حدیث نمبر: 9249
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قال : " كَانَ يَمُرُّ بِآلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ ، ثُمَّ هِلَالٌ ، لَا يُوقَدُ فِي شَيْءٍ مِنْ بُيُوتِهِمْ النَّارُ ، لَا لِخُبْزٍ ، وَلَا لِطَبِيخٍ ، فَقَالُوا : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانُوا يَعِيشُونَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ ، قَالَ : الأسودانِ : التَّمْرِ وَالْمَاءِ ، وَكَانَ لَهُمْ جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَجَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا ، لَهُمْ مَنَائِحُ ، يُرْسِلُونَ إِلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْ لَبَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو دو مہینے ایسے گذر جاتے تھے کہ ان کے گھروں میں آگ تک نہیں جلتی تھی نہ روٹی کے لئے اور نہ کھانا پکانے کے لئے، لوگوں نے ان سے پوچھا اے ابوہریرہ ! پھر وہ کس چیز کے سہارے زندگی گذارا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا دو کالی چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر اور کچھ انصاری اللہ انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے ان کے پڑوسی تھے ان کے پاس کچھ بکریاں تھیں جن کا وہ تھوڑا سا دودھ بھجوا دیا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر