حدیث نمبر: 9205
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ . وَعَتَّابٌ قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُلَانٍ الْخَثْعَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ سَفَرًا ، فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، قَالَ : وَأُرَاهُ ، يعني قَالَ : وَالْحَامِلُ عَلَى الظَّهْرِ , اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا بِنُصْحٍ ، وَاقْلِبْنَا بِذِمَّةٍ نَعُوذُ بِكَ مِنْ مِلْحِ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی سفر کے ارادے سے نکلتے اور اپنی سواری پر سوار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ تو ہی سفر میں میرا ساتھی اور اہل و عیال میں میرا جانشین ہے اور سواری کی پیٹھ پر بٹھانے والا ہے اے اللہ خیرخواہی کے ساتھ ہماری رفاقت فرما اور اپنی ذمہ داری میں واپس پہنچا ہم سفر کی مشکلات واپسی کی پریشانی سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، والراوي المبهم، هو عبدالله بن بشر، وهو صدوق، أو ولده عمير بن عبدالله، فهو ثقة