حدیث نمبر: 9682
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة , قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا أَنْ لَا نُبَادِرَ الْإِمَامَ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، وَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا قَالَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 , فَقُولُوا : آمِينَ ، فَإِذَا وَافَقَ كَلَامَ الْمَلَائِكَةِ ، غُفِرَ لِمَنْ فِي الْمَسْجِدِ ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " .
مولانا ظفر اقبال

گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات کی تعلیم دیتے تھے کہ ہم رکوع و سجود میں امام سے آگے نہ بڑھیں اور یہ کہ جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو، جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب وہ غیر المغضوب علیہم و لا الضالین کہے تو تم آمین کہو کیونکہ جس شخص کی آمین ملائکہ کے موافق ہوجائے تو اس کی برکت سے مسجد میں موجود تمام لوگوں کی بخشش ہوجاتی ہے اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 782، م: 415