حدیث نمبر: 9009
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَاللَّفْظِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَاللَّفْظِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : مَا الْغِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ " ، قَالَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنْ كَانَ فِي أَخِيكَ مَا تَقُولُ ، فَقَدْ اغْتَبْتَهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ ، فَقَدْ بَهَتَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال

گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا یا رسول اللہ ! غیبت کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس میں نہ ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتائیے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2589