حدیث نمبر: 93
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ لَبِيبَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ : أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى سَفَطٍ أُتِيَ بِهِ مِنْ قَلْعَةٍ مِنَ الْعِرَاقِ ، فَكَانَ فِيهِ خَاتَمٌ ، فَأَخَذَهُ بَعْضُ بَنِيهِ ، فَأَدْخَلَهُ فِي فِيهِ ، فَانْتَزَعَهُ عُمَرُ مِنْهُ ، ثُمَّ بَكَى عُمَرُ ، فَقَالَ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ : لِمَ تَبْكِي وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ لَكَ ، وَأَظْهَرَكَ عَلَى عَدُوِّكَ ، وَأَقَرَّ عَيْنَكَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُفْتَحُ الدُّنْيَا عَلَى أَحَدٍ إِلَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَهُمْ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " ، وَأَنَا أُشْفِقُ مِنْ ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال

ایک مرتبہ ابوسنان دؤلی رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس وقت مہاجرین اولین کی ایک جماعت ان کی خدمت میں موجود اور حاضر تھی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بکس منگوایا جو ان کے پاس عراق سے لایا گیا تھا ، جب اسے کھولا گیا تو اس میں سے ایک انگوٹھی نکلی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کسی بیٹے پوتے نے وہ لے کر اپنے منہ میں ڈال لی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے وہ واپس لے لی اور رونے لگے ۔ حاضرین نے پوچھا کہ آپ کیوں روتے ہیں ؟ جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی فتوحات عطاء فرمائیں ، دشمن پر آپ کو غلبہ عطاء فرمایا اور آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا ؟ فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ”جس شخص پر اللہ دنیا کا دروازہ کھول دیتا ہے ، وہاں آپس میں قیامت تک کے لئے دشمنیاں اور نفرتیں ڈال دیتا ہے“ ، مجھے اسی کا خطرہ ہے ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 93
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، و محمد بن عبدالرحمن بن لبيبة