هَذَا
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”ریشم یا چیتے کی کھال کسی جانور پر بچھا کر سواری نہ کیا کرو ۔ “
حدیث نمبر: 16841
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَتَشَهَّدُ مَعَ الْمُؤَذِّنِينَ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کے ساتھ تشہد پڑھتے تھے ۔
حدیث نمبر: 16842
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ بَهْزٌ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا يُفَقّهِْهُّ فِي الدِّينِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ھے تو اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔ “
حدیث نمبر: 16843
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلَكِ بْنُ عَمْرٍو ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ مُعَاوِيَةُ ذَاتَ يَوْمٍ : إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سُوءٍ ، " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزُّورِ " ، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : الزُّورُ ، قَالَ : وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ ، فَقَالَ : أَلَا وَهَذَا الزُّورُ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ : قَالَ قَتَادَةُ : هُوَ مَا يُكَثِّرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے برا طریقہ ایجاد کیا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «زور» سے منع فرمایا ھے ۔ اسی دوران ایک آدمی آیا جس کے ہاتھ میں لاٹھی تھی اور سر پر عورتوں جیسا کپڑا تھا ، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : یہ ہے «زور» ۔
حدیث نمبر: 16844
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ مَيْمُونٍ الْقَنَّادِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ رُكُوبِ النِّمَارِ ، وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتیے کی سواری سے اور سونے پہننے سے منع فرمایا ، الّا یہ کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو (معمولی مقدار ہو) ۔
حدیث نمبر: 16845
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ بَيْتًا فِيهِ ابْنُ عَامِرٍ ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ ، فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ ، وَجَلَسَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : اجْلِسْ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ الْعِبَادُ قِيَامًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ "
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ابن عامر کے یہاں گئے، ابن عامر تو ان کے احترام میں کھڑے ہو گئے ، لیکن ابن زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے نہیں ہوئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ بیٹھ جاؤ ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ”جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ کے بندے اس کے سامنے کھڑے رہیں اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہیے ۔ “
حدیث نمبر: 16846
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : كَانَ مُعَاوِيَةُ قَلَّمَا يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَانَ قَلَّمَا يَكَادُ أَنْ يَدَعَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ أَنْ يُحَدِّثَ بِهِنَّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ ، فَمَنْ يَأْخُذْهُ بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ "
مولانا ظفر اقبال
معبد جہنی کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت کم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے ، البتہ یہ کلمات اکثر جگہوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں اور یہ دنیا کا مال بڑا شیریں اور سرسبز و شاداب ہوتا ہے، سو جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے ، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور منہ پر تعریف کرنے سے بچو کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کر دینا ہے ۔
حدیث نمبر: 16847
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ مَعْبَدٍ الْقَاصِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ ، فَاجْلِدُوهُ ، فَإِنْ عَادَ ، فَاجْلِدُوهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ ، فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ ، فَاقْتُلُوهُ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جو شخص شراب پیے تو اسے کوڑے مارے جائیں ، اگر دوبارہ پیے تو دوبارہ کوڑے مارو ، حتیٰ کہ اگر چوتھی مرتبہ پیے تو اسے قتل کر دو ۔“
حدیث نمبر: 16848
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُصُّ لِسَانَهُ أَوْ قَالَ شَفَتَهُ ، يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ لِسَانٌ ، أَوْ شَفَتَانِ مَصَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امام حسن رضی اللہ عنہ کی زبان یا ہونٹ چوستے ہوئے دیکھا ہے اور اس زبان یا ہونٹ کو عذاب نہیں دیا جائے گا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چوسا ہو ۔
حدیث نمبر: 16849
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ذَكَرَ حَدِيثًا رَوَاهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا غَيْرَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُّ فِي الدِّينِ ، وَلَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "
مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بہت کم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے ، البتہ یہ حدیث میں نے ان سے سنی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں اور مسلمانوں کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا ، یہ لوگ قیامت تک اپنی مخالفت کرنے والوں پر غالب رہیں گے ۔
حدیث نمبر: 16850
