حدیث نمبر: 9187
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا إِيمَانًا بِي ، وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي ، أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ ، الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ ، مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال

گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کرچکا ہو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3123، م: 1876