حدیث نمبر: 9135
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْهَجَرِيُّ ، فِيمَا أَحْسَبُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ تُرْضِعُ ابْنًا لَهَا ، إِذْ مَرَّ بِهَا فَارِسٌ مُتَكَبِّرٌ عَلَيْهِ شَارَةٌ حَسَنَةٌ ، فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ : اللَّهُمَّ لَا تُمِتْ ابْنِي هَذَا حَتَّى أَرَاهُ مِثْلَ هَذَا الْفَارِسِ ، عَلَى مِثْلِ هَذَا الْفَرَسِ . قَالَ : فَتَرَكَ الصَّبِيُّ الثَّدْيَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَ هَذَا الْفَارِسِ . قَالَ : ثُمَّ عَادَ إِلَى الثَّدْيِ يَرْضَعُ ، ثُمَّ مَرُّوا بِجِيفَةٍ حَبَشِيَّةٍ أَوْ زِنْجِيَّةٍ تُجَرُّ ، فَقَالَتْ : أُعِيذُ ابْنِي بِاللَّهِ أَنْ يَمُوتَ مِيتَةَ هَذِهِ الْحَبَشِيَّةِ أَوْ الزِّنْجِيَّةِ ، فَتَرَكَ الثَّدْيَ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ أَمِتْنِي مِيتَةَ هَذِهِ الْحَبَشِيَّةِ أَوْ الزِّنْجِيَّةِ ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : يَا بُنَيَّ , سَأَلْتُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَكَ مِثْلَ ذَلِكَ الْفَارِسِ ، فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ، وَسَأَلْتُ رَبَّكَ أَلَّا يُمِيتَكَ مِيتَةَ هَذِهِ الْحَبَشِيَّةِ أَوْ الزِّنْجِيَّةِ ، فَسَأَلْتَ رَبَّكَ أَنْ يُمِيتَكَ مِيتَتَهَا ! . قَالَ : فَقَالَ الصَّبِيُّ : إِنَّكِ دَعَوْتِ رَبَّكِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِثْلَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّ الْحَبَشِيَّةَ أَوْ الزِّنْجِيَّةَ كَانَ أَهْلُهَا يَسُبُّونَهَا وَيَضْرِبُونَهَا وَيَظْلِمُونَهَا ، فَتَقُولُ : حَسْبِيَ اللَّهُ ، حَسْبِيَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جو اپنے لڑکے کو دودھ پلارہی تھی اتفاقا ادھر سے ایک سوار زردوزی کے کپڑے پہنے نکلا عورت نے کہا الٰہی میرے بچے کو اس کی طرح کردے بچہ نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر سوار کی طرف رخ کرکے کہا الٰہی مجھے ایسا نہ کرنا یہ کہہ کر پھر دودھ پینے لگا کچھ دیر کے بعد ادھر سے لوگ ایک باندی کو لے گزرے (جس کو راستے میں مارتے جارہے تھے) عورت نے کہا میں اپنے بچے کو اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں کہ وہ اس حبشی عورت کی طرح مرے بچہ نے فورا دودھ پیناچھوڑ کر کہا الٰہی مجھے ایسا ہی کرنا ماں نے بچہ سے کہا تو نے یہ کیوں خواہش کی ؟ بچہ نے جواب دیا وہ سوار ظالم تھا (اس لئے میں نے ویسا نہ ہونے کی دعا کی) اور اس باندی کو لوگ گالیاں دے رہے ہیں اس پر ظلم و ستم کررہے ہیں اور وہ یہی کہے جارہی ہے " مجھے اللہ کافی ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده منقطع، خلاس لم يسمع من أبي هريرة، وقد صح بسياقة أخرى، خ: 3436، م: 2550