حدیث نمبر: 9494
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ ، أَنَّهُ خَافَ زَمَنَ زِيَادٍ أَوْ ابْنِ زِيَادٍ فَأَتَى الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فقال : فَانْتَسَبَنِي , فَانْتَسَبْتُ لَهُ ، فَقَالَ : يَا فَتَى , أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ ؟ ، قُلْتُ : بَلَى ، رَحِمَكَ اللَّهُ . قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، مِنَ الصَّلَاةِ ، قَالَ : يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ : انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا ؟ ، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً ، وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا ، قَالَ : انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ ؟ ، فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ ، قَالَ : أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ . ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكُمْ " . قَالَ يُونُسُ : وَأَحْسَبُهُ قَدْ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال

انس بن حکیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زیاد یا ابن زیاد کے زمانے میں انہیں خطرہ لاحق ہوا تو مدینہ منورہ آگئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی انہوں نے مجھ سے نام و نسب پوچھا میں نے انہیں بتایا، وہ کہنے لگے کہ اے نوجوان کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جس سے اللہ تمہیں نفع پہنچائے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہوگی پروردگار اپنے فرشتوں سے فرمائے گا " حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے " کہ میرے بندے کی نماز دیکھو، مکمل ہے ناقص ! اگر مکمل ہوئی تو مکمل لکھ دی جائے گی اور نامکمل ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے پاس نوافل بھی ہیں ؟ اگر اس کے پاس نوافل ہوئے تو اللہ فرمائے گا کہ میرے بندے کے فرائض کو اس کے نوافل سے مکمل کردو، اس کے بعد دیگر فرض اعمال میں بھی اسی طرح کیا جائے گا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة أنس الضبي