حدیث نمبر: 967
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، وَلَأَخَّرْتُ عِشَاءَ الْآخِرَةِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ، فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ هَبَطَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ، فَيَقُولَ قَائِلٌ : أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى ، أَلَا دَاعٍ يُجَابُ ، أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى ، أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا، اور عشاء کی نماز تہائی رات تک مؤخر کرتا کیونکہ رات کی جب پہلی تہائی گذر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ (اپنی شان کے مطابق) آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور طلوع فجر تک وہیں رہتے ہیں، اور ایک منادی نداء لگاتا رہتا ہے کہ ہے کوئی مانگنے والا، کہ اسے دیا جائے؟ ہے کوئی دعا کرنے والا، کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ ہے کوئی بیمار جو شفاء حاصل کرنا چاہتا ہو، کہ اسے شفاء مل جائے؟ ہے کوئی گناہگار جو اپنے گناہوں کی معافی مانگے، کہ اسے بخش دیا جائے؟“

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عطاء المدني مولى أم صبية