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : ذَكَرَ عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ : " اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ، مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ يُفَقِّهْهُّ فِي الدِّينِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : «اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» کہ اے ﷲ ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے آپ روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور ذی عزت کو آپ کے سامنے اس کی عزت نفع نہیں پہنچا سکتی ، اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے ۔
حدیث نمبر: 16851
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ : خَطَبَ مُعَاوِيَةُ عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ مِنْبَرِ الْمَدِينَةِ ، فَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ ، قَالَ : مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُودِ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الزُّورَ
مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا جس میں بالوں کا ایک گچھا نکال کر دکھایا اور فرمایا : میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح تو صرف یہودی کرتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ”جھوٹ“ کا نام دیا تھا ۔
حدیث نمبر: 16852
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ ، فَقَامَ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُولَئِكَ جُهَّالُكُمْ ، فَإِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ ، لَا يُنَازِعُهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَكَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ ، مَا أَقَامُوا الدِّينَ "
مولانا ظفر اقبال
محمد بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو جبکہ محمد قریش کے ایک وفد میں ان کے پاس ہی تھے ۔ یہ اطلاع ملی کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ عنقریب قحطان میں ایک بادشاہ ہو گا تو وہ غضب ناک ہو کر کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثناء جو اس کے شان شایاں ہے ، بیان کی اور «اما بعد» کہہ کر فرمایا : مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسی احادیث بیان کر رہے ہیں جو کتاب اللہ میں ہیں اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں ، یہ لوگ نادان ہیں ، تم ایسی امیدوں اور خواہشات سے اپنے آپ کو بچاؤ جو انسان کو گمراہ کر دیتی ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، یہ حکومت قریش میں ہی رہے گی ، اس معاملے میں ان سے جو بھی جھگڑا کرے گا ، اللہ اسے اوندھے منہ گرا دے گا ، جب تک قریش کے لوگ دین پر قائم رہیں گے ۔
حدیث نمبر: 16853
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا بَلَاءٌ وَفِتْنَةٌ ، وَإِنَّمَا مَثَلُ عَمَلِ أَحَدِكُمْ كَمَثَلِ الْوِعَاءِ ، إِذَا طَابَ أَعْلَاهُ ، طَابَ أَسْفَلُهُ ، وَإِذَا خَبُثَ أَعْلَاهُ خَبُثَ أَسْفَلُهُ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن منبر پر ارشاد فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، دنیا میں صرف امتحانات اور آزمائشیں ہی رہ گئی ہیں اور تمہارے اعمال کی مثال برتن کی سی ہے کہ اگر اس کا اوپر والا حصہ عمدہ ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کا نچلا حصہ بھی عمدہ ہے اور اگر اوپر والا حصہ خراب ہو تو اس کا نچلا حصہ بھی خراب ہو گا ۔
حدیث نمبر: 16854
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ لَهُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّهُ مَسَحَ رَأْسَهُ بِغَرْفَةٍ مِنْ مَاءٍ حَتَّى يَقْطُرَ الْمَاءُ مِنْ رَأْسِهِ أَوْ كَادَ يَقْطُرُ ، وَأَنَّهُ أَرَاهُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ ، وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ ، ثُمَّ مَرَّ بِهِمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَا ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْمَكَانَ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کر کے دکھایا، سر کا مسح کرتے ہوئے انہوں نے پانی کا ایک چلو لے کر مسح کیا یہاں تک کہ ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکنے لگے، انہوں نے اپنی ہتھیلیاں سر کے اگلے حصے پر رکھیں اور مسح کرتے ہوئے ان کو گدی تک کھینچ لائے، پھر واپس اس جگہ پر لے گئے جہاں سے مسح کا آغاز کیا تھا ۔
حدیث نمبر: 16855
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَالِكٍ ، وَأَبَا الْأَزْهَرِ ، يُحَدِّثَانِ عَنْ وُضُوءِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : يُرِيهِمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ بِغَيْرِ عَدَدٍ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کر کے دکھایا اور عضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا ، اور پاؤں کو تعداد کا لحاظ کیے بغیر دھو لیا ۔
حدیث نمبر: 16856
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَسَعْدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنْكَحَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ ابْنَتَهُ ، وَأَنْكَحَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنَتَهُ ، وَقَدْ كَانَا جَعَلَا صَدَاقًا ، فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ خَلِيفَةٌ إِلَى مَرْوَانَ يَأْمُرُهُ بِالتَّفْرِيقِ بَيْنَهُمَا ، وَقَالَ فِي كِتَابِهِ : هَذَا الشِّغَارُ الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مولانا ظفر اقبال
اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عباس بن عبداللہ نے اپنی بیٹی کا نکاح عبدالرحمن بن حکم سے اور عبدالرحمن نے اپنی بیٹی کا نکاح عباس سے کر دیا اور اس تبادلے ہی کو مہر قرار دے دیا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے معلوم ہونے پر مروان کی طرف ”خلیفہ ہونے کی وجہ سے“ خط لکھا اور حکم دیا کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دے اور فرمایا کہ یہ وہی نکاح شغار ہے، جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا ۔
