حدیث نمبر: 9036
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَس ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : قَالَ : زَعَمَ ذَاكَ ثُمَامَةُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْمِسْهُ ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً ، وَالْآخَرِ دَوَاءً " ، وَقَالَ عَفَّان مَرَّةً : " فَإِنَّ أَحَدَ جَنَاحَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے پر میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5782، له إسنادان: الأول منقطع ، فإن ثمامة لم يسمع من أبي هريرة ، والثاني صحيح