حدیث نمبر: 9129
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ : فَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ ، وَحَدِيثُ النَّفْسِ ، وَتَخْوِيفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا تُعْجِبُهُ فَلْيَقُصَّهَا إِنْ شَاءَ ، وَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ ، وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خواب کی تین قسمیں ہیں اچھے خواب تو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں بعض خواب انسان کا تخیل ہوتے ہیں اور بعض خواب شیطان کی طرف سے انسان کو غمگین کرنے کے لئے ہوتے ہیں جب تم سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا لگے تو اسے بیان کردے بشرطیکہ مرضی ہو اور اگر ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنا شروع کردے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2263، وأخرجه البخاري بإثر الحديث: 7017