حدیث نمبر: 9373
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْجُرَيْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، يَقُولُ : تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا ، قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا ، فَأَصَابَنِي سَبْعُ تَمَرَاتٍ ، إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ ، فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهَا ، شَدَّتْ مَضَاغِي " .
مولانا ظفر اقبال

ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سات دن تک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں مہمان رہا میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ کھجوریں تقسیم فرمائیں مجھے سات کھجوریں ملیں جن میں سے ایک کھجور گدر بھی تھی میرے نزدیک وہ ان سب میں سے زیادہ عمدہ تھی کہ اسے سختی سے مجھے چبانا پڑ رہا تھا ( اور میرے مسوڑھے اور دانت حرکت کر رہے تھے)

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5411