حدیث نمبر: 16857
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ابْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ حَاجًّا قَدِمْنَا مَعَهُ مَكَّةَ ، قَالَ : فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى دَارِ النَّدْوَةِ ، قَالَ : وَكَانَ عُثْمَانُ حِينَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ ، وَالْعَصْرَ ، وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا أَرْبَعًا ، فَإِذَا خَرَجَ إِلَى مِنًى ، وَعَرَفَاتٍ قَصَرَ الصَّلَاةَ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْحَجِّ ، وَأَقَامَ بِمِنًى أَتَمَّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ مَكَّةَ ، فَلَمَّا صَلَّى بِنَا مُعَاويةُ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ نَهَضَ إِلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، فَقَالَا لَهُ : مَا عَابَ أَحَدٌ ابْنَ عَمِّكَ بِأَقْبَحِ مَا عِبْتَهُ بِهِ ، فَقَالَ لَهُمَا : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : فَقَالَا لَهُ : أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمَكَّةَ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُمَا : وَيْحَكُمَا ، وَهَلْ كَانَ غَيْرُ مَا صَنَعْتُ ؟ ! قَدْ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَا : فَإِنَّ ابْنَ عَمِّكَ قَدْ كَانَ أَتَمَّهَا ، وَإِنَّ خِلَافَكَ إِيَّاهُ لَهُ عَيْبٌ ، قَالَ : فَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْعَصْرِ فَصَلَّاهَا بِنَا أَرْبَعًا
مولانا ظفر اقبال
عباد کہتے ہیں جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں حج کے لیے آئے تو ہم بھی ان کے ساتھ مکہ مکرمہ آ گئے ، انہوں نے ہمیں ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور دارالندوہ میں چلے گئے ، جبکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جس وقت سے نماز میں اتمام شروع کیا تھا ، وہ جب بھی مکہ مکرمہ آتے تو ظہر ، عصر اور عشاء کی چار چار رکعتیں ہی پڑھتے تھے ، منیٰ اور عرفات میں قصر پڑھتے اور جب حج سے فارغ ہو کر منٰی میں ٹھہر جاتے تو مکہ سے روانگی تک پوری نماز پڑھتے تھے ۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے (اس کے برعکس) ہمیں ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ آپ نے اپنے ابن عم پر جیسا عیب لگایا ، کسی نے اس سے بدترین عیب نہیں لگایا ، انہوں نے پوچھا: وہ کیسے ؟ تو دونوں نے کہا: کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں مکمل نماز پڑھتے تھے ؟ سیدنا ماویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : افسوس ! میں سمجھا کہ پتہ نہیں میں نے ایسا کون سا کام کر دیا ہے ؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین کے ساتھ دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں ، ان دونوں نے کہا کہ آپ کے ابن عم نے تو مکمل چار رکعتیں پڑھیں ہیں ، آپ کا ان کی خلاف ورزی کرنا معیوب بات ہے چنانچہ جب وہ عصر کی نماز پڑھانے کے لیے آئے تو چار رکعتیں ہی پڑھائیں ۔
حدیث نمبر: 16858
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ، قَالَ : قَدِمَ مُعَاوِيَةُ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ ، فَطَافَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَاسْتَلَمَ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : إِنَّمَا اسْتَلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ ، قَالَ حَجَّاجٌ : قَالَ شُعْبَةُ : النَّاسُ يَخْتَلِفُونَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، يَقُولُونَ : مُعَاوِيَةُ هُوَ الَّذِي قَالَ : لَيْسَ مِنَ الْبَيْتِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ ، وَلَكِنَّهُ حَفِظَهُ مِنْ قَتَادَةَ هَكَذَا
مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما حرم مکی میں آئے ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے طواف کیا تو خانہ کعبہ کے سارے کونوں کا استلام کیا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف دو کونوں کا استلام کیا ہے ؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ خانہ کعبہ کا کوئی کونا بھی متروک نہیں ہے ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ یہ حدیث مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ آخری جملہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ہے ۔
حدیث نمبر: 16859
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ بَهْدَلَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا شَرِبُوا الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُمْ ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوهَا الرَّابِعَةَ ، فَاقْتُلُوهُمْ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جو شخص شراب پیے تو اسے کوڑے مارے جائیں ، اگر دبارہ پیے تو دبارہ کوڑے مارو ، حتی کہ اگر چوتھی مرتبہ پیے تو اسے قتل کر دو ۔ “
حدیث نمبر: 16860
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ . وَأَبُو بَدْرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ يَعْلَى فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى هَذِهِ الْأَعْوَادِ : " اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُّ فِي الدِّينِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے کہ اے اللّٰہ ! جسے آپ دیں ، اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے آپ روک لیں ، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور ذی عزت کو آپ کے سامنے اس کی عزت نفع نہیں پہنچا سکتی ، اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتا ہے ، اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتا ہے ۔
حدیث نمبر: 16861
