حدیث نمبر: 9757
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ ثُوَيْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَشْتَكِي ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ : يَعُودُنِي ، فَقَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : " أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ رَقَانِي بِهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى ، بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ ، وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ " . وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : " مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے اور فرمایا کیا میں تمہیں جھاڑ پھونک کے ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن سے جبرائیل علیہ السلام نے مجھے دم کیا تھا ؟ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیوں نہیں فرمایا وہ کلمات یہ ہیں اللہ کے نام سے میں تمہیں جھاڑتا ہوں اللہ تمہیں ہر اس بیماری سے جو تمہیں تکلیف پہنچائے گرہوں میں پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے پر آجائے شفاء عطاء فرمائے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم ولجهالة زیاد