حدیث نمبر: 9913
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْجُلَاسِ ، قََالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ شَمَّاسٍ ، قََالَ : كَانَ مَرْوَانُ يَمُرُّ عَلَى الْمَدِينَةِ ، قََالَ : فَيَمُرُّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُ ، فَقَالَ : بَعْضَ حَدِيثِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : ثُمَّ مَضَى ، قََالَ : ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ ؟ قَالَ : قَالَ : " خَلَقْتَهَا أَوْ قَالَ : أَنْتَ خَلَقْتَهَا ، شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ , وَهَدَيْتَهَا إِلَى الْإِسْلاِِم ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا ، تَعْلَمُ سِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا , جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال

عثمان بن شماس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان کا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا تو وہ کہنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنی کچھ حدیثیں سنبھال کر رکھو تھوڑی دیر بعد وہ واپس آگیا ہم لوگوں نے اپنے دل میں سوچا کہ اب یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرے گا (کیونکہ ان کے درمیان کچھ ناراضگی تھی) مروان کہنے لگا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسے رزق دیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف، فيه ثلاث علل: اضطراب إسناده، وجهالة بعض رواته، ورواية بعضهم له موقوفاً