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
مولانا ظفر اقبال
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن موذنین سب سے لمبی گردن والے ہوں گے ۔
حدیث نمبر: 16862
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : كُنْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمُؤَذِّنِ ، وَكَبَّرَ الْمُؤَذِّنُ اثْنَتَيْنِ ، فَكَبَّرَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، اثْنَتَيْنِ ، فَشَهِدَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ ، وَشَهِدَ الْمُؤَذِّنُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، اثْنَتَيْنِ ، وَشَهِدَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : هَكَذَا حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم
مولانا ظفر اقبال
مجمع بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابوامامہ بن سہل کے پہلو میں تھا ، جو مؤذن کے سامنے تھے، مؤذن نے دو مرتبہ «اللہ اكࣿبر» کہا: تو ابوامامہ نے بھی دو مرتبہ «الله اكࣿبر» کہا: مؤذن نے دو مرتبہ «ا شهد انࣿ لا اله الا اللہ» کہا: تو اُنہوں نے بھی دو مرتبہ کہا ، مؤذن نے دو مرتبہ «اشهد ان محمدا رسول اللہ» کہا: تو انہوں نے بھی کہا ، پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے میرے سامنے اسی طرح بیان فرمایا ہے ۔
حدیث نمبر: 16863
حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ الْجَزَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أخْبَرَهُ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَصَّرَ مِنْ شَعَرِهِ بِمِشْقَصٍ " ، فَقُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا بَلَغَنَا هَذَا إِلَّا عَنْ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ : مَا كَانَ مُعَاوِيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّهَمًا
مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے ۔
حدیث نمبر: 16864
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ جُلُودِ النُّمُورِ أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ : قَالَ : وَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ لِبَاسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ : قَالَ : وَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ : قَالَ : وَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ " ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ لَا
مولانا ظفر اقبال
ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں کہ (میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں ایک مرتبہ بیٹھا ہوا تھا) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتے کی کھال پر سواری سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! پھر پوچھا کہ کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ معمولی سا ہو ؟ انہوں نے جواب دیا ، جی ہاں ! پھر پوچھا: کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! پھر پوچھا: کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا یہ بات ہم نہیں جانتے ۔
حدیث نمبر: 16865
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ رَأَى مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنْ شَعَرٍ ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَه ، وَقَالَ : " إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَتْ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ "
مولانا ظفر اقبال
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہاتھوں میں بالوں کا ایک گچھا لے کر منبر پر یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ اے اہل مدینہ ! تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کی چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، اور فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل پر عذاب اسی وقت آیا تھا جب ان کی عورتوں نے اسی کو اپنا مشغلہ بنا لیا تھا ۔
حدیث نمبر: 16866
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي ، فَصَلَّيْتُ ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ ، فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ ، لَا تُوصَلُ صَلاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ
مولانا ظفر اقبال
عمر بن عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے نافع بن جبیر نے سائب بن یزید کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا، جی ہاں ! ایک مرتبہ میں نے ان کے ساتھ ”مقصورہ“ میں جمعہ پڑھا تھا ، جب انہوں نے نماز کا سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ پر ہی کھڑے ہو کر سنتیں پڑھنے لگا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جب اندر چلے گئے تو مجھے بلا کر فرمایا : آج کے بعد دوبارہ اس طرح نہ کرنا جیسے ابھی کیا ، جب تم جمعہ کی نماز پڑھو تو اس سے متصل ہی دوسری نماز نہ پڑھو جب تک کوئی بات نہ کر لو یا وہاں سے ہٹ نہ جاؤ ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ کسی نماز کے متصل بعد ہی دوسری نماز نہ پڑھی جائے جب تک کہ کوئی بات نہ کر لو یا وہاں سے ہٹ نہ جاؤ ۔
حدیث نمبر: 16867
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ ، يَقُولُ : يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ، أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ ، وَلَمْ يُفْرَضْ عَلَيْنَا صِيَامُهُ ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ ، فَإِنِّي صَائِمٌ " ، فَصَامَ النَّاسُ .
مولانا ظفر اقبال
حمید کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اہل مدینہ تمہارے علماء کہاں چلے گئے ؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے یہ عاشورا کا دن ہے , اس کا روزہ رکھنا ہم پر فرض نہیں ہے ، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھ لے اور میں تو روزے سے ہوں، اس پر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا ۔
…