حدیث نمبر: 9276
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلَتْنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِسِيَاطِنَا وَعِصِيِّنَا نَقْتُلُهُنَّ ، فَسُقِطَ فِي أَيْدِينَا ، فَقُلْنَا : مَا صَنَعْنَا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ؟ ! ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " لَا بَأْسَ , صَيْدُ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کر کے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں ؟ پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9276
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، أبو المهزم متروك الحديث