حدیث نمبر: 9260
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَثَلُ الَّذِي يَسْمَعُ الْحِكْمَةَ وَيَتَّبِعُ شَرَّ مَا يَسْمَعُ , كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيًا , فَقَالَ لَهُ : أَجْزِرْنِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ . فَقَالَ : اذْهَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَيْرِهَا شَاةً . فَذَهَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی مثال " جو کسی مجلس میں شریک ہو اور وہاں حکمت کی باتیں سنے لیکن اپنے ساتھی کو اس میں سے چن چن کر غلط باتیں ہی سنائے اس کی مثال شخص کی سی ہے جو کسی چرواہے کے پاس آئے اور اس سے کہے کہ اے چرواہے ! اپنے ریوڑ میں سے ایک بکری میرے لئے ذبح کردے وہ اسے جواب دے کہ جا کر ان میں سے جو بہتر ہو اس کا کان پکڑ کرلے آؤ اور وہ جا کر ریوڑ کے کتے کان پکڑ کرلے آئے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف علي، ولجهالة أوس