حدیث نمبر: 9218
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " بِرَّ أُمَّكَ " ، ثُمَّ عَادَ ، فَقَالَ : " بِرَّ أُمَّكَ " ، ثُمَّ عَادَ ، فَقَالَ : " بِرَّ أُمَّكَ " ، ثُمَّ عَادَ الرَّابِعَةَ ، فَقَالَ : " بِرَّ أَبَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرو اس نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تمہاری والدہ چوتھی مرتبہ فرمایا تمہارے والد۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5971، م: 2548