حدیث نمبر: 98
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : حَذَفَ رَجُلٌ ابْنًا لَهُ بِسَيْفٍ ، فَقَتَلَهُ ، فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يُقَادُ الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهِ " ، لَقَتَلْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَبْرَحَ .
مولانا ظفر اقبال

مجاہد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے تلوار کے وار کر کے اپنے بیٹے کو مار ڈالا ، اسے پکڑ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ والد سے اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا تو میں تجھے بھی قتل کر دیتا اور تو یہاں سے اٹھنے بھی نہ پاتا ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 98
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا الإسناد فيه انقطاع، مجاهد لم يدرك عمر بن الخطاب