حدیث نمبر: 9573
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ : وَسَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قُلْتُ لِيَحْيَى : كِلَاهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ ، إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا ، لَا يَفُكُّهُ إِلَّا الْعَدْلُ ، أَوْ يُوبِقُهُ الْجَوْرُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی صرف دس افراد پر ہی ذمہ دار (حکمران) رہا ہو وہ بھی قیامت کے دن زنجیروں میں جکڑا ہوا پیش ہوگا، پھر یا تو اس کا عدل چھڑا لے گا یا اس کا ظلم و جور ہلاک کروا دے گا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ قوي