حدیث نمبر: 9625
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ : مَرَّ أَبِي عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ ، قَالَ : غُنَيْمَةً لِي . قَالَ : نَعَمْ ، " امْسَحْ رُعَامَهَا ، وَأَطِبْ مُرَاحَهَا ، وَصَلِّ فِي جَانِبِ مُرَاحِهَا ، فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ ، وَأْنَسْ بِهَا " ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهَا أَرْضٌ قَلِيلَةُ الْمَطَرِ " ، قَالَ : يَعْنِي الْمَدِينَةَ .
مولانا ظفر اقبال

وہب بن کیسان رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے انہوں نے پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ والد صاحب نے جواب دیا کہ اپنی بکریوں کے باڑے میں جا رہا ہوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا ان کی ناک صاف کرنا چرنے کی جگہ کو صاف رکھنا اور چراگاہ میں ان کے ساتھ نرمی برتنا کیونکہ یہ جنت کے جانور ہیں اور ان کے ساتھ انس رکھا کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سر زمین مدینہ کے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ علاقہ کم بارشوں والا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات غير ابن عجلان، وهو قوي، لكن لم يصرح فيه وهب بسماعه من أبي هريرة